گوگل میٹ ویڈیو کانفرنس سروس اب جی میل موبائل ایپ کا حصہ بن گئی

21 جولائ 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ نائن ٹو فائیو گوگل
— فوٹو بشکریہ نائن ٹو فائیو گوگل

گوگل کی جانب سے ویڈیو چیٹنگ کے میدان میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران تیزی سے پیشرفت کی جارہی ہے اور گزشتہ دنوں اپنی پریمیئم ویڈیو کانفرنسنگ سرو گوگل میٹ صارفین کے لیے مفت فراہم کردی۔

یہ کانفرنسنگ سروس پہلے صرف جی سیوٹ کے صارفین کے لیے مخصوص اور 6 ڈالر ماہانہ پر ہی دستیاب تھی، مگر اب اسے ہر ایک استعمال کرسکتا ہے، بس جی میل اکاؤنٹ کی ضرورت ہے۔

مگر اب گوگل نے زوم کو ٹکر دینے کے لیے اپنی ویڈیو کانفرنسنگ سروس کو اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے جی میل ایپ کا حصہ بھی بنادیا ہے۔

نائن ٹو فائیو گوگل کی رپورٹ کے مطابق منگل سے جی میل ایپ کی نئی اپ ڈیٹ کو متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں گوگل میٹ ٹیب کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اگلے چند دنوں میں میٹ ٹیب ہر ایک کو دستیاب ہوگا جس کو ویڈیو کانفرنسنگ کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

میٹ ٹیب کو پہلے آئی او ایس میں متعارف کرانے کا سلسلہ گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا اور اب یہ اپ ڈیٹ اینڈرائیڈ فونز کے لیے پیش کی جارہی ہے۔

جی میل کے ویب ورژن میں میٹ کا شارٹ کٹ سائیڈ بار میں ہے جبکہ موبائل ایپس میں یہ اسکرین کے نیچے ایک نئے ٹیب کی شکل میں نظر آئے گا۔

اس ٹیب پر کلک کرنے پر مائی میٹنگز لسٹ نظر آئے گی جبکہ اسکرین میں بتایا جائے گا کہ کس اکاؤنٹ پر آپ جوائن کرسکتے ہیں جبکہ جوائن کرنے سے پہلے ویڈیو فیڈ کو بھی چیک کرسکتے ہیں۔

درحقیقت جی میل ایپ میں میٹ کا تجربہ خودمختار گوگل میٹ ایپ کی ضرورت ختم کردے گا۔

اس ٹیب میں ایک بڑا نیلے رنگ کا نیو میٹنگ بٹن صارف کو میٹنگ لنک شیئرکرنے، ایک میٹنگ شروع کرنے یا گوگل کیلنڈر میں شیڈول کا آپشن فراہم کرے گا، جبکہ ایک جوائن ود اے کوڈ کا آپشن بھی ہوگا۔

میٹ کے ذریعے بیک وقت 100 افراد ایک ویڈیو کال کا حصہ بن سکتے ییں جبکہ شیڈولنگ، اسکرین شیئرنگ اور رئیل ٹائم کیپشن جیسے فیچرز بھی اس میں دستیاب ہیں۔

ویڈیو کالز کا دورانیہ 60 منٹ تک ہوگا مگر گوگل کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق 30 ستمبر کے بعد شروع ہوگا۔

گوگل کی جانب سے پرائیویسی کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں جن میں ہوسٹ کنٹرولز یعنی کسی کو میٹنگ میں شامل کرنا یا نہ کرنا، لوگوں کو میوٹ یا چیٹ سے نکالنا، پپیچیدہ میٹنگ کوڈز اور انکرپشن قابل ذکر ہیں۔