چین سے سرحدی تنازع: بھارت نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش مسترد کردی

اپ ڈیٹ مئ 29 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجیوں نے انتہائی ذمہ دارانہ انداز کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے امور سنبھالے —فائل فوٹو: رائٹرز
انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجیوں نے انتہائی ذمہ دارانہ انداز کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے امور سنبھالے —فائل فوٹو: رائٹرز

بھارت نے چین کے ساتھ سرحدی تنازع پر امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش یہ کہہ کر مسترد کردی کہ وہ مذکورہ معاملے پر بیجنگ کے ساتھ ’مسئلے کے حل‘ کے لیے کوشاں ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اس وقت سامنے آئی تھی جب بھارتی دفاعی ذرائع نے بتایا تھا کہ سیکڑوں چینی فوجی 3 ہزار 500 کلو میٹر لمبی سرحد کے ساتھ متنازع زون میں داخل ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو سے میڈیا بریفنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے چین کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں‘۔

مزید پڑھیں:نئی بھارتی سڑکیں چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کی وجہ بنیں، مبصرین

انوراگ سریواستو نے مزید کہا کہ ہمارے فوجیوں نے انتہائی ذمہ دارانہ انداز کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے امور سنبھالے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ’بھارت، چین کے ساتھ سرحدی علاقوں میں امن و سکون کی بحالی کے مقصد کے لیے پرعزم ہے، اس کے ساتھ ہی ہم بھارت کی خود مختاری اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہیں‘۔

خیال رہے کہ چین اور بھارت کی فوج لداخ میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اور کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی افواج لداخ کی وادی گالوان میں خیمہ زن ہیں اور ایک دوسرے پر متنازع سرحد پار کرنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔

نئی دہلی میں بھارتی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ چین کی جانب سے تقریباً 80 سے 100 ٹینٹ نصب کردیے گئے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے بھی 60 خیمے لگائے گئے ہیں۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'چین اپنی علاقائی خود مختاری کے تحفظ سمیت اپنے اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت، چین کے درمیان سرحدی علاقے میں جھڑپ، دونوں ممالک کے متعدد فوجی زخمی

بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چینی فوجیوں نے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ بھارت کے معمول کے گشت کو روک دیا۔

بعد ازاں بھارت کے ریٹائرڈ فوجی افسران اور سفارت کاروں کے بیانات سے واضح ہوا کہ سرحد پر تنازع کی اصل وجہ بھارت کی جانب سے سڑکوں اور رن ویز کی تعمیر ہے۔

چین اور بھارت کی فوج کے درمیان رواں ماہ کے اوائل میں بھی سرحدی علاقے سکم پر جھڑپ ہوئی تھی جس کے نیتجے میں متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

مغربی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ سرحدی ریاست سکم میں ناکولا سیکٹر کے قریب جھڑپ میں 7 چینی اور 4 بھارتی فوجی زخمی ہوگئے۔

بھارت اور چین کی سرحدیں ہمالیہ سے ملتی ہیں اور دونوں ممالک میں طویل عرصے سے سرحدی تنازع جاری ہے، دونوں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

**مزید پڑھیں: چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع پر امریکا ثالثی کیلئے تیار ہے، امریکی صدر

چین، بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار مربع کلومیٹر کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار مربع کلومیٹر پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس سرحدی تنازع پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام درجنوں ملاقاتیں کرچکے ہیں لیکن اس کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔