آٹزم کو شیزوفیرینیا کی علامت قرار دینے پر سونیا حسین کو تنقید کا سامنا

اپ ڈیٹ 08 اگست 2020

ای میل

سونیا حسین سراب ڈرامے میں ذہنی بیماری کو اجاگر کریں گی—فوٹو: انسٹاگرام
سونیا حسین سراب ڈرامے میں ذہنی بیماری کو اجاگر کریں گی—فوٹو: انسٹاگرام

پاکستانی اداکارہ سونیا حسین اور سمیع خان جلد ہی ذہنی بیماری کو اجاگر کرنے پر مبنی ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے جس کے 2 ٹیزر بھی جاری ہوچکے ہیں۔

تاہم اب سونیا حسین کو اسی ڈرامے سے متعلق ایک پوسٹ پر تنقید کا سامنا ہے جس میں انہوں نے آٹزم کو شیزوفیرینیا کی علامت قرار دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ کچھ عرصے سے پاکستان میں معاشرے میں موجود مسائل پر مبنی ڈرامے نشر کیے جارہے ہیں جسیا کہ اڈاری میں بچوں سے جنسی زیادتی، باغی میں غیرت کے نام پر قتل، سمی میں صنفی تقریق کو اجاگر کیا گیا تھا جبکہ خاص اور کنکر ڈرامے ساس بہو کے روایتی ڈراموں سے الگ تھے۔

مزید پڑھیں: سونیا حسین کا 'سراب' ذہنی بیماری کی شکار لڑکی کی کہانی

اب سمیع خان اور سونیا حسین اپنے آنے والے ڈرامے سراب میں ذہنی بیماری شیزوفیرینیا سے متعلق آگاہی پیدا کریں گے جس میں اداکارہ سونیا ایک ذہنی مریضہ کا کردار ادا کریں گی۔

شیزوفیرنیا ایک دائمی ذہنی بیماری ہے جو سوچنے کے انداز کو اور حقیقت کی ترجمانی میں دماغ کے افعال کو متاثر کرتی ہے۔

اس مرض کا شکار افراد کو فریبِ نظر جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

چند روز قبل سونیا حسین اور سمیع خان کے ڈرامے سراب کے 2 ٹیزر ریلیز کیے گئے تھے جن میں اس کے کرداروں اور کہانی کی جھلک پیش کی گئی تھی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

پہلے ٹیزر میں دکھایا گیا تھا کہ سونیا حسین اور سمیع خان ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں لیکن دوسرے منظر میں اداکارہ سونیا خوف کی حالت میں بھاگتی نظر آئیں۔

سمیع خان کی جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے دوسرے ٹیزر میں سونیا حسین اور سمیع خان کو اپنی شادی سے متعلق گفتگو کرتے اور پھر شادی کے لباس میں اداکارہ کی جانب سے سمیع خان کو پہنچاننے سے انکار کرتے دیکھا گیا تھا۔

ڈرامے کے دونوں ٹیزرز نے مداحوں کی بھرپور توجہ وصول کی اور اکثر افراد نے یہ ڈراما جلد نشر ہونے کے انتظار کا بھی اظہار کیا لیکن سونیا حسین نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ سونیا حسین کی منفرد انداز میں ہاتھ دھونے کی ویڈیو وائرل

جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اگر آپ ذہنی بیماری کی وجہ سےخود کو قصوروار سمجھتے ہیں تو 'بیماری' کی تعریف کا جائزہ لیں اور اپنا بھی اتنا احترام کریں اور اتنی تشویش ظاہر کریں جتنا آپ دل کے مریض کے لیے ظاہر کریں۔

سونیا حسین نے لکھا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ' ذہنی بیماری' کی کسی بھی قسم سے منسلک بدنامی یا غلطی کو ختم کیا جائے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

تاہم اداکارہ نے جو تصویر پوسٹ کی اس میں انہوں نے غم، خودکشی اور دیگر چیزوں کے ساتھ آٹزم کو بھی شامل کردیا اور انہیں اس وقت اپنے خیالات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے اس بیماری کا شکار 2 بچوں کی والدہ کو اس کی وضاحت دینے کی کوشش کی۔

اداکارہ کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے 2 بچوں کی والدہ نے لکھا کہ آٹزم ذہنی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ ایک معذوری ہے۔

انہوں نے کمنٹ میں لکھا کہ میرے ماشااللہ 2 بچے ہیں جنہیں آٹزم ہیں لہٰذا میں جانتی ہوں کہ میں کس بارے میں بات کررہی ہوں۔

خاتون نے مزید لکھا کہ ورنہ یہ بہت اچھا پیغام ہے اور اسے اجاگر کرانا اور اس انتہائی حساس موضوع کے بارے میں شعور پیدا کرنا بہت اہم ہے

—فوٹو: اسکرین شاٹ
—فوٹو: اسکرین شاٹ

 جس پر سونیا حسن نے جواب دیا کہ ہم آپ لوگوں کے بارے میں نہیں جاتنے لیکن عام طور جب کوئی اپنی زندگی کے تجربے کے بارے میں بات کرتا ہے تو ہم اسے سنتے ہیں

اداکارہ نے مزید لکھا کہ شاید ہم نے غلطی سے شامل کردیا کہ 'آٹزم، شیزوفیرینیا کی ایک علامت ہے'.

دریں اثنا ایک اور فالوور نے تبصرہ کیا کہ برائے کرم اسکرپٹ لینے سے پہلے تحقیق کریں اور ایسے ہی ان اصطلاح پر بات نہ کریں کہ ایسے موضوعات پر گفتگو کرنا اچھا سمجھا جاتا ہے، آٹزم ایک نیوروڈیولپمنٹ کنڈیشن ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ میرا بھتیجا آٹزم کا شکار ہے اور وہ 2 مہینے پہلے سے گروسری کے مجموعی اعداد و شمار یاد رکھے، وہ ریپ سانگ ایک مرتبہ سنے گا اور پلک جھپکنے میں اس کی دھن سنائے گا۔

2 الگ حالتوں کے مریضوں کے درمیان جینیٹک اوورلیپنگ کی وجہ سے شاید سونیا حسین الجھن کا شکار ہوگئیں جبکہ طبی ماہرین کی رائے ہے کہ آٹزم ایک بیماری یا مرض نہیں ہے بلکہ یہ ایک ڈیولپمنٹل ڈس آرڈر ہے جس کا مطلب ہے کہ آٹزم میں متاثرہ فرد کا دماغ ایک اوسط فرد کے مقابلے میں تھوڑا مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔

اس کا یہ مطلب بھی ہے آٹسٹک کا شکار فرد کی ذہابت اوسط یا اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

لیکن یہاں یہ بات اہم ہے کہ جب آرٹسٹس اسے اہم مسائل سے متعلق آگاہی کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں خود کو آگاہ کرنا بھی ضروری ہے تاہم سونیا حسین اپنے کمنٹ میں وہ نزاکت پیش کرنے میں ناکام رہیں جو ذہنی صحت پر آگاہی سے متعلق بات چیت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

شاید یہ عوامی شخصیات کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی موضوع پر تبصرے سے قبل خود اس سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔