لاہور ہائیکورٹ کا محکمہ داخلہ کو 101 سالہ قیدی کی اپیل پر فیصلے کا حکم

اپ ڈیٹ 25 جولائ 2020

ای میل

لاہور ہائی کورٹ نے  2019 میں سزاسنائی تھی—فوٹوبشکریہ وکیل مہدی خان
لاہور ہائی کورٹ نے 2019 میں سزاسنائی تھی—فوٹوبشکریہ وکیل مہدی خان

لاہور ہائی کورٹ نے گجرات کی ڈسٹرکٹ جیل میں عمرقید کاٹنے والے 101 سالہ قیدی مہدی خان کی درخواست پر محکمہ داخلہ کو 3 ہفتوں میں جیل مینوئل کی شق نمبر 146 کے تحت فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت عالیہ کے سنگل رکنی بینچ نے 101 سالہ بزرگ قیدی کو سزا پوری کرنے سے قبل رہا کرنے کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

اپنے فیصلے میں عدالت نے محکمہ داخلہ کو حکم دیا کہ وہ مہدی خان کی درخواست پر جیل مینوئل کی شق نمبر 146 کے تحت فیصلہ کرے۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ فیصلے کی مصدقہ نقول جاری ہونے کے 3 ہفتوں میں درخواست پر فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: گجرات جیل میں عمر قید کے 100سالہ قیدی کی رہائی کی اپیل

اس میں مزید کہا گیا کہ 3 مارچ 2020 کو اے آئی جی پنجاب جیل خانہ جات عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ مہدی خان کی درخواست محکمہ داخلہ میں زیر التوا ہے۔

تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے سیکشن افسر پیش ہوئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ درخواست پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مہدی خان نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کی طبی حالت جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ قائم کیا جائے اور جیل مینوئل رول 146 کے تحت سزا پوری ہونے قبل رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

خیال رہے کہ مہدی خان کو 2006 میں قتل کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی، بعد ازاں 2009 میں ٹرائل کورٹ نے انہیں بری کیا تھا لیکن مخالف فریق نے فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

مہدی خان کو 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے اس وقت عمر قید کی سز سنائی تھی جب وہ اپنی زندگی کے 100 سال مکمل کرچکے تھے۔

بعد ازاں انہیں جیل منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ انہیں متعدد بیماریاں لاحق ہیں، اس لیے انہوں نے خرابی صحت اور طویل عمر کے باعث فوری رہائی کی درخواست کی ہے۔

بزرگ قیدی نے لاہور ہائی کورٹ میں جیل مینوئل کی شق 146 کے تحت قبل از وقت رہائی کے لیے درخواست دی تھی، جس کے تحت سپرنٹنڈنٹ کسی بھی قیدی کی طویل عمر، ضعیفی یا بیماری کی صورت میں جرم کی نوعیت کودیکھتے ہوئے رہائی کی سفارش کرسکتا ہے۔

مہدی خان کے وکیل حمزہ حیدر ایڈووکیٹ نے ڈان کو بتایا تھا کہ جیل انتظامیہ درخواست عدالت میں جمع کرواچکی ہے کہ قیدی علیل ہے اور 100سال سے زائد عمر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا 408 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ جیل کا شعبہ قانون بھی کہہ چکا ہے کہ وہ قیدی کو طبی سہولت فراہم کریں گے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت نے پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کو قیدی کو طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹادی ہے۔

دوسری جانب گجرات ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ملک لیاقت علی کا کہنا تھا کہ وہ قیدی کو تمام ممکنہ سہولت فراہم کررہے ہیں اور اس وقت بھی وہ عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ تیسرا موقع ہے کہ قیدی کو علاج کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے اورمیڈیکل بورڈ کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ عدالت میں پیش کی جاتی رہی ہے'۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قانون کے مطابق 'قیدی کی قبل از وقت رہائی کی کوئی شق موجود نہیں ہے لیکن یہ متاثرہ فریق پر منحصر ہے کہ وہ معاف کرسکتے ہیں'۔