یوم شہدائے کشمیر: عمران خان کا ہندوتوا حکومت کیخلاف 'بہادری سے لڑنے' والے کشمیریوں کو سلام

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

13 جولائی 1931 کو مہاراجا ڈوگرہ کی فوج نے 22 کشمیریوں کو شہید کردیا تھا — فائل فوٹو: عمران خان فیس بک پیچ
13 جولائی 1931 کو مہاراجا ڈوگرہ کی فوج نے 22 کشمیریوں کو شہید کردیا تھا — فائل فوٹو: عمران خان فیس بک پیچ

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور دنیا بھر کے کشمیری 13 جولائی 1931 کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آج کے دن کو یوم شہدائے کشمیر کے طور پر منارہے ہیں۔

اس موقع پر آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں کشمیر کے عوام کی منصفانہ جہدوجہد کی حمایت کے لیے ریلیوں، سیمینارز اور ویبینارز کا انعقاد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 13 جولائی 1931 کو ڈوگرہ مہاراجا کی فوج نے عبد القدیر نامی نوجوان کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران یکے بعد دیگرے 22 کشمیری نوجوانوں کو سری نگر سینٹرل جیل کے باہر شہید کردیا تھا۔

عبدالقدیر نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ راج کے خلاف متحد ہونے کو کہا تھا۔

13 جولائی 1931 کو نماز ظہر کے وقت ایک نوجوان نے اذان دینا شروع کی تھی کہ ڈوگرہ مہاراجا کے سپاہیوں نے اسے فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا لیکن اذان دینے کا سلسلہ جاری رہا اور اذان مکمل ہونے تک 22 نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں سربرینکا کی طرز پر نسل کشی کا خطرہ ہے، عمران خان

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے مختلف ٹوئٹس میں کہا کہ 'آج یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر ہم جموں و کشمیر پر غیر قانونی و جابرانہ بھارتی قبضے کے خلاف جاری جدوجہد پر اہل کشمیر کو سلام پیش کرتے ہیں'۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 13 جولائی 1931 کے شہدا آج کی کشمیری مزاحمت کے اسلاف تھے۔

اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ ان اولادوں نے نسل در نسل آزادی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں اور آج بھی وہ ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے کشمیریوں اور ان کی شناخت کو ختم کرنے پر بضد نسل پرست ہندوتوا سرکار کے خلاف پوری جرات اور جواں مردی سے برسرِپیکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ' پاکستان نے ہمیشہ اہلِ کشمیر کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے اور بھارت کے غیر قانونی قبضے سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی مکمل آزادی تک پاکستان اس کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا، آزادی کا وہ دن اب زیادہ دور نہیں'۔

کشمیریوں کے لہو کا ایک قطرہ بھی فراموش نہیں کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل بابر افتخار کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ یوم شہدائے کشمیر، بہادر کشمیریوں کی جانب سے ادا کی گئی آزادی کی قیمت کی یاد دلاتا ہے۔

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ان کے لہو کے ایک ایک قطرے کو نہ تو فراموش کیا جائے گا اور نہ ہی اسے معاف کیا جائے گا، دہائیوں پر محیط بھارتی مظالم ناقابل تسخیر جذبے اور جائز آزادی کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہے، انشااللہ کامیابی ان کا مقدر ہوگی۔

کوئی قابض قوت بہادر کشمیریوں کے جذبے پر غالب نہیں آسکتی، وزیر خارجہ

علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر جاری بیان میں کہا کہ میں جموں و کشمیر کے 22 نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جن کی بہادری نے سفاک ڈوگرہ قوتوں کی صورت میں 1931 میں خود ارادیت کے لیے دہائیوں پرانی جدوجہد کو پھر منظم کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج تک اس حق کے لیے کشمیریوں کی قربانیاں جاری ہیں، کوئی قابض قوت بہادر کشمیریوں کے جذبے پر غالب نہیں آسکتی۔

22کشمیری نوجوانوں نے بہادری کی ایک تاریخ رقم کی، شہباز شریف

  اس موقع پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ 1930 میں 22 کشمیریوں نوجوانوں نے ڈوگرہ راج کا مقابلہ کیا اور بہادری کی ایک تاریخ رقم کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ 5 اگست کے بعد بھارت کی جانب سے تشدد میں اضافے کے باوجود ہر عمر اور ہر صنف کے کشمیری آج اپنی خون سے مودی کی فسطائیت (فاشزم ) کو چیلنج کررہے ہیں، وہ مستقبل کی امید ہیں۔

آزاد کشمیر کی پولیس کا شہدا کو گارڈ آف آنر

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پولیس کی جانب سے 89 برس قبل ہندو مہاراجا کے خلاف احتجاج کے دوران شہید ہونے والے 22 کشمیریوں کو گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔

ہر سال آزاد کشمیر میں یوم شہدائے کشمیر کے موقع اور ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے لیکن اس سال وزیراعظم آزاد کشمیر نے شہدا کو گارڈ آف دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کردی، وزیر اعظم

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے جاری کردہ بیان کے مطابق گارڈ آف آنر کے بعد وزیراعظم سیکریٹریٹ میں منعقد مرکزی تقریب میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر اور دیگر کی جانب سے تقاریر بھی کی جائیں گی۔

یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر جاری بیان میں آزاد کشمیر کے سردار مسعود خان نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں یوم شہدائے کشمیر کی مناسبت سے تقریب منسوخ کرنے کی مذمت کی اور اسے کشمیریوں کی آواز دبانے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔

بھارت، کشمیریوں کو حق خودارادیت دے، وزیراعظم آزاد کشمیر

  اس موقع پر جاری بیان میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے کہا کہ بی جے پی کی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ وادی میں یوم شہدائے کشمیر پر پابندی عائد کی ہے تاہم آزاد کشمیر کی حکومت اس دن کو شہدا کو شاندار خراج عقیدت پیش کرے گی۔

13 جولائی کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہوئے، انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ پہلا موقع تھا جب کشمیریوں نے اجتماعی طور پر اپنے مادر وطن میں ظالم حکومت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا 13 جولائی کے شہدا نے اپنے مقدس لہو سے تاریخ رقم کی ہے اور آزادی کی موجودہ جدوجہد ان کی قربانی سے متاثر ہے۔

راجا فاروق حیدر نے کہا کہ کہ بھارت کے بدترین جبر کے باوجود کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پختہ یقین ہے کہ کشمیریوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا اور وہ غیر قانونی بھارتی قبضے کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

آزادکشمیر کے وزیر اعظم نے بھارت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ دیوار پر لکھی گئی تحریر کو پڑھیں اور کشمیریوں کو خودارادیت کا بنیادی حق فراہم کرے۔  

مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال

خیال رہے کہ یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں آج مکمل ہڑتال کی گئی ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہڑتال کی کال حریت رہنما سیّد علی گیلانی، کل جماعتی حریت کانفرنس اور میر واعظ کی زیر قیادت حریت فورم کی جانب سے دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں حریت رہنما سید علی گیلانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی کے حصول تک بھارتی مظالم کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر سری نگر کے تاریخ کلاک ٹاور کے قریب لاک چوک کو بند کردیا گیا ہے جبکہ کشمیریوں کو مارچ سے روکنے کے لیے بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے۔