آئندہ سال سندھ کو گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا، وزیر توانائی

اپ ڈیٹ 11 اگست 2020

ای میل

پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے پینل کے سامنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عمر ایوب خان نے کہا کہ آئندہ موسم سرما کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز
پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے پینل کے سامنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عمر ایوب خان نے کہا کہ آئندہ موسم سرما کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز

اسلام آباد: وزیر توانائی عمر ایوب خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کو اس وقت گیس کے 3.5 ارب مکعب فٹ فی یوم (بی سی ایف ڈی) کمی کا سامنا ہے اور سندھ بھی اگلے سال تک گیس کی کمی کا سامنا کرنے والا صوبہ بن جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیر کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے پینل کے سامنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عمر ایوب خان نے کہا کہ آئندہ موسم سرما کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی کیونکہ مقامی گیس کی پیداوار میں کمی آرہی ہے جب کہ مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو مل بیٹھ کر پر امن طریقے سے ملک میں گیس کی قلت کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبوں میں گیس کی تقسیم سے متعلق معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے پاس اٹھائے گی کیونکہ سینیٹرز حکومت کو آئین کے آرٹیکل 158 اور 172 کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی قلت کے معاملے پر تمام صوبوں کو مشترکہ فیصلہ کرنا ہوگا، 3.5 بی سی ایف ڈی کی کل مقامی پیداوار کے برعکس مجموعی طلب 7 بی سی ایف ڈی سے زیادہ تھی۔

مزید پڑھیں: کے-الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی، سی این جی اسٹیشنز 48 گھنٹوں کیلئے بند

انہوں نے کہا کہ یہ خسارہ مہنگے درآمدی گیس سے پُر ہورہا تھا تاہم حکومت درآمدی گیس پر سبسڈی دے رہی ہے جس سے گردشی قرضے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال سے سندھ میں بھی اضافی گیس نہیں ہوگی اور صوبہ اپنی پیداوار سے اپنی طلب کو پورا نہیں کر سکے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس کی کل سپلائی میں سے خود سندھ 1.56 بی سی ایف ڈی استعمال کر رہا ہے اور صرف 260 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پنجاب کو فراہم کی جارہی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کی صدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محسن عزیز نے کی۔

عمر ایوب خان نے کہا کہ حکومت گیس کی تقسیم کے معاملے پر ایک کانفرنس کرے گی اور تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ اس میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس گیس کی تقسیم کے معاملے پر مشترکہ پوزیشن تیار کرے گی اور اس کی سفارشات مشترکہ مفادات کونسل کو پیش کی جائیں گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ موسم سرما میں صوبہ سندھ کے مفادات اور حقوق کے خلاف آئین کے آرٹیکل 158 اور 172 کی خلاف ورزی کی جارہی تھی اور سندھ سے دوسرے صوبوں کو گیس مہیا کی جارہی تھی جبکہ اسے خود گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی تقسیم سے متعلق کسی بھی غیر آئینی اقدام کی مذمت کی جائے گی۔

18ویں ترمیم

سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کی ترجمانی کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہونا چاہیے اور وفاقی حکومت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ بورڈ اور اس طرح کے دیگر اداروں میں صوبوں کو نمائندگی فراہم کرے۔

یہ بھی پڑھیں: گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافے کا امکان

نیشنل پارٹی (این پی) کے سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے مکینوں کو گیس کی عدم فراہمی سے ان آبادیوں میں احساس محرومی پیدا ہورہی ہے۔

انہوں نے یہ کہا کہ گیس کی تقسیم سے متعلق آئین کے آرٹیکل 158 اور 172 پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم) کے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ صوبوں کو درپیش مسئلے کو بغیر کسی تاخیر کے فوری حل کیا جانا چاہیے۔

سندھ سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی کی سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ گیس کی پیداوار اور تقسیم کے حوالے سے صوبوں اور وفاقی حکومت کی فراہم کردہ معلومات میں بہت فرق ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں سے گیس کی پیداوار اور اس کی تقسیم سے متعلق مکمل اعداد و شمار قائمہ کمیٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

سینیٹ کمیٹی نے جون 2020 میں ایل پی جی کی سب سے بڑی پیداواری کمپنی جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ (جے جے وی ایل) سے معاہدہ منسوخ کرنے کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے گیس کی فراہمی کو روکنے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

جے جے وی ایل کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مقامی ایل پی جی کی پیداوار میں ہر ماہ 9 ہزار میٹرک ٹن کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ایس ایس جی سی اور جے جے وی ایل کے درمیان معاہدہ منسوخ ہونے کی وجہ سے سیلز ٹیکس کی مد میں قومی خزانے کو ماہانہ 17 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔