چینی سائنسدان نے خود کو کورونا کی تجرباتی ویکسین لگا لی

28 جولائ 2020

ای میل

گاؤ فو نے کہا کہ اگر ہم خود ویکسین نہیں لگائیں گے تو عوام کو کیسے قائل کریں گے— فوٹو: اے پی
گاؤ فو نے کہا کہ اگر ہم خود ویکسین نہیں لگائیں گے تو عوام کو کیسے قائل کریں گے— فوٹو: اے پی

چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ انہوں نے خود کو کورونا وائرس کی تجرباتی ویکسین لگا لی ہے تاکہ ویکسین کی منظوری کے بعد عوام کو اسے لگانے کے لیے قائل کیا جا سکے۔

مذکورہ مرکز کے سربراہ گاؤ فو نے علی بابا ہیلتھ کے زیر اہتمام ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک ایسی بات کا انکشاف کرنے لگا ہوں جو اب تک کسی کو نہیں معلوم، میں نے خود کو ایک ویکسین لگا لی ہے اور اُمید ہے کہ یہ کارگر رہے گی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے دوبارہ کووڈ 19 کے خلاف انسداد ملیریا ادویات کو مؤثر قرار دے دیا

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں چین کی ریاستی کمپنی نے حکومت کی جانب سے منظوری سے قبل ہی مارچ میں ملازمین کو تجرباتی ویکسین لگائی اور ماہرین نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

گاؤ فو نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہوں نے ویکسین کب اور کہاں لگائی تھی جبکہ یہ بات بھی واضح نہیں کہ انہوں نے یہ کام حکومت کی منظوری سے کیا ہے یا نہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے سوال کا جواب بھی نہیں دیا۔

اس دعوے کے ساتھ ہی کئی چیزیں داؤ پر لگ گئی ہیں کیونکہ کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے چین کا امریکا اور برطاننیہ سے مقابلہ جاری ہے جہاں یہ ویکسین سائنسی اور سیاسی بنیادوں پر بڑی کامیابی ہو گی۔

چین ویکسین بنانے کا اہم امیدوار ہے دنیا بھر میں جن دو درجن ویکسین کا تجربہ کیا گیا ہے ان میں سے 8 چین نے بنائی ہیں اور یہ اب تک کسی بھی ملک کی جانب سے بنائی گئی سب سے زیادہ ویکسین ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں کورونا ویکسین کی ٹیسٹنگ کا آخری مرحلہ شروع

گاؤ نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کونسی ویکسین خود کو لگائی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ سمجھا جائے کہ وہ کسی خاص کمپنی کے لیے کوئی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ گاؤ نے ایک تحقیقی مقالہ مشترکہ طور پر لکھا تھا جس میں ایک ویکسین متعارف کرائی تھی اور اس ویکسین کے ذریعے لیب ہی میں تیار کردہ وائرس کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ ویکسین ریاستی کمپنی سینوفارم کے تعاون سے بنائی گئی تھی۔

کمپنی نے اپنی آن لائن پوسٹ میں کہا تھا کہ اعلیٰ افسران سمیت 30 ملازمین نے انسانوں پر استعمال کی منظوری ملنے سے قبل مارچ میں ویکسین کی ٹیسٹنگ میں مدد کی تھی، سائنسدانوں نے اس اقدام پر بڑے پیمانے پر بحث کی تھی کیونکہ چند لوگوں پر دوا کے جو بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں اسے ویکسین کو محفوظ یا مؤثر قرار دینے کے لیے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق بیرون ملک جانے والے سرکاری ملازمین کو ان ویکسین کے انجیکشن لگانے کی پیشکش کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی حکومت نے مزید 47 چینی ایپس پر پابندی عائد کردی

ادارے کے سربراہ گاؤ فو نے کہا کہ انہوں نے عوام کے اعتماد میں ہوتی ہوئی کمی کو دیکھتے ہوئے ویکسین کا انجیکشن اس لیے لگایا تاکہ وہ عوام کے اعتماد میں اضافہ کر سکیں کیونکہ اس دوران سائنسدانوں کے حوالے سے عجیب و غریب سازشوں پر مبنی کہانیاں زیر گردش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو ویکسین کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، ایک سائنسدان کو بہادر ہونا چاہیے، اگر ہم ہی اس ویکسین کو استعمال نہیں کریں گے تو ویکسین لگانے کے لیے دنیا کو کیسے قائل کریں گے۔

ویبینار کی میزبانی کرنے والے ایڈیٹر اینڈریو رین کیمہ نے چینی سائنسدان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بہادری کی بات ہے اور یہ ویکسین کے محفوظ ہونے کے حوالے سے ان کے اعتماد کی ترجمانی کرتا ہے۔