عید کے بعد اے پی سی میں حکومت مخالف حکمت عملی کا اعلان کریں گے، شہباز شریف

اپ ڈیٹ 28 جولائ 2020

ای میل

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے لاہور میں ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس کی سفارشات ایجنڈے کے صورت میں اے پی سی میں پیش کی جائیں گی اور پھر حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

مذکورہ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت سے کوئی رعایت نہیں مانگی، حکومت کا یکطرفہ 'نیب نیازی گٹھ جوڑ' کارروائیوں کا سلسلہ جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو 17 جون تک شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا

اس قبل سے بلاول بھٹو نے لاہور میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملاقات کی تھی، چیئرمین پیپلز پارٹی نے دونوں رہنما شبہاز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ 'ہمہ گیر فیصلہ' ہے، ہم احتساب کے عمل سے نہیں بھاگ رہے، احتساب کے نام پر وچ ہنٹنگ ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ میں موجود وزرا آٹے، چینی اور پیٹرولیم کے اسکینڈل میں ملوث ہیں لیکن کسی کو نہیں پوچھا گیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں موجودہ ملکی صورتحال کے بارے میں ایک پیج پر ہیں اور گزشتہ دو برس میں حکومت نے جو معاشی نقصان پہنچایا، اس کی مثال 70 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کووڈ 19 سے ہر چیز کی قیمت گری لیکن پاکستان میں ہر اشیا مہنگی ہوگئی۔

شبہاز شریف نے کہا کہ چینی بحران اسکینڈل کے وقت چینی فی کلو 65 روپے تھی اور اب 100 روپے سے زائد ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں کہ گندم کی کٹائی کے بعد ملک میں گندم کا بحران سر اٹھائے کھڑا ہے اور وزیر زراعت کہنے پر مجبور ہیں کہ نہیں معلوم کہ گندم کہاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: نیب ٹیم کا شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے رہائش گاہ پر چھاپہ

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے یوٹرن کے بعد سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ نہیں ہیں، حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

اپوزیشن جماعتیں مل کر مڈٹرم انتخابات یا ان ہاؤس تبدیلی سے متعلق فیصلہ کریں گی، بلاول

علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ اپوزیشن جماعتیں مل کر مڈٹرم انتخابات یا ان ہاؤس تبدیلی سے متعلق فیصلہ کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت میں ملنے والے این آر او کی تعداد نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے آرڈیننس کا اجرا ہوا اور اس کا تعلق وزارت خارجہ سے بھی ہے، اس لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے اس بات کا جواب دے دیں۔

مزیدپڑھیں: شہباز شریف آج اسلام آباد پہنچیں گے، مریم اورنگ زیب

انہوں نے کہا کہ حکومت کا اپنا نیب آرڈیننس فیل ہوچکا ہے، حکومت کا مؤقف ہے کہ نیب آرڈیننس چاہیے جبکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ جو سپریم کورٹ کے ریمارکس ہیں ویسا ہی ہونا چاہیے.

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا نام لے کر سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور ضیاالحق جیسی آمرانہ طاقت حاصل کرلے گی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایسا نہیں ہونے دے گی۔

بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کی مشترکہ پریس کانفرنس

اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اپوزیشن رہبر کمیٹی یا اے پی سی میں جو فیصلہ ہوگیا، ہم اس کے مطابق چلیں گے اور جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے تو تمام صوبے کے عوام ایک پیج پر ہے اس لیے اپوزیشن کو جلد از جلد عوام کی امید پر پورا اترتے ہوئے ان کے مسائل کا حل نکالا چاہیے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں مل کر مڈٹرم انتخابات یا ان ہاؤس تبدیلی سے متعلق فیصلہ کریں گی۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد دھرنا ختم، نئے محاذ پر جانے کا اعلان

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'وزیراعظم عمران خان کو جانا پڑے گا'۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

کورونا وائرس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 'پاکستانی میڈیا اور بعض سیاسی جماعتوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی صحت پر سیاست کی جو قابل مذمت ہے'۔

پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک کے خلاف پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنتھیا رچی کے الزام سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رحمٰن ملک نے یقیناً وزیر داخلہ کی حیثیت سے امریکی بلاگر سے ملاقات کی ہوگی لیکن وہ الزام کی بابت ضرور استفسار کریں گے۔

خیال رہے کہ 5 جون کو اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک لائیو ویڈیو میں پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنتھیا رچی نے دعویٰ کیا تھا کہ '2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا، یہ بات درست ہے، میں دوبارہ کہوں گی کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا'۔

مزیدپڑھیں: کسی کا باپ ہم سے اس حکومت کو جائز نہیں منوا سکتا، مولانا فضل الرحمٰن

پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'اگر ایک پارٹی کی تیاری دوسرے کے مقابلے میں کم ہوئی تو ہم توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے اور ایک دوسرے پر تنقید نہیں کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی مشاورت کے بعد ایجنڈا طے کرے گی اور اس کے بعد اے پی سی حکمت عملی مرتب کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل دو برس سے ایک بات بڑی وضاحت سے کررہے ہیں کہ عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا جو واپس کیا جائے، ایک حقیقی مینڈیٹ کے ساتھ قوم کا نمائندہ نمائندگی کرے۔

انہوں نے کہا کہ دوبرس میں ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے، شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد و تاجر چیخ رہے ہیں، ہماری ترجیح ملکی معیشت کو اٹھانا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس حکومت کو جائز ہی نہیں سمجھتے، ہم نے پہلے دن سے موجودہ حکومت کے ہاتھوں بیعت نہیں کی کیونکہ یہ اب نااہل بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہم نےحکومت کا غرور خاک میں ملا دیا، مولانا فضل الرحمٰن

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن پہلے بھی موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ 'ایک بار کہہ دیا کہ یہ حکومت ناجائز ہے تو کسی کا باپ بھی اسے ہم سے جائز نہیں منوا سکتا جبکہ اب وقت آگیا ہے کہ ان حکمرانوں سے حساب لیا جائے'۔

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ برس کے اواخر میں حکومت کے خلاف 'آزادی مارچ' کا انقعاد کیا تھا۔

'آزادی مارچ' کے سلسلے میں ملک بھر سے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص جے یو آئی (ف) کے قافلے اسلام آباد پہنچے تھے اور 13 روز تک جے یو آئی (ف) کی قیادت میں آزادی مارچ کے شرکا نے اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں پڑاؤ کیا تھا۔

اس عرصے میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تاہم مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے کو لے کر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔