بھارت: شراب کی عدم دستیابی پر سینیٹائزر پینے سے 9 افراد ہلاک

31 جولائ 2020

ای میل

متاثرہ افراد کو فوری ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا، سِدارتھ کوشال — فائل فوٹو / اے ایف پی
متاثرہ افراد کو فوری ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا، سِدارتھ کوشال — فائل فوٹو / اے ایف پی

بھارت میں کورونا وائرس پابندیوں کی وجہ سے شراب کی دکانیں بند ہونے کے باعث الکوحل والا سینیٹائزر پینے سے 9 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق ریاست آندھرا پردیش کے قصبے کُریچیدو کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سِدارتھ کوشال نے کہا کہ یہ افراد بڑی مقدار میں سینیٹائزر پینے کے بعد ہوش کھو بیٹے تھے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو فوری ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔

پولیس افسر نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے ٹاؤن میں لاک ڈاؤن کے باعث چیزوں کی فراہمی رُک جانے کی وجہ سے ان افراد نے شراب کے متبادل کے طور پر سینیٹائزر پینے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: شراب گلے سے کورونا ختم کردیتی ہے، بھارتی رکن اسمبلی کا دعویٰ

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں ہر سال کچی اور زہریلی شراب پینے کی وجہ سے سیکڑوں اموات واقع ہوتی ہیں۔

دیسی شراب بنانے والے اکثر اس کی مقدار بڑھانے کے لیے اس میں میتھانول شامل کرتے ہیں جو الکوحل کی انتہائی زہریلی قسم ہے اور بعض دفعہ ایندھن کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ کُریچیدو میں یہ ہلاکتیں بھارت میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 ہزار سے زائد ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی سامنے آئیں۔

مزید پڑھیں: بھارت: شراب پر عائد 70 فیصد کورونا ٹیکس ختم کرنے کا اعلان

وبا سے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد بھارت اس حوالے سے اٹلی کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے دوسرے بڑے بھارت میں کورونا کیسز کی تعداد 16 لاکھ 30 سے زائد ہوچکی ہے اور یہ دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔