صادق آباد: استاد کے تیزاب پھینکنے سے 4 بچے زخمی، ملزم گرفتار

14 جولائ 2020

ای میل

اسامہ نے بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرنے کا شروع کر دیے تھے، والد کا موقف — فائل فوٹو / اے ایف پی
اسامہ نے بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرنے کا شروع کر دیے تھے، والد کا موقف — فائل فوٹو / اے ایف پی

رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں استاد کی جانب سے تیزاب پھنکنے سے 4 بچے زخمی ہوگئے۔

پولیس نے صادق آباد کے سٹی پولیس اسٹیشن میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 336 'بی' کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

ایک متاثرہ بچے کے والد ریاض حسین نے ایف آئی آر میں موقف اپنایا کہ اسامہ نامی استاد ان کے 14 سالہ بیٹے حسنین علی اور پڑوسی 13 سالہ ماہ ریب کو قرآن پڑھانے آتا تھا۔

تاہم انہوں نے بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرنے کا شروع کر دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے، چیف جسٹس

بچے کے والد کے مطابق جب بچوں نے اسامہ کی اس حرکت کی شکایت کی انہوں نے اور ان کے پڑوسی نے استاد کو جھاڑا اور بچوں کو پڑھانے کے لیے آنے سے منع کردیا۔

تاہم اسامہ نے بچوں کو ان سے قرآن پڑھنے پر مجبور کیا اور بصورت دیگر انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

منگل کی صبح جب حسنین گلی میں ماہ ریب، آشان احمد اور مہمان بچے معیز خالد کے ساتھ کھیل رہا تھا تو اسامہ وہاں چاقو اور تیزاب کی بوتل کے ساتھ آیا۔

والد کا کہنا تھا کہ اسامہ نے بچوں سے کہا کہ انہوں نے اس کی شکایت اپنے والدین سے کی اس لیے وہ انہیں آج سبق سکھائے گا۔

اس کے بعد اس نے بچوں پر تیزاب پھینکا اور موقع سے فرار ہوگیا۔

مزید پڑھیں: خواتین پر تیزاب پھینکنے والے کو 14 سال کی قید

تیزاب سے چاروں بچوں کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے اور انہیں صادق آباد کے تحصیل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں بچوں کی حالت مستحکم ہے۔

پولیس ترجمان احمد نواز چیمہ نے ڈان کو بتایا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کر اسامہ کو گرفتار کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کے بعد واقعے کے اصل محرکات سے پردہ اٹھایا جائے گا۔