لاک ڈاؤن کے دوران گیس کمپنی پر بڑھا چڑھا کر بل بھیجنے کا الزام

اپ ڈیٹ 02 اگست 2020

ای میل

سوئی گیس کے دفتر پر لگا نوٹس۔ فوٹو:ڈان
سوئی گیس کے دفتر پر لگا نوٹس۔ فوٹو:ڈان

کوئٹہ میں سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی وسیع و عریض عمارت شہر کے مغربی حصے میں سامنگلی روڈ پر واقع ہے۔

حالیہ ہفتوں میں دفتر جاتے ہوئے میں باقاعدگی سے اس کے دروازے پر موجود صارفین کا رش دیکھتا تھا۔

چند ہفتوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران میں نے مشاہدہ کیا کہ لوگوں کی تعداد مزید بڑھ رہی ہے تاہم اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ میں جلد ہی اسی گیٹ پر ہجوم میں شامل ہوجاؤں گا۔

آج میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں اور میرا گیس کا بل میرے ہاتھ میں ہے۔

میری طرح گیس کے بیشتر صارفین یہاں کسی وجہ سے موجود تھے جو لاک ڈاؤن کے دوران بڑھا چڑھا کر دیا گیا گیس کا بل ہے۔

مزید پڑھیں: کے-الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی، سی این جی اسٹیشنز 48 گھنٹوں کیلئے بند

میں لاک ڈاؤن کے دورران اپنے گھر میں اکیلا رہ رہا تھا پوری مدت میں زیادہ تر آن لائن کھانے منگوا کر کھائے تھے تاہم مجھے گزشتہ ماہ 41 ہزار 240 روپے کا بل بھیجا گیا تھا۔

وہاں موجود گیس صارفین اور میری کہانی کم و بیش ایک جیسی ہے۔

لیکن بدقسمتی سے کورونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے صارفین، بشمول اس رپورٹر کو ایس ایس جی سی کی عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی تاہم جو لوگ بڑے عہدوں پر جان پہچان رکھتے تھے وہ مستثنیٰ تھے۔

سب سے پہلے عارف شاہ نامی شخص کو اندر بلایا گیا جسے خاص طور پر سیکیورٹی گارڈ نے اندر آنے کو کہا تھا۔

نادانستہ طور پر مجھے معلوم ہوا کہ میرا معاش کا ذریعہ قلم تھا جس سے اضافی بل ادا کرنے کی میری نااہلی کی وضاحت ہوتی ہے۔

اس غلطی کے نتیجے میں مجھ سے چند سفید داڑھی والے لوگوں نے سیکیورٹی اہلکاروں سے بات کرنے اور میڈیا کی طاقت پر زور دینے کے لیے کہا۔

ہچکچاتے ہوئے میں سیکیورٹی سے بات کرنے کے لیے گیٹ پر گیا، اس سے پہلے کہ میں اسے اپنا پریس کارڈ دکھا سکوں اس نے مجھے ایک طرف دھکیل دیا۔

یہ بھی پڑھیں: گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافے کا امکان

شرمندگی کے عالم میں، میں نے مدد کے لیے اپنے صحافی ساتھیوں سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی تاہم صبح کے وقت وہ سو رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے میری کالز کا جواب نہیں دیا۔

پارکنگ ایریا میں ملازمین کی گاڑیوں کی موجودگی کے باوجود، سیکیورٹی گارڈ نے وہاں موجود لوگوں کو پیغام دیا کہ دفتر کے اندر کوئی موجود نہیں ہے اور یہ بل کراچی سے آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک بار جب دفتر دوبارہ کھل گیا تو وہ آپ کے تمام مسائل حل کردیں گے'۔

گیٹ پر موجود ایک شخص نے کہا کہ 'یہ ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں'۔

نجی ہسپتال میں ملازمت کرنے والا شخص دو بل لے کر آیا تھا جس میں سے ایک میں 63 یونٹس کے 15 ہزار روپے طلب کیے گئے تھے جبکہ دوسرے پر ان سے 65 یونٹس کے 37 ہزار روپے طلب کیے گئے تھے۔

آخر کار دو ہفتوں کے بعد دفتر دوبارہ کھل گیا۔

دوسرے صارفین کی طرح مجھے بھی ایک حصے سے دوسرے حصے میں بھیجا گیا۔

ریاضی کے حساب کتاب، وعدوں، درخواستوں اور یقین دہانیوں کے بعد، قسطوں پر بھاری رقم ادا کرنے پر راضی ہونے کے بعد مجھے دروازہ دکھادیا گیا۔

پہلی قسط 10ہزار روپے ہے۔

اس دن وہاں موجود ایک اور شخص شیر علی، جس کو میں نے 'سفید لباس میں ملبوس شخص' کے طور پر یاد کیا تھا کیوں کہ اس نے سفید ٹوپی اور سفید رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔

مزید پڑھیں: گیس کمپنیوں کو قیمتوں میں کمی، ریونیو ہدف کم کرنے کی ہدایت

اگرچہ وہ بھی ہاتھ میں بل تھامے ہوئے تھا تاہم اس کے مسکراتے چہرے نے اس کی بےچینی کو چھپا لیا تھا۔

اسے گزشتہ ماہ 58 ہزار 800 روپے کا بل موصول ہوا تھا۔

ایک جگہ سے دوسری جگہ کے چکر کاٹنے کے بعد وہ عمارت کے ایک کونے میں بیٹھ گیا تھا اور اس کا چہرہ تھکن اور نا امیدی کی تصویر بنا ہوا تھا۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے اس نے ایس ایس جی سی کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ 'میں اپنے چھوٹے سے گھر میں رہتا ہوں، ایس ایس جی سی نے لاک ڈاؤن کے دوران میٹر پڑھے بغیر لمبا چوڑا بل بھیج دیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں یہ بل اپنی جیب میں ہی لے کر گھوم رہا ہوں اور اسے جمع کرانے کا ارادہ نہیں رکھتا ہوں کیونکہ میں اتنی بھاری رقم خرچ کرنے سے قاصر ہوں'۔

چند روز بعد میں نے ایس ایس جی سی کے چند ملازمین سے بات کی تاہم انہوں نے اضافی بلوں کے معاملے پر بولنے سے انکار کردیا۔

تاہم میں کسی طرح میڈیا افسر صفدر حسین سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ بل اصل ریڈنگ پر مبنی ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق صارفین کو آپشن دیا گیا ہے کہ بل قسطوں میں ادا کریں۔

ان کی رائے ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ان قسطوں کی باقی رقم ماہانہ بلوں کے ساتھ جمع کی جارہی ہے۔

اضافی بلوں کے بارے میں سوال پر صفدر حسین نے دعویٰ کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران میٹر ریڈنگ حاصل کرنے میں دشواریوں کی وجہ سے کچھ عارضی بل پچھلے سال کے کھپت کے اندازے کی بنیاد پر بنائے گئے تھے تاہم میٹر ریڈنگ کو نوٹ کرنے کے بعد کسی بھی اضافی رقم کو بعد میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

ایس ایس جی سی کا نام ڈیرہ بگٹی کے ضلع سوئی سے منسوب کیا گیا ہے، یہ ضلع ڈیرہ بگٹی کا ایک قصبہ ہے جہاں 1952 میں گیس دریافت ہوئی تھی۔

اس طویل عرصے سے دریافت کے باوجود گیس کوئٹہ میں 1985 میں پہنچی تھی۔

بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اب بھی گیس کی فراہمی نہیں ہوسکی ہے، سردیوں کے دوران دباؤ انتہائی کم ہوتا ہے اور کوئٹہ کے متعدد حصے لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔

اس معاملے کو بلوچستان اسمبلی میں اٹھایا گیا جہاں اراکین اسمبلی نے لوڈ شیڈنگ اور بھاری بلوں پر ایس ایس جی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔