’کوئی احتیاط نہیں کررہا،شاید ہم اپنا سفر مکمل کیے بغیر ہی لوٹ جائیں‘

اپ ڈیٹ 14 اگست 2020

ای میل

‘نومبر 2019ء سے پہلے والی دنیا ہمیں شاید اب کبھی نہیں مل سکتی۔ ایک ڈر اور خوف دل کو جکڑے ہوئے ہے‘، مری کے ایک ہوٹل میں مقیم لاہور سے تعلق رکھنے والے ملک احمد کمال نے فون پر بتایا۔

‘ہم 5 دوست ہر سال 15 دن کا ٹؤر کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ شمالی علاقہ جات کے کچھ پُر فضا مقامات دیکھ لیں۔ مگر اب ڈر لگ رہا ہے کیونکہ کوئی احتیاط نہیں کررہا۔ یہاں ہر کوئی ماسک کے بغیر ہیں، 6 فٹ کے فاصلے والی بات تو ایک مذاق ہی لگ رہی ہے۔ ہر جگہ لوگ ہجوم کی صورت جمع ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہوٹل کا اسٹاف ضرور ماسک لگائے کام کررہا ہے مگر ایسا لگتا ہے جیسے آنے جانے والے افراد پر اس پابندی کا کوئی اثر نہیں۔ ہوسکتا ہے ہم اپنا سفر مکمل کیے بغیر ہی لوٹ جائیں۔

ثروت سلطانہ ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہیں۔ وہ گرمیوں میں اپنے شوہر اور 2 بیٹیوں کے ساتھ اسکردو، دیوسائی اور استور جاتی ہیں اور یہ ان کا کئی سال پرانا معمول ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ سارے علاقے میرے لیے گھر جیسے ہیں اور جس ہوٹل میں ہم ٹھہرتے ہیں وہاں کے لوگ میرے خاندان جیسے ہیں۔ اپنائیت کا یہ عالم ہے کہ بکنگ کرائے بغیر بھی وہ ہمارے لیے مخصوص کمرے کسی کو نہیں دیتے، لیکن سیاحت کھلنے کے باوجود بھی ہم اس سال نہیں جائیں گے‘۔

ثروت نے فیصلہ کن لہجے میں کہا کہ سرکاری پابندیوں کے باوجود کوئی احتیاط نہیں کررہا۔ ہم میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا پر جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس کے بعد ہمت نہیں ہورہی کہ خود کو اور اپنے پیاروں کو کسی رسک میں ڈالا جائے۔

یہ صرف ملک احمد کمال یا ثروت سلطانہ کی رائے نہیں ہے بلکہ شمال کے پہاڑی علاقوں اور خیبر پختونخوا جانے والے اکثر سنجیدہ سیاحوں کی رائے بھی کچھ ایسی ہی ہے جو حفاظتی اقدامات کو ضروری سمجھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر نظر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ان علاقوں میں لوگوں کا کس طرح رش ہے، جہاں نہ ماسک کی کوئی پابندی ہے اور 6 فٹ کا فاصلہ تو مذاق سے کسی بھی طور پر کم نہیں۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں بلکہ محض چند ماہ پہلے کا ہی قصہ ہے جب پاکستان کورونا وائرس کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا اور دن بدن بڑھتے کیسز اور صحت کا کمزور نظام ملکی معیشت کی کمر توڑنے کے درپے تھا۔ حیران کن طور پر پاکستان میں کم ٹیسٹ کیے جانے کے باوجود مریضوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی اور ایسے میں 80 فیصد تک صحتیابی کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور بل گیٹس نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان کا حوالہ کامیاب مثال کے طور پر دیا ہے۔ اب جبکہ پاکستان کورونا وائرس کی آخری لہر سے نمٹ رہا ہے اور ملک میں فعال کیسوں کی تعداد 17 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے ایسے میں سیاحت کے شعبے کا کھلنا اور لاکھوں لوگوں کا ایک ساتھ ان علاقوں میں بنا کسی حفاظتی اقدامات کے جمع ہونا بہت سے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ ایک عام خیال یہی ہے کہ شاید سیاحت کے شعبے کو کھولنے میں جلدبازی سے کام لیا گیا ہے۔

لیکن نیشنل ٹورازم فاؤنڈیشن کے صدر اور نیشنل ٹورازم ریکوری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین آفتاب رانا اس خیال سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اچانک یا بنا سوچے سمجھے کسی جلد بازی میں نہیں کیا گیا ہے۔ ہم لوگ اس حوالے سے پچھلے 3 ماہ سے کام کررہے تھے اور حکومت نے سیاحت کے شعبے کے تمام فریقوں مثلاً چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے ہوٹل، گھروں میں کھلے ہوئے چھوٹے گیسٹ ہاؤسز اور بڑے ہوٹلوں، اسی طرح چھوٹے بڑے ریسٹورینٹ کے مالکان، پورٹرز اور ٹرانسپورٹرز سے تفصیلی مشاورت کی ہے۔

آفتاب صاحب کا کہنا ہے کہ دکانوں کے مالکان، گائیڈ اور ٹؤر آپریٹرز بھی اس فیصلہ سازی میں شریک تھے۔ اس حوالے سے بے شمار میٹنگز کی گئیں اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے سیاحت کے شعبے کو کھولا گیا ہے۔ ہاں اگر یہ فیصلہ 15جولائی کو کیا جاتا تو شاید صورتحال مختلف ہوتی کیونکہ اس وقت وائرس کا پھیلاؤ اپنے نکتہ عروج سے نیچے نہیں آیا تھا لیکن اس وقت صورتحال مختلف ہے۔

ڈپٹی کمشنر گلگت بلتستان نوید احمد کے آفس سے ہوٹلوں کے لیے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق

  • ہر سیاح کو کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ ساتھ لانی ہوگی جو 7 دن سے پرانی نہ ہو۔ بغیر رپورٹ یا پرانی رپورٹ کے حامل سیاح کو قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔
  • ہوٹل مالکان پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے ہوٹل میں 30 فیصد کمروں کو کورونا کی علامت پائے جانے والوں سیاحوں کے لیے خالی رکھیں اور اس کا کرایہ سیاح ہی ادا کریں گے۔
  • ہوٹل میں داخلے کے وقت سیاحوں کے لیے ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال ضروری ہے۔ لہٰذا تمام ہوٹل مالکان ہوٹل کے داخلی راستوں پر ماسک اور سینیٹائزر کی فراہمی کو یقینا بنائیں۔
  • ہر ہوٹل ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی طرف جاری ہونے والی احتیاطی تدابیر سے متعلق ہدایت پر ہر حال میں عمل درآمد کو یقینی بنائے گا اور مذکورہ بالا ہدایات کو واضح طور پر پوسٹر کی شکل میں شائع کرکے ہوٹل کے نمایاں اور داخلی راستوں پر آویزاں کرنے کا پابند ہوگا۔

اس نوٹیفیکیشن میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو ہوٹل پابندی نہیں کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔

گلگت شہر میں ایک ہوٹل کے مالک نے نام نہ بتانے کی شرط پر اپنی رائے کا اظہار یوں کیا کہ ’اگر حکومت نے ملک بھر میں سفری پابندیاں ختم کردیں اور دیگر سیاحتی مقامات جانے والوں کے لیے کورونا کے ٹیسٹ کی شرط نہیں ہے تو گلگت بلتستان کے لیے کیوں ہے؟ ہمیں خوف ہے کہ اس شرط کی وجہ سے سیاح شاید یہاں نہیں آئیں گے۔ ہم حکومت کے بتائے ہوئے تمام ایس او پیز پر عمل کررہے ہیں مگر سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی شرط کی وجہ سے اکثر سیاح ہوٹلوں کے بجائے کیمپ لگا کر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ ہمارا نقصان ہی ہے‘۔

اس حوالے سے آفتاب صاحب کا کہنا ہے کہ شاید ایک آدھ ہفتے میں گلگت بلتستان کی حکومت بھی کورونا ٹیسٹ کی شرط ختم کردے گی کیونکہ پورے ملک میں کسی بھی علاقے میں جانے کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں لگائی گئی۔

بھشو ویلی کے ایکٹیوسٹ یونس شہزاد کا کہنا ہے کہ سیاحت کے شعبے کو کھولنے سے پہلے مزید غور و فکر ضروری تھا۔ مثلاً گلگت بلتستان میں اس وقت بھی 2 ہزار سے زائد مریض موجود ہیں۔ کورونا کے حوالے سے ان علاقوں میں کچھ ہاٹ اسپاٹ ہیں مثلاً ہنزہ اور کریم آباد میں زیادہ کیسز ہیں۔ لیکن ہم سیاحوں کو ان علاقوں میں جانے سے کیسے روک سکیں گے۔

بابوسر سے گلگلت جانے والے چلاس ہائی وے پر لوگوں کا رش—فوٹو: ٹوئیٹر
بابوسر سے گلگلت جانے والے چلاس ہائی وے پر لوگوں کا رش—فوٹو: ٹوئیٹر

سیاحوں کی کثیر تعداد کے پیش نظر گلگت بلتستان میں صحت کے حوالے سے کیا سہولیات موجود ہیں اس کا اگر جائزہ لیا جائے تو صورتحال کچھ تسلی بخش نظر نہیں آتی۔

یہاں ہم اسکردو سے تعلق رکھنے والی ایک ڈاکٹر عمیمہ فاطمہ آصف کی جانب سے 2017ء میں پیش کی گئی ایک رپورٹ سے اقتباس پیش کرتے ہیں

ڈاکٹر فاطمہ اپنے مقالے میں لکھتی ہیں کہ گلگت بلتستان میں ڈاکٹر اور آبادی کا تناسب بالکل غیر منطقی اور خطرناک ہے۔ مثلاً یہ تناسب 4001 افراد پر ایک ڈاکٹر کا ہے جبکہ قومی شماریات کے اعتبار سے یہ تناسب 1,206 پر ایک ہونا چاہیے۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ضلعی اور تحصیل کی سطح پر کام کرنے والے اور بنیادی صحت کے مراکز سے مقامی لوگوں کو فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ عموماً ان مراکز پر نہ ڈاکٹر ہوتے ہیں اور نہ ہی بنیادی ضروریات کی ادویات موجود ہوتی ہیں۔ کسی ہنگامی حالات میں یہاں سے کوئی مدد ملنا بہت مشکل ہے۔

آفتاب رانا کا کہنا ہے کہ تمام مشکلات اپنی جگہ مگر جب تمام شعبے کھول دیے گئے ہیں تو بالآخر سیاحت کو بھی کھلنا ہی تھا۔ اس صنعت سے براہِ راست 15 لاکھ لوگ وابستہ ہیں اور تقریباً 5 لاکھ لوگ وہ ہیں جو بالواسطہ اس صنعت سے منسلک ہیں۔ ان 4 مہینوں میں لوگ سڑکوں پر آچکے ہیں۔ اربوں کا نقصان ہوچکا ہے۔ یہاں سیزن یعنی گرمیوں میں صرف گلگت بلتستان میں تقریباً 20 لاکھ ملکی سیاح آتے ہیں اور اگر ہر سیاح ہاتھ کھینچ کر بھی خرچ کرے تو فی سیاح 15 ہزار روپے بنتے ہیں اب اندازہ لگالیجیے کہ معیشت اور ان غریب لوگوں کا کتنا نقصان ہوچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلا پورا ہفتہ ہم نے مختلف ہوٹلوں کا جائزہ لینے میں صرف کیا ہے اور میں یہ وثوق سے کہتا ہوں کہ تمام ہوٹلوں نے حکومت کی دی ہوئی گائیڈ لائن کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کی ہوئی ہیں۔ ہدایت نامے نمایاں طور پر ہوٹلوں میں آویزاں ہیں۔ ہوٹل کا تمام اسٹاف ماسک اور دستانے پہن رہا ہے۔ ڈس انفیکشن لوشن کاؤنٹرز پر رکھے ہوئے ہیں۔ بہت سے ہوٹلوں نے تو حفظ ماتقدم کے طور پر آکسیجن سلینڈر بھی منگوا کر رکھ لیے ہیں۔

سیاحوں کے رش کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ 14 اگست کی وجہ سے لوگوں کو ایک ساتھ 3 چھٹیاں مل گئی ہیں اس لیے رش کچھ زیادہ ہوگیا ہے لیکن اس کے بعد ٹھہراؤ آجائے گا۔ اس کے علاوہ 15ستمبر سے اسکول کھل جائیں گے تو اس معاملے میں مزید کمی ہوجائے گی۔

دنیا کی بڑی صنعتوں میں سیاحت کا شمار بھی ہوتا ہے اور اعداد و شمار کے مطابق صرف 2018ء میں عالمی صنعت کا حجم ایک کھرب 45 ارب امریکی ڈالر تھا۔

پاکستان کی سیاحت بھی معیشت میں اربوں روپے کا حصہ ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اس حوالے سے بہت سنجیدہ نظر آتی ہے۔ سال 2020ء کو حکومتِ پاکستان نے ‘سیاحت کا سال’ قرار دیا تھا اور اس کے علاوہ بھی بہت سے مثبت اقدامات کیے گئے تھے، لیکن کورونا کے سبب معاملات میں کچھ تعطل پیدا ہوگیا۔ لیکن حکومت اب بھی یہ امید رکھ رہی ہے کہ اگر سیاحت کی صنعت پر سرمایہ کاری کی جاتی رہی تو اندازے کے مطابق 2025ء تک یہ صنعت ایک کھرب ڈالرز تک ریونیو پیدا کرنے کے قابل ہوجائے گی۔

اسی سلسلے میں ایک قدم پاکستان میں ورلڈ ٹورازم فورم کا انعقاد ہے۔ یہ فورم اسی سال 2020ء میں منعقد ہونا تھا مگر کورونا وائرس کے پیش نظر اسے اب 2021ء میں اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔ اس میں ترکی کے علاوہ 8-D (ترقی پزیر آٹھ ممالک) کے سیاحت کے شعبے سے وابستہ وزرا شامل ہوں گے۔

وزیرِاعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری کی جانب سے میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو کے مطابق یہ فورم پاکستان کی سیاحت پر مثبت اثرات مرتب کرے گا اور اس کے بہت دُور رس نتائج نکلیں گے۔ اس سے پاکستان کی سیاحت دنیا بھر کے سیاحتی ممالک میں ابھر کر سامنے آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹورازم فورم والے روس، قطر، ترکی سمیت کئی یورپی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے روانڈا میں بھی کام کیا ہے اور یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ جس ملک کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں وہاں نہ صرف بھاری سرمایہ کاری آتی ہے بلکہ بڑے نشریاتی ادارے بھی بھرپور دلچسپی لینا شروع کردیتے ہیں جس سے ان ممالک میں سیاحت کو مزید فروغ ملا ہے۔

زلفی بخاری کا دعوٰی ہے کہ اس عالمی سیاحتی فورم کے انعقاد سے اس 5 روزہ فورم کے موقع پر پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی امید ہے اور اس کے علاوہ اس فورم سے اشتہارات اور پروموشن کی مد میں بی بی سی اور سی این این جیسے بڑے نشریاتی اداروں میں 40 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹی وی رائٹس بھی ملیں گے۔

یہاں تک تو سب ٹھیک ہے کہ پاکستان کو سیاحت کے شعبے سے بہت زیادہ مالی فائدے کی امید ہے، لیکن اس بڑھتی سیاحت کی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بھی کوئی سوچ رہا ہے یا نہیں؟

ماحولیات سے متعلق خدشات

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ گنجائش سے زیادہ سیاحوں کی موجودگی کسی بھی سیاحتی مقام کے ماحولیاتی نظام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ قوانین کی عدم موجودگی کے باعث سیاحوں کا عمومی رویہ یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ مخصوص راستوں کے علاوہ بھی گاڑیاں دوڑاتے پھرتے ہیں، جگہ بے جگہ کیمپنگ کرلیتے ہیں، بون فائر کے شوق میں کہیں بھی آگ جلالیتے ہیں جس سے گھاس پھونس کے علاوہ اہم جڑی بوٹیاں اور چھوٹے پودے تباہ ہوجاتے ہیں جن میں سے بہت سوں کو تناور درخت بننا تھا۔

ندی نالوں کے اندر اور کناروں پر کچرا پھینکنا تو ہمارا قومی مشغلہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ اور خطرات بھی ہیں ۔ یو این ڈی پی کے گلیشیائی جھیلوں کے خطرات کے حوالے سے ایک منصوبے سے بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر وابستہ سید زاہد حسین کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے بلندوبالا شمالی پہاڑی خطے اگرچہ خوبصورت سیاحتی مقامات ہیں مگر دراصل یہ حساس ماحولیاتی نظام ہیں اور ان میں بہت زیادہ مداخلت انہیں خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ کسی بھی مخصوص علاقے میں بہت زیادہ گاڑیوں کا پہنچنا فضائی آلودگی کو جنم دیتا ہے جس سے ماحول میں تپش بڑھتی ہے اور صدیوں سے موجود گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دھویں سے گلیشئرز پر بلیک کاربن جم جاتا ہے’۔

جھیل سیف الملوک کسی کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہی ہے—فوٹو: سوشل میڈیا
جھیل سیف الملوک کسی کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہی ہے—فوٹو: سوشل میڈیا

اس کی تصدیق محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول بھی کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کاربن کے بھاری ذرات نشیب میں جا کر گلیشیر کے دامن میں جمع ہوجاتے ہیں۔ سیاہ کاربن کی یہ موٹی تہہ ایک کالی چادر کی طرح عمل کرتی ہے اور برف میں سورج کی روشنی منعکس کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد برف کے ذخائر سورج کی روشنی کو زیادہ جذب کرنے لگتے ہیں اور برف پگھلنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔

سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بلیک کاربن فضا میں موجود گرد کے ذرات سے مل کر گہرے بادل بناتا ہے جو زمین پر آنے والی سورج کی تابکاری کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ پہاڑی سلسلے میں پہنچ کر گردوغبار کے یہ بادل وہاں کا درجہ حرارت بڑھا دیتے ہیں جس سے نہ صرف برف پگھلنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے بلکہ شمال کی طرف جانے والی مون سون ہواؤں پر بھی دباؤ بھی پڑتا ہے۔

دیر کوہستان کا ایک خوبصورت علاقہ کمراٹ ہے وہاں سیاحت کی ترقی کے لیے کام کرنے والے عمران احمد المعروف گمنام کوہستانی نے ایک اور مسئلے کی نشان دہی کہ کہ یہاں آنے والے دریاؤں میں جال لگا کر مچھلی پکڑتے ہیں جس پر پابندی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مچھلی کنڈے سے پکڑ کر شغل میلہ کیا جاسکتا ہے مگر جال سے مچھلی پکڑنا ان وسائل کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن اب تو ایسا لگتا ہے جیسے سیاح خود کو ہر قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

کمراٹ میں سیاحوں کی جانب سے پھیلایا جانے والا کچرا صاف کیا جارہا ہے—فوٹو: سوشل میڈیا
کمراٹ میں سیاحوں کی جانب سے پھیلایا جانے والا کچرا صاف کیا جارہا ہے—فوٹو: سوشل میڈیا

انہوں نے مزید بتایا کہ جن علاقوں میں فور وہیل گاڑی سے جایا جاسکتا ہے وہاں بھی لوگ اپنی کاریں لے آتے ہیں جو ظاہر ہے یہاں کام نہیں کرسکتیں اور اس سے پھر شدید ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔

یاد رہے کہ ان میں سے اکثر علاقے قانونی طور پر نیشنل پارک قرار دیے گئے ہیں توکیا کسی نیشنل پارک میں اتنی بڑی تعداد میں سیاح ایک ساتھ جمع ہوسکتے ہیں؟ انسانوں کی موجودگی اور شور کی آلودگی سے نیشنل پارک کے وسائل خصوصاً جانوراور پرندے توپریشان نہیں ہوں گے نا؟ ہزاروں لوگوں کے لیے وہاں پکنے والا کھانا فضائی آلودگی اور جنگلات کٹنے کا سبب تو نہیں بنے گا؟ فضلہ کہاں جائے گا؟

یاد رہے کہ نیشل پارکس وہ علاقے ہوتے ہیں جہاں فطرت اپنے ارتقائی مدارج قدرتی انداز میں آزادی سے طے کرتی ہے۔ اس عمل میں خلل اندازی کسی بڑے نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

سیاحت کھلنے کے بعد یقیناً لوگ خوش ہیں اور 4 مہینے کے لاک ڈاؤن کے بعد وہ کچھ دیر باہر رہ کر خود کو تازہ دم کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم سب کو اس نازک موڑ پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ ابھی خطرہ صرف کم ہوا ہے مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔