عالمی شہرت یافتہ پاکستانی فلم ساز: جمیل دہلوی

اپ ڈیٹ 15 اگست 2020

ای میل

پاکستان کے واحد فلم ساز، جنہوں نے عالمی سینما میں پاکستان کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا، یہاں تک کہ ہندوستانی فلمی صنعت میں پاکستان کے خلاف بننے والی پروپیگنڈہ فلموں کا بھی دندان شکن جواب دیا اور پاکستان کی تاریخ محفوظ کرنے کے لیے ’جناح’ جیسی یادگار فلم بنائی۔

انہوں نے عالمی سینما میں کمرشل فلموں کی طرف جانے کے بجائے آرٹ فلموں کو اپنا محور بنایا اور آج پوری دنیا اس انفرادیت کی وجہ سے انہیں پہچانتی ہے۔ ان کا نام ‘جمیل دہلوی’ ہے، انہوں نے فلم سازی کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری، اداکاری اور اسکرپٹ نویسی میں بھی خود کو منوایا۔ موجودہ دور میں یہ صرف پاکستان کے ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے آرٹ سینما کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کس طرح زندگی کو فلم سازی کے لیے وقف کیا، اس جنون کی تکمیل میں کیا جدوجہد کی، اس دیوانگی کی معراج تک کیسے پہنچے، کس طرح بین الاقوامی سینما میں اپنی جداگانہ شناخت بنائی، آئیے ان کی زندگی کے اس متحرک منظرنامے کے بارے میں جانتے ہیں اور یومِ پاکستان کے موقع پر بطور پاکستانی ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔

اس موقع پر ہمارا جمیل دہلوی صاحب سے رابطہ بھی ہوا، وہ انگلینڈ میں قیام پذیر ہیں اور ان دنوں لندن سے باہر کسی مضافاتی مقام پر اپنے نئے تخلیقی منصوبے کے سلسلے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اس رابطے پر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

خاندانی و تعلیمی پس منظر

ان کے والد کا نام سمیع اللہ خان اور والدہ کا نام ‘جینویو چانٹرین’ تھا، وہ فرانسیسی تھیں۔ ان کے والد نے سول سروس کا امتحان پاس کیا اور 1938ء میں پہلی پوسٹنگ بنگال میں ہوئی۔

1949ء میں پاکستان کی فارن سروس سے وابستہ ہوئے اور 1950ء میں وزارتِ خارجہ کا حصہ بن گئے۔ 1957ء تک اپنے اسی ادارے کے داخلی امور سے منسلک رہے، پھر 1961ء میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اٹلی گئے۔ اس کے بعد ان کی سفارت کاری کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، جس کے تحت پھر تیونس، مصر، انگلینڈ، آئرلینڈ، فرانس، ماسکو، جرمنی، سمیت کئی دیگر ممالک میں یہ بطور سفیر پاکستان تعینات کیے گئے۔

ان کی اولاد میں سے 2 بیٹے سعید اللہ خان دہلوی اور جمیل دہلوی ہیں۔ بڑے بیٹے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وزارتِ خارجہ سے منسلک ہوئے جبکہ چھوٹے بیٹے جمیل دہلوی نے فلم سازی کا انتخاب کیا۔

جمیل دہلوی 18 اگست 1944ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کلکتے میں پیدا ہوئے۔ والد چونکہ سفارت کار تھے اور ان کا تبادلہ مختلف ممالک میں ہوتا تھا، اسی لیے انہوں نے بھی مختلف ممالک کی ثقافت اور معاشرت کو بہت قریب سے دیکھا۔ والدہ کا تعلق فرانس سے تھا، اس لیے فطری طور پر فرانسیسی ثقافت سے بہت قریب رہے۔

مختلف ممالک میں رہنے اور مغربی ماحول میں پرورش کی وجہ سے ان کو اردو سمیت کئی زبانوں پر عبور حاصل ہے، جن میں فرانسیسی، اطالوی، انگریزی اور ہسپانوی زبانیں شامل ہیں۔ انہوں نے کراچی گرامر اسکول سے بنیادی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے مختلف تعلیمی اداروں سے مستفید ہوئے، جن میں انگلینڈ کی اوکسفرڈ یونیورسٹی بھی شامل ہے۔ سوشل سائنسز اور وکالت پڑھی، لیکن دل صرف فلم کی پڑھائی میں ہی لگا۔ فلم اسٹڈیز میں امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

ان کے والد چاہتے تھے، یہ کسی ایسے پیشے کو اختیار کریں جس میں مالی طور پر مستحکم بھی ہوں، لیکن ان کی پہلی محبت مصوری تھی، اسی لیے ان کا دل چاہتا تھا کہ یہ پیرس اور روم جائیں، مگریہ نہ ہوسکا۔ پھر وکالت کی پریکٹس بھی نہ کی اور آخر کار اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکا فلم پڑھنے چلے گئے۔

ان کو لگتا تھا کہ فلم کا میڈیم ایسا ہے، جس میں سارے آرٹس یعنی فنونِ لطیفہ اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ کمرشل سینما کی بجائے آرٹ سینما کو اپنایا اور آزاد فلم ساز کی حیثیت سے مصروف ہوگئے، حتیٰ کہ ان کو فلمیں بناتے ہوئے کئی مرتبہ مالی طور پر مشکلات کا سامنا بھی رہا، مگر یہی کام ان کے ذوق کی تسکین کا باعث بھی تھا۔

انہوں نے کبھی ہار نہ مانی اور اپنے نظریاتی محاذوں پر بھی ڈٹے رہے۔ انہیں جدید سینما کی تفہیم بہت زیادہ ہے، اسی کے مطابق فلمیں بناتے ہیں۔ معروف مغربی نظریاتی تحریک ‘سررئیلزم’ کے اثرات ان کی فلموں میں جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ اسی نظریاتی گہرائی کی وجہ سے انہوں نے جب 80 کی دہائی میں اپنی دوسری فیچر فلم اور پاکستانی تناظر میں پہلی فلم ’دی بلڈ آف حسین’ بنائی تو اس پر پاکستان میں پابندی لگ گئی، صرف یہی نہیں بلکہ ان کو پاکستان سے بذریعہ افغانستان اپنی جان بچا کر انگلینڈ جانا پڑا۔

اس خود ساختہ جلاوطنی میں بھی ان کی دیوانگی کا مرکز فلموں کی تخلیق تھی، ایک ایک کرکے یہ اپنے سارے تخلیق چراغ روشن کرتے گئے اور آج جدید سینما میں اس پاکستانی فلم ساز کا نام معیار اور انفرادیت کی ضمانت ہے۔ چونکہ ان کی والدہ فرانسیسی تھیں اس لیے یہ چاہتے تو بڑے مزے سے فرانس کے پس منظر میں پوشیدہ ہوجاتے یا وہاں کے سماج سے خود کو جوڑ لیتے، لیکن یہ دنیا میں جہاں بھی رہے، ان کی فلموں اور توجہ کا مرکز پاکستان ہی رہا۔ یہ خود کو پاکستانی ہی مانتے ہیں۔ انہوں نے کئی پاکستانی فنکاروں کو بھی اپنی فلموں میں موقع دیا، جس سے ان کا کیرئیر بین الاقوامی سینما کے تناظر میں مستحکم ہوا۔

بطور کیرئیر فلم سازی کی ابتدا

امریکا میں دورانِ تعلیم انہوں نے کئی مستند ماہرینِ فلم سے تربیت حاصل کی، جن میں معروف امریکی اداکارہ اور مدرس ’سٹیلا ایڈلر’ بھی شامل ہیں۔ ان کے ساتھ اداکارانہ تربیت حاصل کرنے سے ان کو فلم سازی کے بنیادی رموز سے بھی واقفیت ہوئی۔ اسی زمانے میں بطور پروڈیوسر پہلی دستاویزی فلم ’دی گٹار’ بنائی۔ اس کے بعد اپنی پہلی فیچر فلم ’ٹاور آف سائلنس’ بنائی۔ یہ 70 کی دہائی کی بات ہے، اس فلم نے امریکا کے کئی فلمی فیسٹیولز میں ایوارڈز بھی حاصل کیے۔ یہیں سے ان کا حوصلہ بلند ہوا اور انہوں نے سوچا کہ پاکستانی ثقافت و سماجیات کے لیے بھی فلمیں بنانی چاہئیں۔

اس پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے 1980ء میں اپنی دوسری فلم ’دی بلڈ آف حسین’ بنائی، جس کا مرکزی خیال استحصالی قوتوں کے خلاف آوازِ حق بلند کرنا تھا۔ اس فلم میں اسلامی تاریخ کے ایک اہم ترین واقعہ کو بطور تمثیل استعمال کیا گیا۔

یہ پاکستان میں جمہوریت پر شب خون مارنے والے مارشل لا کے خلاف ایک پاکستانی فلم ساز کا احتجاج تھا، جس کو فلم کے طور پر انہوں نے ریکارڈ کروایا، اسی لیے سابق آمر ضیا الحق کی طرف سے اس پر پابندی بھی لگائی گئی تھی۔ یہ پہلی پاکستانی فلم تھی، جس کو فرانس کے معروف فلمی میلے ’کیننز فلم فیسٹیول’ میں منتخب بھی کیا گیا اور اٹلی کے فلمی میلے ’تورمینا فلم فیسٹیول’ میں ایک اعزاز اپنے نام کیا۔

بطور فلم ساز بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک

جمیل دہلوی نے مختلف عالمی اداروں کے ساتھ مل کر بھی کئی تخلیقی منصوبوں پر کام کیا، جن میں انگلینڈ کے 2 بڑے نشریاتی اداروں بی بی سی اور چینل فور کے تخلیقی منصوبے شامل ہیں۔ پھر اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں کے لیے بھی کچھ عرصہ اپنی خدمات فراہم کیں۔

اس کے علاوہ ماضی میں پاکستان کے سرکاری سطح کے ثقافتی ادارے ’نیفڈیک’ سے بھی وابستہ رہے، کچھ عرصہ بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر کراچی میں قائم ایک نجی یونیورسٹی میں فلم کی تدریس سے بھی وابستہ رہے۔ دنیا بھر میں مختلف جامعات میں لیکچرز دینے کا سلسلہ اس کے علاوہ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ’برٹش فلم انسٹیٹیوٹ’ نے ان کی فلموں کے حوالے سے ایک نمائش کا اہتمام کیا، جس میں کئی روز تک ان کی فلمیں دکھائی گئیں اور ان سے اس موقع پر مکالمہ بھی کیا گیا۔

‘دی جناح سوسائٹی’ اور پاکستانی فیچر فلم ‘جناح’

پاکستان کے شہر کراچی میں ہی قائم ’دی جناح سوسائٹی’ نے ان کے لیے عطیات جمع کیے۔ اس سوسائٹی کے روح رواں قائدِاعظم محمد علی جناح کے سگے اور حقیقی رشتے دار، پاکستان کے معروف وکیل ’لیاقت مرچنٹ’ ہیں۔ انہوں نے جمیل دہلوی کی ہدایات میں بنائی جانے والی فلم میں عطیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کوششوں میں سابق سفارت کار اور معروف دانشور اکبر ایس احمد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے جمیل دہلوی کے ساتھ مل کر فیچر فلم ’جناح’ کا اسکرپٹ لکھا اور پاکستان میں اس فلم کی عکس بندی کے لیے جمیل دہلوی کی معاونت کی۔ 1998ء کو یہ فلم انگلینڈ اور پاکستان میں ریلیز کے لیے پیش کی گئی، جس کو انگریزی اور اردو زبانوں میں پیش کیا گیا تھا۔

اس فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار تو جمیل دہلوی ہی تھے، مگر اداکاروں میں سب سے اہم اور قائدِاعظم محمد علی جناح کا مرکزی کردار نبھانے والے معروف برطانوی اداکار ’کرسٹوفر لی’ تھے۔ ان کے علاوہ جن برطانوی، بھارتی اور پاکستانی اداکاروں نے فلم میں کام کیا، ان میں ششی کپور، اندر ورما، جیمز فوکس، رچرڈ لنٹرین، ماریہ ایٹکن، شکیل، شیریں شاہ، طلعت حسین، خیام سرحدی اور دیگر شامل تھے۔ تکنیکی اور پروڈکشن کا بہت سارا عملہ بھی غیر ملکی تھا اور سب نے اپنے اپنے کام کے ساتھ انصاف کیا، تب ہی یہ فلم متاثر کن ثابت ہوئی۔

برطانوی اداکار کرسٹوفر لی کے انتخاب پر ایک اعتراض یہ تھا کہ انہوں نے برطانوی سینما میں کچھ منفی نوعیت کے کردار نبھائے تھے، اس لیے ابتدا میں ہدایت کار نے ان کے کسی متبادل کو فلم میں شامل کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی ایسا اداکار نہ مل سکا، جو اس کردار کے ساتھ انصاف کرتا، یوں پھر کرسٹوفر لی کو ہی فلم میں شامل کیا گیا کیونکہ ان کے ظاہری خدوخال اور کردار کو سمجھنے کی شاندار اہلیت کسی اور میں نہیں تھی اور انہوں نے یہ کردار نبھاتے ہوئے اس فیصلے کے درست ہونے کو ثابت بھی کیا، بلکہ وہ خود بھی اس کارکردگی کو اپنے کیرئیر کی بہترین اداکاری مانتے تھے۔

دیگر بھارتی اور برطانوی اداکاروں نے بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہر کیا، لیکن پاکستانی اداکاروں شکیل، خیام سرحدی، سہیل ملک اور طلعت حسین نے بھی اپنی اداکاری سے فلم بینوں کو بہت متاثر کیا۔

فلم میں صداکاری کے لیے بھی بھارتی اداکار ششی کپور نے اپنی آواز کا جادو جگایا تھا، جبکہ اپنی اداکاری سے بھی فلم کے منظرنامے کو مضبوط کیا تھا۔ فلم کی موسیقی معروف برطانوی موسیقار ’نگل کلارک’ نے دی تھی، جبکہ اس فلم کے مرکزی گیت میں پاکستان کے معروف بینڈ جنون نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔

سلمان احمد کی دھن تھی، علی عظمت اور ثمینہ احمد نے گایا اور گیت کی شاعری صابر ظفر کی تھی۔ فلم کی سینماٹو گرافی ’نیکلس ڈی نولڈ’ نے کی جبکہ ایڈیٹرز ’رابرٹ ایم ریٹائنو’ اور ’پاؤل ہوڈگسن’ تھے۔ 110 منٹوں کی یہ فلم ناظرین کو اپنے سحر میں مسحور کیے رکھتی ہے، یہی وہ کمال ہنر ہے، جو جمیل دہلوی نے سینما کی اسکرین پر جگایا اور سب کو حیران کردیا۔ بقول جمیل دہلوی ’میں نے اس فلم میں جناح صاحب کو ایک عام آدمی کی طرح دکھانے کے کوشش کی ہے۔ ایک ایسا قائد جو عام آدمی کی طرح جذبات و احساسات کے مالک بھی تھے‘۔

جمیل دہلوی کی دیگر فیچر اور دستاویزی فلمیں

انہوں نے ابھی تک جو فیچر اور دستاویزی فلمیں بنائیں ہیں، اس ترتیب کے مطابق کل فلموں کی تعداد 13 ہے، جبکہ یہ بطور پروڈیوسر 13 فلموں میں شریک رہے۔ ہدایت کار کی حیثیت سے 12 اور کہانی نویس کے طور پر 11 فلموں میں شمولیت اختیار کی۔ 6 فلموں میں اداکاری کی اور 6 ہی فلموں کے لیے بطور ایڈیٹر اپنے فرائض انجام دیے۔

سینماٹو گرافی کے تناظر 4 فلموں میں کام کیا جبکہ ایک ایک فلم میں میوزک اور پروڈکشن ڈیزائن کے شعبے میں بھی کام کیا۔ 2 دستاویزی فلموں میں بھی دکھائی دیے۔ ان کی فلموں نے دنیا بھر کے فلمی میلوں میں ایوارڈز حاصل کیے، لیکن حیرت ہے، جناح جیسی اہم فلم کو کبھی آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد نہیں کیا گیا، جبکہ وہ بین الاقوامی سینما کے تمام تقاضے پورے کر رہی تھی۔

ان کی دیگر فلموں میں جدید سینما کے کئی بڑے اور اہم رجحانات بھی شامل تھے، اس کے باوجود اس طرح کے ایوارڈز کے لیے نامزد نہ ہونا ایک حیرت انگیز بات تھی۔ مگر جمیل دہلوی کبھی کسی ناانصافی کا شکوہ کرتے دکھائی نہیں دیے۔ وہ سادہ اور فقیرانہ مزاج کے حامل ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پوری دنیا میں منعقد ہونے والے مختلف فلمی میلوں میں ان کی فلمیں لگاتار اعزازات اپنے نام کرتی رہی ہیں۔ یہاں جمیل دہلوی کی فلموں کے ناموں کی فہرست درج ذیل ہے، ان میں سے کچھ فلمیں بشمول ‘جناح’ یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔

  • بلڈ منی (2016)
  • سیون لکی گوڈز (2014)
  • گوڈ فورساکن (2010)
  • انفینٹی جسٹس (2006)
  • جناح (1998)
  • پیشن اِن دی ڈیزرٹ (1997)
  • پاس اُوور (1995)
  • ایمیکیولیٹ کونسیپشن (1992)
  • بورن آف فائر (1987)
  • کیواے ایف۔ دی سیکرڈ ماءونٹین (1985)
  • دی بلڈ آف حسین (1980)
  • ٹاور آف سائلنس (1975)
  • دی گٹارسٹ (1973)

اب شنید ہے، رواں برس جمیل دہلوی اپنی نئی فلم پاکستان میں شوٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، بلکہ اس کی عکس بندی اب تک شروع بھی ہوچکی ہوتی، لیکن کورونا کی وبا نے اس کی عکس بندی کو بھی روک دیا۔ دیکھیں، اب جلد اس فلم کی عکس بندی مقامی فنکاروں کے ساتھ شروع ہوجائے گی۔ اس فلم کے ذریعے پاکستانی فلمی صنعت کی بحالی میں مزید اضافہ ہوگا۔

اعتراف نامہ

رواں برس 74واں یومِ آزادی ہے، قیامِ پاکستان کے 73 سال مکمل ہوئے۔ 11 ستمبر 2000ء کے بعد سے دنیا میں پاکستان کا تشخص پہلے سے بہتر ہورہا ہے، مثبت اور روشن پہلو اجاگر ہو رہے ہیں، ملک کا مثبت حوالہ بننے والی شخصیات میں سے، آج ایک شخصیت جمیل دہلوی کا ہم نے انتخاب کیا۔ وہ دنیا بھر میں پاکستان کے ثقافتی سفیر ہیں، ہم پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ان کی زندگی ہی میں ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

یہ روایت ہمارے ہاں دم توڑ رہی ہے کہ ہم کسی کی زندگی میں ہی اس کی محنت اور ریاضت کو مان لیں، آج کی تحریر اسی روایت کے اعادے کی ایک کوشش ہے۔ اپنے اس شاندار فلم ساز کے لیے دلی ممنون ہوں، جس نے کم از کم ہمیں ایک ایسی فلم دے دی، جس کو پوری دنیا میں فخر کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں اور اس فلم کے ٹائٹل گیت کو سنیں، دل کو کیسے گرماتا ہے۔ جمیل دہلوی آپ کا بہت بہت شکریہ۔

جنوں سے اور عشق سے ملتی ہے آزادی

قربانی کی بانہوں میں ملتی ہے آزادی