نریندر مودی نے بابری مسجد کی متنازع اراضی پر رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا

اپ ڈیٹ 05 اگست 2020

ای میل

سنگِ بنیاد، بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثییت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر رکھا گیا— فوٹو: اے پی
سنگِ بنیاد، بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثییت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر رکھا گیا— فوٹو: اے پی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع اراضی پر رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔

امریکی خبررساں ادارے' اے پی' کی رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث بڑے ہجوم کو محدود کرنے کے باوجود ہندوؤں نے مندر کا سنگِ بنیاد رکھنے کا جشن منایا۔

نریندر مودی نے پوجا کی اور پتھر کے 9 بلاکس جن پر رام کنندہ تھا کو ایک چھوٹے سے گڑھے میں رکھا، اس دوران لوگوں نے مذہبی نعرے لگاتے ہوئے مندر کی تعمیر کے آغاز کا جشن منایا۔

یہ مندر ساڑھے 3 برس کے عرصے میں مکمل ہونے کا امکان ہے اور یہ بلاکس مندر کی سنگِ بنیاد ہیں۔

—فوٹو: رائٹرز
—فوٹو: رائٹرز

اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سنہری رنگ کے کرتے اور سفید دھوتی پر مشتمل روایتی لباس پہنا تھا، انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث ماسک بھی پہنا ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: نریندر مودی 5 اگست کو ایودھیا مندر کا سنگ بنیاد رکھیں گے

تقریب کے آغاز سے پہلے، نریندر مودی نے ہندو قوم پرستوں کی جانب سے قائم کیے گئے عارضی مندر میں رکھے رام (ایک چھوٹے سے بت) کے آگے ماتھا ٹیکا جہاں اسی جگہ 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔

ادھر برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق سنگ بنیاد کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ 'پورا ملک خوش ہے، صدیوں کا انتظار ختم ہورہا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ رام کی طاقت دیکھیں، عمارتیں تباہ ہوئیں، اس کے وجود کو مٹانے کی کوششیں کی گئیں لیکن آج بھی ہمارے ذہنوں میں ہے۔

دوسری جانب آل انڈیا مسلم لا بورڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ناحق، جابرانہ، شرمناک اور اکثریت کو خوش کرنے والے فیصلے کے ذریعے زمین کے قبضے سے اس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔

ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں، حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔

سونے اور چاندی کی اینٹیں

خیال رہے کہ بھارت میں مسلم اقلیت کے اکثر افراد بابری مسجد سے متعلق گزشتہ برس کے فیصلے کو ہندو قوم پرست حکومت کے طریقہ کار کا حصہ قرار دیتے ہیں تاہم بھارتی حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔

ایودھیا میں مندر کا سنگِ بنیاد، بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثییت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر رکھا گیا ہے۔

مندر کی تعمیر کے آغاز سے قبل نریندر مودی نے ہندو رسومات کے مطابق ویدک منتر پڑھا، جس میں پجاری بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کی زمین پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنوب مشرق سے 687 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایودھیا میں تقریب کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جہاں کی گلیوں میں ہندو پجاریوں اور اس مذہب کے ماننے والوں نے مندر کی تعمیر کا جشن منایا۔

تقریب کے منتظمین نے 2 ہزار سے زائد مقدس مقامات سے اکٹھی مٹی اور 100 سے زائد ندیوں سے جمع کیے گئے پانی کو مندر کی تعمیر کے آغاز کے وقت پوجا میں استعمال کیا۔

علاوہ ازیں بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے 2 اینٹوں کا عطیہ بھی دیا جن میں ایک اینٹ سونے کی اور دوسری چاندی کی ہے۔

سخت سیکیورٹی

سنگ بنیاد کی تقریب کے موقع پر ایودھیا کی مرکزی شاہراہوں پر رکاوٹیں لگائی گئی تھیں اور تقریباً 3 ہزار پیراملٹری اہلکار تعینات تھے جبکہ شہر کی تمام دکانیں اور کاروبار بند تھے۔

مندر کے پجاری ہری موہن نے کہا کہ 'اگر یہ تقریب عام دنوں میں منعقد ہوتی تو ساری سڑکوں پر ایک جمِ غفیر ہوتا، لاکھوں لوگ اس تاریخی موقع پر ایودھیا آتے'۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کی نگرانی کیلئے ٹرسٹ بنا دیا گیا، مودی

تقریب میں صرف 175 مذہبی پیشواؤں، پجاریوں اور ہندو اور مسلمان برادری کے کچھ نمائندوں کو دعوت دی گئی تھی لیکن ہندو قوم پرست تنظیموں کے اکثر سینئر رہنماؤں نے ماسکس نہیں پہنے تھے یا غلط طریقے سے پہنے تھے۔

اس تقریب میں مدعو کیے گئے افراد میں انتہا پسند جماعت راشٹریا سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھگوات اور سپریم کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کرنے والے مسلمان نمائندے اقبال انصاری شامل تھے۔

مندر 235 فٹ چوڑا، 300 فٹ طویل اور 161 فٹ بلند ہوگا جو مجموعی طور پر 84 ہزار مربع فٹ پر مشتمل ہوگا، اس میں ایک پریئر ہال، لیکچر ہال، یاتریوں کا ہاسٹل اور میوزیم شامل ہوگا۔

بابری مسجد کیس کا پس منظر

یاد رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں مشتعل ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات نے جنم لیا تھا اور 2 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا گیا تھا۔

جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اس کے بعد سے اس مقام کا کنٹرول وفاقی حکومت اور بعدازاں سپریم کورٹ نے سنبھال لیا تھا۔

بھارت کی ماتحت عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ کی متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کیلئے انتہا پسند ہندوؤں کو جمع ہونے کی کال

ایودھیا کے اس مقام پر کیا تعمیر ہونا چاہیے، اس حوالے سے مسلمان اور ہندو دونوں قوموں کے افراد نے 2010 میں بھارتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں جمع کروا رکھی تھیں جس کے بعد اس معاملے پر اُسی سال 8 مارچ کو ثالثی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

اس تنازع کے باعث بھارت کی مسلمان اقلیت اور ہندو اکثریت کے مابین کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔