4 ماہ بعد سیاحت بحال ہوتے ہی عوام کی بڑی تعداد نے مری کا رخ کرلیا

ای میل

حکومت پنجاب نے مری اور سترہ ٹول میل پلازہ کے داخلے مقامات پر لگی رکاوٹوں کو 6 اگست کو ہٹادیا تھا— فائل فوٹو: ٹوئٹر
حکومت پنجاب نے مری اور سترہ ٹول میل پلازہ کے داخلے مقامات پر لگی رکاوٹوں کو 6 اگست کو ہٹادیا تھا— فائل فوٹو: ٹوئٹر

مری: ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں نمایاں کمی کے بعد سیاحتی مقامات کھلتے ہی عوام کی بڑی تعداد نے مری اور اس سے ملحقہ علاقوں کا رخ کرلیا۔

تاہم کورونا وائرس کے باعث ان مقامات پر پرسنل پروٹیکٹو ایکوئمپنٹ (پی پی ای) میں ملبوس پولیس کی اضافی نفری اور ٹریفک وارڈنز بھی تعینات ہیں۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث حکومت نے 4 ماہ قبل مری میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیاحت کے شعبے سے سرکاری طور پر عائد پابندی 8 اگست کو ختم کی جانی چاہیے تھی لیکن حکومت پنجاب نے مری اور سترہ ٹول میل پلازہ کے داخلے مقامات پر لگی رکاوٹوں کو 6 اگست کو ہٹادیا تھا۔

جس کے باعث مری کی مختلف سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی اور ہوٹلز میں گنجائش ختم ہوگئی۔

علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر اس اکاؤنٹ کی جانب سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی جس میں بڑی تعداد میں گاڑیوں کی قطار کو مری میں داخل ہونے کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

عید کی تعطیلات کے دوران ہل اسٹیشن میں داخل پر پابندی کے باوجود سیاح مری پہنچ گئے تھے، جبکہ تاجروں اور ہوٹل مالکان نے لاک ڈاؤن ہٹانے پر اطمینان کا اظہار کیا کیونکہ اکثر افراد سیاحت کے شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن بھی ختم، ریسٹورنٹس، بازار، تفریحی مقامات کھولنے کا اعلان

حکومت کی جانب سے سیاحتی مقامات کھولنے کے فیصلے کے بعد راولپنڈی پولیس اور چیف ٹریفک افسر نے مری جانے والے سیاحوں کی حفاظت اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تھے۔

مری میں پی پی ای کے ساتھ پولیس کی اضافی نفری بشمول ٹریفک پولیس تعینات کی گئی ہے۔

راولپنڈی کے سٹی پولیس افسر احسن یونس نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پولیس کو سختی سے ایس او پیز پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سی پی او نے ایس ایس پی آپریشنز طارق ولایت، سی ٹی او راولپنڈی اور ایس پی صدر کو سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کی نگرانی کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے کیسز بھلے کم ہوگئے ہیں لیکن پولیس کی جانب سے ڈیوٹی کے دوران ماسکس اور گلووز پہننے کی احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سیاحت، شادی ہالز، ریسٹورنٹس کھولنے کے حوالے سے فیصلہ جلد کرلیا جائے گا، حماد اظہر

ٹریفک پولیس کے راولپنڈی کے ترجمان نے کہا کہ مری میں عوام کے داخل پر پابندی نافذ کرنے والے 7 پہرے ہٹادیے گئے ہیں جبکہ 96 ٹریفک وارڈنز بشمول 11 انسپکٹرز کو 33 اضافی وارڈنز اور جویئر وارڈنز کے ساتھ تعینات کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب ڈی ایس پی مری سعید اختر، ٹریفک برقرار رکھنے والے ٹریفک اسکواڈ کی قیادت کریں گے، یہ اسکواڈ 3 شفٹوں میں کام کرے گا۔

ٹریفک پولیس اور 125 اضافی پولیس اہلکار سیاحتی سیزن کے اختتام تک تعینات رہیں گے۔

دوسری جانب ٹریفک پولیس نے سیاحوں کی حفاظت اور ان کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے ٹریفک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔