جب ہم ذبح ہوں گے، جانے کہاں ہوں گے

12 اگست 2019

ای میل

— فوٹو: کریٹو
— فوٹو: کریٹو

ہم مسلمانوں کی گوشت سے رغبت کا یہ عالم ہے کہ اگر کچھ دن پیٹ میں بوٹی نہ جائے تو ایمان خطرے میں پڑتا محسوس ہوتا ہے، اور دل ہی دل میں خود کو طعنے دیے جانے لگتے ہیں:

دال سبزی پہ گزر، گوشت کی ’فقدانی‘ ہے

تم مسلماں ہو، یہ انداز مسلمانی ہے؟

ہم حلال جانوروں سے وہی سلوک کرتے ہیں جو بدعنوان حکمران قومی خزانے اور آمرانہ حکومتیں حزبِ اختلاف کے ساتھ کرتی ہیں، یعنی گوشت تو گوشت دل، گردہ، کلیجی، پھیپھڑا، سری، پائے، آنتیں کچھ نہیں چھوڑتے۔ ہمارے اسی شوق کے پیشِ نظر بعض قصائی گدھے کے گوشت کی ہمارے معدوں تک رسائی کرانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب انہیں کوئی کیسے سمجھائے کہ بھیا: گوشت ہوتا نہیں ہر گھاس چبانے والا۔

گوشت کو ہمارے ہاں جو قدر منزلت حاصل ہے اسی کے باعث بقرہ عید کو بڑی عید کہا جاتا ہے۔ ہم چند سال پہلے تک عیدالاضحیٰ کے لیے بڑی عید کی اصطلاح استعمال نہیں کرتے تھے، مگر اب ہم بھی اسے بڑی عید کہتے ہیں اور ہمارے ایسا کہنے کی وجہ گوشت نہیں کچھ اور ہے۔

دراصل کراچی کا شہری ہونے کے ناتے ہماری بقرہ عید سے بڑی یادیں وابستہ ہیں، سو جب بھی یہ عید آتی ہے ہمیں بہت کچھ یاد آجاتا ہے۔

کیا زمانہ تھا صاحب! جس کی یاد آتے ہی دل پر ’بُغدا‘ سا چل جاتا ہے۔ جب بقرہ عید قریب آتے ہی ہر ایک کو جانور لینے کی فکر ہوتی تھی، اہلِ خانہ کے کپڑے بنانے کی پریشانی ہوتی تھی، قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لیے قصاب کے نخرے اٹھانے کا خیال دل کو بے کل کیے رکھتا تھا، مگر ایک طرف سے مکمل اطمینان ہوتا تھا، یعنی یہ طے تھا کہ کھال کس کو دینی ہے۔

ہر ایک جانتا تھا کہ ’جس‘ کو کھال دینی ہے اسے نہ دی تو اپنی کھال بچانا مشکل ہوجائے گا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم کراچی والوں کو اپنی کھال میں رہنا پڑتا تھا، شہر کی قیادت کے اعلانات، ہدایات، فرمودات، خطابات اور حرکات پر سُکوت لازم تھا، اور بال کی کھال نکالنا کسی دن بوری سے نکلنے کا سبب بن سکتا تھا۔

یوں سمجھ لیں کہ اس دور میں بس 2 طرح کے لوگ ہی اس شہر میں اطمینان اور سکون سے رہ سکتے تھے، ایک جو اپنی کھال میں مست ہوں اور دوسرے جو ’حق پرست‘ ہوں۔

حق پرستوں کو حق پرست کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ ’حق بہ حق دار رسید‘ کے قائل تھے، مطلب یہ کہ اپنا حق لے کر رسید لازمی دیا کرتے تھے، اکثر تو رسید پہلے پکڑا دیتے تھے جس پر ان کا حق لکھا ہوتا تھا۔ اس رسید کی معذرت کے ساتھ واپسی کی صورت میں کم از کم جھانپڑ رسید کیا جاتا تھا اور زیادہ سے زیادہ لوگ رسید واپس کرنے والے کے بارے میں سرگوشی کر رہے ہوتے تھے ’حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔‘

حق پرستوں کے لیے اس شہر کے لوگوں نے چندے سے ووٹ تک سب دیا اور نیک نامی سے جان تک کیا کچھ قربان کردیا لیکن حق پرست مطمئن نہ ہوتے اور ’حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘ کہتے چرم قربانی کو بھی اپنا حق سمجھتے ہوئے لینے آپہنچتے۔ یوں کراچی والوں کی چمڑی بھی جاتی تھی اور فطرے کی صورت میں دَمڑی بھی۔

فطرے سے یاد آیا کہ اس دور میں کراچی کی قیادت کا اخلاق دیکھتے ہوئے شہر کے غیر مسلم بھی اسلام کی طرف مائل ہوگئے تھے اور عید، بقرہ عید کے موقع پر فطرہ دینے لگے تھے۔ اس زمانے میں کراچی والوں نے فی خاندان 2، 2 فطرے دے کر خوب ثواب کمایا، پہلا فطرہ خطرہ دیکھ کر دیا جاتا تھا اور دوسرا مستحق دیکھ کر۔

ویسے تو جس کو تھا جان و دل عزیز وہ اپنے ذبیحے کی کھال عزیز آباد ہی کے حوالے کرتا تھا، مگر ایسا نہیں تھا کہ لوگ قربانی کی کھالیں کسی اور کو نہ دیتے ہوں، بالکل دیتے تھے، مگر یہ جانتے ہوئے دیتے تھے کہ جس طرح آخرکار دل والے ہی دلہنیا لے جاتے ہیں اسی طرح اپنے خوف سے دل دہلا دینے والے کھال لے جائیں گے۔ اور یہی ہوتا تھا، دوسرے اداروں، تنظیموں اور جماعتوں کے لیے دی جانے والی کھالوں سے بھری گاڑیاں ہر پوست پر اپنا حق سمجھنے والے حق پرست حق دار حق سمجھ کر وصول کرتے اور اُڑن چھو ہوجاتے، یوں حق بازی لے جاتا، اور کھال کہتی رہ جاتی ’میں کھال ہوں کسی اور کی مجھے لے اُڑا کوئی اور ہے۔‘ کُل ملا کے بس ایسے ہی کچھ حقوق تھے جو حق پرست حاصل کر پائے۔

عوام کی کھال اتارنے کے لیے تو ساری ہی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتی ہیں، اس مقصد کے لیے بھیڑیے بھیڑ کی کھال پہن کر آتے ہیں اور عوام بھیڑ چال چلتے ہوئے ان کے پیچھے چل دیتے ہیں۔ ان میں سے کامیاب ترین وہ جماعت ہوتی ہے جسے عوام خود اپنی کھال اتار کر دے دیتے ہیں، مگر کراچی میں 2 سیاسی جماعتیں جانوروں کی کھالوں کے لیے بھی باہم برسرِ پیکار ہوجاتی تھیں۔ اس مقابلے میں وہی فریق بازی لے جاتا جس کی کھال موٹی تھی اور جس نے طے کر رکھا تھا کہ منزل ملے نہ ملے کھال ضرور ملنی چاہیے۔

یہاں ہم واضح کردیں کہ یہ کھالیں ’خدمت خلق“ کے لیے حاصل کی جاتی تھیں، اس لیے جیسے بھی حاصل کی جاتی تھیں اس پر زبانِ خلق کو چُپ رہنا پڑتا تھا۔

ہائے کیا زمانہ تھا، بقرہ عید آتے دیکھی تو یکایک یاد آگیا، اور یہ خیال دل دُکھا گیا کہ اُس دور میں کراچی کے قربانی کے جانور اس یقین کے ساتھ کہ انہیں کھالوں کی صورت ایک ہی جگہ پہنچنا ہے ایک دوسرے سے کہتے تھے ’تم سے اک دن وہیں ملیں گے‘، لیکن اب کس رنج کے ساتھ ایک دوسرے سے کہتے ہوں گے ’جب ہم ذبح ہوں گے، جانے کہاں ہوں گے‘۔