سعودی عرب: حج کے لیے مقامی عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع

اپ ڈیٹ 26 جولائ 2020
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

سعودی عرب میں رواں برس 29 جولائی سے شرو ع ہونے والے حج کے سلسلے میں عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے حج کو ایک ہزار افراد تک محدود کردیا گیا تھا جبکہ ہر سال دنیا بھر سے تقریباً 25 لاکھ افراد حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں۔

مزیدپڑھیں: رواں سال حج میں صرف ایک ہزار مسلمان شریک ہوسکیں گے

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق تمام ایک ہزار عازمین سعودی عرب کے رہائشی ہوں گے جس میں 700 غیرملکی ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے حکام نے کہا تھا کہ حج کو صرف ایک ہزار افراد تک محدود رکھا جائے گا جو سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہیں اور ان میں 70 فیصد غیر ملکی جبکہ بقیہ سعودی شہری ہوں گے۔

700 سے غیرملکی عازمین میں شامل بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی خدیجہ نے بتایا کہ 'جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ رواں برس حج کے لیے نامزد ہوچکی ہیں تو خوشی کے مارے آنسو نہیں تھم رہے تھے'۔

انہوں نے کہا کہ 'مجھے اُمید نہیں تھی کہ میری عرضی قبول ہوگی کیونکہ اس سال کا حج ہر لحاظ سے ایک غیر معمولی ہوگا'۔

سعودی عرب میں رہائش پذیر تیونس کی ڈاکٹر حفا یوسف ہمڈون بھی محدود عازمین کی وجہ سے ناامید تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: 'حج کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی'

انہوں نے کہا کہ جب مجھے اپنی درخواست کی تصدیق ملی تو میں خوشی سے نہال ہوگئی، مجھے یقین نہیں آرہا تھا'۔

سوڈان سے تعلق رکھنے والے موڈیز محمد نے ان کی اور دیگر حجاج کرام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عبادات کو بحفاظت طریقے سے ادا کرسکیں گے۔

متعلقہ وزارت کے عہدیدار، تمام عازمین کی آمد کے بعد انہیں مکہ مکرمہ میں رہائش گاہ پر لے گئے۔

خیال رہے کہ 29 جولائی کو شروع ہونے والے حج سے قبل تمام عازمین مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر رہیں گے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھتی تعداد کے باعث سعودی عرب نے رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام کی تعداد کو محدود کردیا اور اس حوالے سے متعدد قواعد و ضوابط جاری کیے گئے جن کے مطابق نماز اور طواف کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس اقدام کا مقصد حج کو محفوظ طریقے سے انجام دینے کے ساتھ ساتھ حجاج کرام کو بچانے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرتے ہوئے، صحت اور حفاظت کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے۔

حج کے حوالے سے نئی ہدایات رہائشی عمارات، کھانے، بسوں اور حجام کی دکانوں، عرفہ اور مزدلفہ، جمرات اور مسجد الحرام میں عبادات سے متعلق ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکام 19 جولائی 2020 یعنی 28 ذیقعد 1441 ہجری سے لے کر 2 اگست، 2020 یعنی 12 ذی الحج تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت نامے کے بغیر داخلے کی ممانعت ہوگی۔

حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔

مسجد الحرام کے منتظمین اس امر کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ زائرین، سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں اور اس دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹریک لائنز بنائی جائیں۔

علاوہ ازیں مطاف اور صفا و مروہ کی جگہ کو حج زائرین کے ہر کاررواں کے طواف اور سعی کے بعد سینیٹائز کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

رواں برس خانہ کعبہ اور حجرِ اسود کو چھونا منع ہوگا اور ان مقامات تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔

ساتھ ہی مسجد الحرام سے قالین ہٹادیے جائیں گے جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں کمی کے لیے ہر حاجی کو اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔

مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور مسجد کے صحن میں بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حجاج کرام کے داخلے اور باہر نکلنے کو آسان بنانے، ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی مقامات مختص کیے جائیں گے۔

ہر حاجی کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔

مسجد الحرام کے منتظمین اس امر کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ زائرین، سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں اور اس دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹریک لائنز بنائی جائیں۔

علاوہ ازیں مطاف اور صفا و مروہ کی جگہ کو حج زائرین کے ہر کاررواں کے طواف اور سعی کے بعد سینیٹائز کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

رواں برس خانہ کعبہ اور حجر اسود کو چھونا منع ہوگا اور ان مقامات تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا رواں سال حج منسوخ کرنے پر غور

ساتھ ہی مسجد الحرام سے قالین ہٹادیے جائیں گے جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں کمی کے لیے ہر حاجی کو اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔

مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور مسجد کے صحن میں بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حجاج کرام کے داخلے اور باہر نکلنے کو آسان بنانے، ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی مقامات مختص کیے جائیں گے۔

بیگیج کلیم ایریا، ریسٹورنٹس اور بس اسٹاپس پر ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے سماجی فاصلے کے لیے نشانات لگائے جائیں گے۔

مزدلفہ اور عرفات

حج کے دوران تمام اہلکاروں، گائیڈز، حجاج کرام اور ورکرز کا درجہ حرارت لازمی جانچا جائے گا جبکہ ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

مزدلفہ اور عرفات میں عازمین کو ہر وقت سماجی فاصلے پر لازمی عمل کرنا ہوگا، ماسکس پہننے ہوں گے اور منتظمین کے لیے 50 مربع گز کے خیمے میں 10 سے زائد عازمین حج موجود نہ ہوں اور ہر ایک کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ یقینی ہو۔

عازمین کے لیے متعلقہ راستوں پر عمل لازمی ہوگا جبکہ منتظمین کو تمام عازمین کی جانب سے سماجی فاصلے کے قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

مزدلفہ اور عرفات میں قیام کے دوران تیار شدہ کھانے کی فراہمی کو محدود کیا جائے گا اور عازمین کے درمیان سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔  

رمی جمرات کیلئے سینیٹائزڈ کنکریاں

خیال رہے کہ حجاج کرام 10، 11، 12 اور 13 ذی الحج کو منیٰ میں رمی جمرات کرتے ہیں اور اس مرتبہ عازمین کو سینیٹائزڈ کنکریاں فراہم کی جائیں گی جو تھیلیوں میں بند ہوں گی۔

اس دوران 50 افراد پر مشتمل ایک گروہ کو رمی کی اجازت دی جائے گی اور عازمین کے درمیان ڈیڑھ سے دو میٹر تک کا فاصلہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی دیگر ہدایات میں رمی کے دوران تمام عازمین اور ورکرز کو فیس ماسک اور سینیٹائزر کی فراہمی شامل ہے۔

رہائشی عمارات

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق رواں برس حج سیزن سے متعلق رہائشی عمارتوں کے حوالے سے بھی ہدایات شامل ہیں، خاص طور پر استقبالیے پر کام کرتے وقت اور مہمان خانے میں داخل ہونے سے پہلے عملے کا ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی مہمانوں کو اپنے کمرے سے باہر رہنے کے اوقات کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

دیگر ہدایات میں سطحوں کی باقاعدہ اور شیڈول کے مطابق صفائی، زیادہ رابطے کے مقامات پر توجہ خاص طور پر دن کے دوران، جیسا کہ استقبالیہ اور انتظار گاہوں، دروازوں کے ہینڈلر، کھانے کی میز، سیٹ ریسٹس اور لفٹس کی صفائی یقینی بنانا شامل ہیں۔

کھانے سے متعلق ہدایات

کھانے کی جگہوں سے متعلق جاری کردہ ہدایات اور قواعد و ضوابط میں پینے کا پانی اور آب زم زم کو انفرادی یا ایک مرتبہ استعمال ہونے والے برتنوں میں پینا شامل ہے۔

اس کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات سے تمام فریج ہٹادیے یا بند کردیے جائیں گے اور کھانے کو عازمین کو انفرادی طور پر تیار شدہ اور پیک خوراک تک محدود کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کا خطرہ: سعودی عرب نے عمرہ زائرین کے داخلے پر پابندی لگادی

ورکرز کے لیے باقاعدگی سے اور بار بار کم از کم 40 سیکنڈز تک ہاتھ دھونا اور صابن اور پانی نہ ہونے کی صورت میں 20 سیکنڈز تک سینیٹائزر استعمال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ گروہوں کے درمیان براہ راست رابطے میں کمی کے لیے ورکنگ گروپس میں ملازمین شفٹس میں کام کریں گے۔

ٹرانسپورٹ

حج کے دوران ہر گروہ کے لیے بس مختص ہوگی اور ہر حاجی کے لیے ایک نشست نمبر مقرر کیا جائے، کسی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور خاندانوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

دیگر قواعد و ضوابط میں بسوں میں سوار ہونے اور اترنے کے لیے مختلف دروازے مختص کرنا، ان لوگوں کے علاوہ جنہیں جسمانی مشکلات کے باعث مدد کی ضرورت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس، سعودی عرب کا ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ

علاوہ ازیں اگر کسی مسافر میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو تو مکمل ڈس انفیکشن سے قبل بس نہیں چلائی جائے گی۔

ہر مسافر کیبن میں ہینڈ سینیٹائزر اور سینیٹری پیپرز فراہم کیے جائیں گے، ہر کمپارٹمنٹ میں کم از کم 3 ڈس انفیکٹنٹس تقسیم اور نصب کیے جائیں گے۔

ہدایات کے مطابق بس میں مسافروں کی تعداد مجموعی صلاحیت کے 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، مجوزہ پالیسی کے ذریعے سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جائے اور ہر مسافر کے درمیان کم از کم ایک نشست خالی چھوڑی جائے گی۔

کورونا وائرس کے شبے پر مخصوص گروہ کے لیے ہدایات

جن عازمین کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہونے پر انہیں مکمل طبی معائنے کے بعد حج کی اجازت دی جائے گی اور انہیں مشتبہ کیسز کے مخصوص گروہوں میں شامل کیا جائے گا، ان کی حالت کو دیکھ کر متعلقہ رہائش گاہ اور الگ ٹریکس کی بسیں مختص کی جائیں گی۔

علاوہ ازیں وقایہ کے قواعد و ضوابط میں ہدایت کی گئی ہے کہ وائرس کی علامات (بخار، کھانسی، زکام، گلے میں سوزش اور چکھنے اور سونگھنے کی حس اچانک ختم ہونے) کی صورت میں کسی اہلکار کو علامات ختم ہونے کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے صحت مند قرار دینے تک کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مسجد نبوی کو عوام کے لیے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان

ہدایات کے مطابق اے ٹی ایمز، ٹچ-اسکرین گائیڈز اور وینڈنگ مشینز کے برابر میں سینیٹائزرز لازمی رکھے جائیں گے جبکہ کورونا وائرس کی ممکنہ منتقلی میں کمی کے لیے تمام مطبوعہ میگزین اور اخبارات ہٹادیے جائیں گے۔  

تبصرے (0) بند ہیں