طبیعت بہتر ہونے پر سنجے دت ہسپتال سے ڈسچارج

اپ ڈیٹ 10 اگست 2020

ای میل

سنجے دت کا کورونا ٹیسٹ بھی منفی آیا تھا—فوٹو: انڈیا ٹوڈے
سنجے دت کا کورونا ٹیسٹ بھی منفی آیا تھا—فوٹو: انڈیا ٹوڈے

بولی وڈ بابا سنجے دت کو 2 دن قبل 8 اگست کو سانس میں تکلیف کے باعث ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

سنجے دت کو ممبئی کے نجی لیلاوتی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ان کا کورونا ٹیسٹ بھی کیا گیا تھا۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ اداکار کو ممکنہ طور پر کورونا کی وجہ سے سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم خوش قسمتی سے ان کے کورونا ٹیسٹ منفی آئے تھے۔

طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال داخل کیے جانے کے حوالے سے خود سنجے دت نے بھی مداحوں کو ٹوئٹ کے ذریعے آگاہ کیا تھا اور انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ 2 سے 3 دن میں گھر واپس آجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سنجے دت سانس لینے میں مشکلات کی شکایت پر ہسپتال میں داخل

اداکار کے اہل خانہ نے بھی سنجے دت کو کوئی بیماری نہ ہونے یا کورونا کی علامات نہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

ہسپتال میں 2 دن تک زیر علاج رہنے کے بعد اداکار کو 10 اگست کو ڈسچارج کردیا گیا۔

اداکار دو دن تک ہسپتال میں رہے—فوٹو: انڈیا ٹوڈے
اداکار دو دن تک ہسپتال میں رہے—فوٹو: انڈیا ٹوڈے

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 61 سالہ اداکار کو 10 اگست کی دوپہر کو ہی ڈسچارج کردیا گیا اور وہ خوشگوار موڈ میں ہسپتال سے باہر نکلے۔

اداکار نے ہسپتال سے باہر نکلتے وقت فوٹوگرافرز اور صحافیوں کو سلام بھی کیا۔

سنجے دت نے ہسپتال سے نکلتے وقت چہرے پر فیس ماسک پہن رکھا تھا اور وہ تنہا ہی ہسپتال سے باہر آئے اور گھر چلے گئے۔

سنجے دت نے حال ہی میں 61 ویں سالگرہ منائی تھی اور مستقبل قریب میں وہ سڑک 2، بھوج اور تربوز نامی فلموں میں نظر آئیں گے۔

سڑک 2 ہدایتکار مہیش بھٹ کی نوے کی دہائی کی فلم سڑک کا سیکوئل ہے اور وہ 21 سال بعد کوئی فلم ڈائریکٹ کررہے ہیں۔

سنجے دت کے علاوہ متعدد بولی وڈ اداکار کورونا کا شکار ہوئے تھے جو کئی دن تک ہسپتال میں رہنے کے بعد صحت مند ہوئے۔

کورونا میں مبتلا ہونے والی بولی وڈ شخصیات میں امیتابھ بچن، ابھیشیک بچن، ایشوریا رائے اور کرن کمار سمیت دیگر شامل ہیں جو کم از کم 10 دن تک ہسپتال میں رہنے کے بعد صحت یاب ہوئیں۔

کورونا کیسز کے حوالے سے بھارت امریکا اور برازیل کے بعد تیسرا بڑا متاثر ملک ہے اور وہاں 10 اگست کی دوپہر تک متاثرہ افراد کی تعداد 22 لاکھ 15 ہزار سے زائد ہوچکی تھی جب کہ وہاں اموات کی تعداد بھی 44 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on