ممتاز صحافی اطہر علی ہاشمی انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 06 اگست 2020

ای میل

ان کی عمر 74 برس تھی اور گزشتہ رات سوتے ہوئے وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے—تصویر: فیس بک
ان کی عمر 74 برس تھی اور گزشتہ رات سوتے ہوئے وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے—تصویر: فیس بک

44 برس سے صحافت سے وابستہ سینئر صحافی اور روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف اطہر علی ہاشمی کراچی میں انتقال کر گئے۔

ان کی عمر 74 برس تھی، آج صبح فجر کے وقت نیند کی حالت میں وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔

اطہر ہاشمی کے انتقال کی تصدیق ان کے بیٹے حماد علی ہاشمی نے ان کے ہی فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کی۔

وہ نہ صرف اردو کے استاد تھے بلکہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت کرنا سکھائی۔

ان کا شمار عرب نیوز ویب سائٹ ’اردو نیوز‘ جدہ کے بانیوں میں ہوتا تھا اس کے علاوہ وہ روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی بنے، اور روزنامہ جنگ لندن سے بھی وابستہ رہے۔

اطہرعلی ہاشمی نے قائداعظم يونيورسٹی سے پروفيسر احسان احمد وانی کي سربراہی ميں علا الدين خلجی کی معاشی پاليس پر مقالہ لکھ کر ايم فل کي ڈگری حاصل کی تھی۔

اطہر علی ہاشمی کو زبان و بیان پر گہری گرفت حاصل تھی۔

ان کا مشہور کالم ’خبر لیجیے زباں بگڑی‘ اردو دانی کے لحاظ سے سند کی حیثیت رکھتا ہے جس میں وہ اردو زبان کی بول چال میں رائج غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی تصحیح کرتے تھے۔ مرحوم کا یہ کالم ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی پر بھی کئی عرصے سے شائع ہورہا ہے۔

اطہر علی ہاشمی کی نماز جنازہ آج دوپہر کراچی کے علاقے گلستان جوہر بلاک 12 میں ادا کی گئی اور بعد ازاں انہیں سچی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔