حدیقہ کیانی کا ترک گلوکاروں کے ساتھ کشمیری شہدا کو خراج عقیدت

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

گانے کو کشمیر سے متعلق کام کرنے والی تنظیم کے تعاون سے جاری کیا گیا—فوٹو: انسٹاگرام
گانے کو کشمیر سے متعلق کام کرنے والی تنظیم کے تعاون سے جاری کیا گیا—فوٹو: انسٹاگرام

معروف گلوکارہ و موسیقار حدیقہ کیانی نے ترکی کے گلوکاروں علی ٹولگا ڈیمرٹاس اور ٹورگی ایورین کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے 1931 کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گانا جاری کردیا۔

حدیقہ کیانی نے ترک گلوکاروں کے ساتھ 'کشمیر سیویتاس' نامی تنظیم کے منصوبے کے تحت 13 جولائی 1931 کو ہندو بادشاہ کی جانب سے کشمیر میں شہید کیے گئے 22 افراد اور 15 جولائی 2016 کو ترکی میں فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کے دوران جان کا نذرانہ دینے والے افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گانا جاری کیا۔

گانے کا دورانیہ 4 منٹ سے بھی کم ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم کی ویڈیوز اور تصاویر کو بھی دکھایا گیا ہے۔

گانے کی ویڈیو میں وزیراعظم عمران خان، صدر عارف علوی سمیت ترک اور آزاد کشمیر کے صدور کو بھی دکھایا گیا ہے جبکہ گانے میں آزادی کشمیر کی جدوجہد میں پیش پیش مقبوضہ کشمیر کے مقبول رہنما بھی نظر آرہے ہیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

گانے کو ترک اور کشمیری زبان میں جاری کیا گیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوگیا۔

گانے کو 'کشمیر سیویتاس' کی ویب سائٹ اور یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا سائٹس پر بھی شیئر کیا گیا۔

خیال رہے کہ 13 جولائی 1931 کو کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجا کی فوج نے عبدالقدیر نامی نوجوان کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران یکے بعد دیگرے 22 کشمیری نوجوانوں کو سری نگر سینٹرل جیل کے باہر شہید کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حدیقہ کیانی کا ترکش زبان میں 'ارطغرل غازی' کو خراج تحسین پیش

عبدالقدیر نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ راج کے خلاف متحد ہونے کو کہا تھا۔

13 جولائی 1931 کو نماز ظہر کے وقت ایک نوجوان نے اذان دینا شروع کی تھی کہ ڈوگرہ مہاراجا کے سپاہیوں نے اسے فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا لیکن اذان دینے کا سلسلہ جاری رہا اور اذان مکمل ہونے تک 22 نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

تب سے ہر سال 13 جولائی کو 1931 کے شہیدوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کشمیر سمیت پاکستان میں بھی خصوصی تقاریب اور مظاہروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔