امریکی صدر نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر پابندیوں کے احکامات جاری کردیے

اپ ڈیٹ 07 اگست 2020

ای میل

صدارتی حکم نامے کے مطابق 45 دن تک ٹک ٹاک امریکا میں کام کر سکے گا—فائل فوٹو: رائٹرز
صدارتی حکم نامے کے مطابق 45 دن تک ٹک ٹاک امریکا میں کام کر سکے گا—فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف چینی ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک اور ملٹی پرپز میسیجنگ ایپ وی چیٹ پر پابندیوں سے متعلق 2 مختلف حکم نامے جاری کردیے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اگست کو ٹک ٹاک پر مستقبل میں پابندیوں سے متعلق جب کہ اسی دن وی چیٹ پر بھی پابندیوں سے متعلق علیحدہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔

امریکی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے ٹک ٹاک سے متعلق صدارتی حکم نامے کے مطابق اگر چینی ایپلی کیشنز کو آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیا گیا تو ان پر امریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

جاری کیے گئے حکم نامے کے ذریعے چینی ایپلی کیشنز کو 15 ستمبر 2020 کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، جس کے بعد اگر وہ کسی بھی امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو دونوں ایپس امریکا میں بند ہوجائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان کر دیا

حکم نامے کے مطابق آئندہ 45 دن تک ٹک ٹاک اور وی چیٹ اپنی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھ سکیں گی لیکن 15 ستمبر کے بعد اگر وہ معاہدہ نہ کر پائیں تو انہیں بند کردیا جائے گا۔

ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں صرف امریکی حکومت میں ہی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کے اثرات دونوں چینی ایپس پر دنیا کے کسی دوسرے ملک کے حوالے سے نہیں پڑیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دونوں حکم نامے ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب کہ پہلے ہی وہ دونوں ایپس کے خلاف سخت کارروائی اور پابندی کا عندیہ دے چکے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا عندیہ دیا گیا تھا، جس کے بعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ نے چینی ایپ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

بل گیٹس کی کمپنی مائیکرو سافٹ نے گزشتہ ہفتے ہی بتایا تھا کہ وہ ٹک ٹاک کو خریدنے کے حوالے سے امریکی صدر اور ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ معاملات 15 ستمبر تک حل ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں: مائیکرو سافٹ ٹک ٹاک کو خریدنے کے لیے تیار

اگر مائیکرو سافٹ نے ٹک ٹاک کو خرید لیا تو وہ چینی کمپنی کو امریکا سمیت خطے کے دیگر قریبی ممالک میں چلا سکے گی اور وہاں سے متعلق تمام ڈیٹا اور معلومات کو بھی مائیکرو سافٹ ہی دیکھے گی۔

اس وقت ٹک ٹاک کو دنیا بھر میں چینی کمپنی خود چلا رہی ہے اور امریکا کو اسی پر ہی خدشات ہیں کہ ٹک ٹاک کے ذریعے امریکیوں کی اہم معلومات چینی حکومت کو فراہم کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر اور حکومت کے دیگر عہدیدار ماضی میں متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ٹک ٹاک کے ذریعے چینی حکومت اور فوج، امریکیوں کا ڈیٹا حاصل کر رہی ہے، تاہم چینی حکومت اور ٹک ٹاک ایسے الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ مائیکرو سافٹ اور ٹک ٹاک کے درمیان خریداری کا معاہدہ طے پا جائے گا اور امریکا سمیت خطے کے دیگر ممالک میں ویڈیو شیئرنگ ایپ کو امریکا سے ہی مانیٹر کیا جائے گا۔

اسی طرح خیال کیا جا رہا ہے کہ وی چیٹ کو بھی ممکنہ طور پر مائیکرو سافٹ ہی خریدے گی، عین ممکن ہے کہ ایپل سمیت کوئی دوسری کمپنی بھی بڑی قیمت کے ساتھ ایپ کو خرید لے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپل بھی ٹک ٹاک کو خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہے، رپورٹ

مائیکرو سافٹ کی طرح ایپل نے بھی ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ چینی کمپنیاں کس امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرتی ہیں۔

امریکی صدر نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں چینی ایپس کو امریکا میں چلانے کی اجازت کا عندیہ نہیں دیا، اس لیے امکان ہے کہ چینی کمپنیاں ہر حال میں کسی نہ کسی امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کریں گی۔

معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پابندیوں کا اطلاق وی چیٹ پر بھی ہوگا—فوٹو: گوگل پلے اسٹور
معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پابندیوں کا اطلاق وی چیٹ پر بھی ہوگا—فوٹو: گوگل پلے اسٹور