الفاظ پرانے مفہوم نیا

14 جولائ 2020

ای میل

آپ نے سن ہی رکھا ہوگا

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

علامہ اقبال کا یہ شعر باذوق شوہر، جو خیر سے بامروت اور باتمیز بھی ہوتے ہیں، اس وقت اپنی بیویوں کو سناتے ہیں جب انہیں ‘شادی کے بعد آپ بدل گئے’ کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر بدذوق شوہر بدتمیز بھی ہونے کے باعث کھری کھری سنا دیتے ہیں۔

یہ شعر سن کر بیوی کو یقین ہوجاتا ہے کہ شوہر اپنے تغیر پر معذرت خواہ نہیں بلکہ مزید بدلنے پر مُصر ہے، بس پھر شوہر کو سکوں محال ہے ‘بیگم’ کے کارخانے میں کی صورت حال درپیش ہوتی ہے، اور اس کا ہر دن اس یقین دہانی میں گزرتا ہے نہ ‘میں بدلا’، نہ دل بدلا، نہ دل کی آرزو بدلی۔ چونکہ ہر چیز کا شوہر نہیں ہوتا، اس لیے اسے بدلنے میں کسی ناراضی، برہمی اور رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، جیسے موسم، جغرافیہ اور الفاظ۔

موسم ہر سال بدلتا ہے، جغرافیہ بدلنے کا کوئی مقررہ وقت نہیں، بس جس قوم پر بُرا وقت آجائے اس کا جغرافیہ بدل جاتا ہے اور رہے الفاظ تو ان میں سے کوئی دوسری زبان میں جاکر معنی بدل لیتا ہے، تو کوئی حالات، واقعات اور استعمال کی ضروریات کے تحت نیا مطلب پہن لیتا ہے۔

مسئلہ تب ہوتا ہے جب ہم کسی معنی بدل لینے والے لفظ کا پرانا مطلب ہی لیتے ہیں۔ ہم نے سوچا اس مسئلے کو حل کرنے کی اپنی سی کوشش کر دیکھیں، سو کچھ الفاظ کے نئے معنی آپ کو بتا رہے ہیں، مقصد یہ اطلاع دینا ہے کہ ان لفظوں کا مطلب تبدیل ہوچکا ہے، لہٰذا آپ بھی ان کے پرانے معنی پر اصرار نہ کریں اور لڑائی جھگڑا تکرار نہ کریں۔

مزید پڑھیے: ’کے الیکٹرک‘ کی ’غیر نصابی‘ خدمات

تبدیلی

اب اگر تبدیلی میں بھی تبدیلی نہ آتی تو پھر آخر کس لفظ کے معنی تبدیل ہوتے! تبدیلی کو بدلاؤ بھی کہتے ہیں، سو اس لفظ نے ٹھان لی ہے کہ وہ ‘بدلاؤ’ ہی کے نام سے پکارا جائے، اور خود کو ‘اسم بامسمیٰ’ ثابت کرنے کے لیے اس نے ‘بدلاؤ’ کے عین مطابق مفہوم اختیار کرلیا ہے، یعنی بدلاؤ، بد سے بد لاؤ، بدترین لاؤ۔

یوٹرن

یہ سڑک پر ہوتا ہے جہاں سے گاڑی گھما کر واپسی کی راہ لی جاتی ہے، اب کیونکہ ایسا کرتے ہوئے انگریزی حرف ‘U’ کی شکل بن جاتی ہے اس لیے یہ یوٹرن کہلاتا ہے۔

اب تک تو اس کا پرانا مفہوم برقرار تھا، لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں کثرتِ استعمال سے اس کے معنی کی شکل بدل گئی ہے۔ اب اس کے معنی ہیں سیدھا راستہ، جس کے ساتھ ہی اب یہ ‘U’ کے بجائے ‘I’ کی طرح سیدھا ہوکر ‘I’ ٹرن کہلانے لگا ہے۔ آپ کہیں گے کہ جب سیدھا ہے تو ‘ٹرن’ کیسا، بھئی اصطلاحات کا یہی ہے، اب بعض وزائے اعلیٰ آپ کو کہیں سے بھی اعلیٰ لگتے ہیں؟ تو کیا ان کو ‘وزیرِ آلہ’ کہنے لگیں؟

شہ رگ

یہ گردن سے گزرتی وہ رگ ہوتی ہے جو کٹ جائے تو بندہ گزر جاتا ہے۔ مگر یہ مطلب پرانا ہوگیا، چنانچہ اب ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں رکھنا چاہیے اور اپنے مطلب سے مطلب رکھنا چاہیے۔

شہ رگ کا تازہ مفہوم ہے ایسی رگ جو ضرورت کے وقت کبھی کبھی پھڑک اٹھے۔ کبھی کبھی پھڑکنا تو ٹھیک ہے لیکن جب یہ دکھتی رگ بن جائے تو اسے کاٹ کر الگ کردیا جاتا ہے، ناخن اور بالوں کی طرح۔

البتہ یہ دشمن کو رگیدنے اور بعض راگ الاپنے میں بہت کام آتی ہے، لیکن چونکہ شاہ رگ ہے، اور برطانیہ کی بادشاہت کی طرح شاہ اب صرف دکھانے کے ہوتے ہیں اسی طرح یہ بھی دکھانے کے دانت کے معنی اختیار کرچکی ہے۔

مزید پڑھیے: سیاست کا وقت اور وقت کی سیاست

این آر او

عام طور پر یہ خاص سیاست دانوں کو دیا جاتا ہے۔ انگریزی میں تو یہ کچھ اور الفاظ کا مخفف ہے مگر عام پاکستانی اس کا ترجمہ ‘نال رہو اوئے’ کرتے ہیں، کیونکہ یہ کسی نہ کسی طرح ساتھ دینے کی شرط پر دیا جاتا تھا۔

ایک زمانے تک یہ دیا جاتا رہا، اب نہیں دیا جارہا، کیونکہ جسے جانا ہو وہ اس کے بغیر ہی جارہا ہے۔ این آر او کا نیا مفہوم ہے وہ چیز جو دی نہ جائے، کیونکہ دینے کے لیے اپنے پاس ہونی بھی تو چاہیے۔

امن پسند

اب تک تو امن پسند وہ ہوتا تھا جو امن پسند کرے، اس سے تو یہ اعزاز نہیں لیا گیا، مگر اس لفظ میں بھی ‘تبدیلی آئی رے’ اور وہ یہ کہ کوئی جماعت یا فرد اگر اتنی بدامنی پھیلائے کہ اچھے خاصے دہشت پسند اور محبان جنگ لوگ بھی صورتحال سے اکتا کر امن پسند کرنے لگیں، تو ایسے شخص یا جماعت کو پیار سے امن پسند کہا جائے گا۔

چینی

یہاں چینی سے مراد وہ چینی ہرگز نہیں جن کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا ‘گراں خواب چینی سنبھلنے لگے، ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے’ ہم اس چینی کی بات کر رہے ہیں جو شوگر ملوں میں بنتی ہے اور جس کے وجہ سے شوگر مل مالکان دولت کا ہمالیہ کھڑا کرلیتے ہیں جس سے زر کے چشمے ابلنے لگتے ہیں۔

پہلے ‘چینی’ کا مطلب صرف گنّے کے رس سے تیار کردہ میٹھا غذائی عنصر تھا، لیکن اب اس لفظ کے معنی نے بہت وسعت پالی ہے۔ اب یہ لفظ احسانات کا بدلہ اتارنے، دوست داری اور پیاروں کو نوازنے کے معنی میں محاورے کی شکل اختیار کرچکا ہے، جیسے اب کسی کا بدلہ اتارنے کو کہتے ہیں ‘چینی اتارنا’، قرض واپس کرنے کے لیے ‘چینی چُکانا’ کہا جاتا ہے، اور ‘ایندھن لٹانے سے چینی کے کاروبار میں فائدہ’ اور ‘آج جہاز اڑائے گا کل چینی کے دام بڑھائے گا’ جیسے محاورے تو اس زمرے کے محاوروں میں مقبول ترین ہیں۔

مزید پڑھیے: جب ہم ذبح ہوں گے، جانے کہاں ہوں گے

نفیس لوگ

یہ ان خواتین اور حضرات کو کہا جاتا تھا جن میں نفاست ہو۔ ہمارے وزیرِاعظم کے ایک توصیفی بیان نے اس مطلب کو نئی جہتیں عطا کردی ہیں، سو اب ‘نفیس لوگوں’ کی تعریف پر وہ ‘بھائی لوگ’ بھی پورے اترتے ہیں جن کی نفاست اور صفائی کی ستائش کرتے ہوئے شاعر نے کہا تھا:

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

اگرچہ نفس اور نفاست دو الگ الفاظ ہیں مگر یہ اصطلاح اب ان پر بھی صادق آتی ہے جو ‘بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا’ کے مصرعے پر عمل پیرا رہتے ہیں اور نفس امارہ کو مارنے کا مشکل فریضہ ادا کرنے کے لیے بطور مشق کسی بھی مخالف ذی نفس کو مارنے سے دریغ نہیں کرتے۔