آکسفورڈ کی زندگی کا اختتام ویسے نہیں ہوا جیسے میں نے سوچا تھا، ملالہ

اپ ڈیٹ 13 اگست 2020

ای میل

ملالہ یوسف زئی کو جون میں گریجوئیشن کی ڈگری دی گئی تھی—فوٹو: وینٹی فیئر
ملالہ یوسف زئی کو جون میں گریجوئیشن کی ڈگری دی گئی تھی—فوٹو: وینٹی فیئر

رواں برس جون میں برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجوئیشن کی تعلیم مکمل کرنے والی 22 سالہ ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ ان کی یونیورسٹی کی زندگی کا اختتام ویسے نہیں ہوا، جیسے انہوں نے سوچا تھا۔

گریجوئیشن کی ڈگری حاصل کرنے کے 2 ماہ بعد دنیا کی کم عمر ترین امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی سماجی رہنما ملالہ یوسف زئی نے لائف اینڈ اسٹائل میگزین وینٹی فیئر میں اپنا مضمون لکھا، جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی زندگی کے بارے میں کھل کر بات کی۔

ملالہ یوسف زئی نے اپنے مضمون میں اعتراف کیا کہ ان کی آکسفورڈ کی زندگی کا اختتام اس طرح نہیں ہوا، جس طرح انہوں نے سوچا تھا۔

مضمون میں انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے ہر دن کو انجوائے کریں گی اور یونیورسٹی کی ہر گلی، ہر موڑ اور ہر کیفے گھومیں گی۔

ملالہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں 2017 میں داخلہ لیا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
ملالہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں 2017 میں داخلہ لیا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

ملالہ یوسف زئی کے مطابق انہوں نے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ وہ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران آکسفورڈ کے ہر خوبصورت گارڈن میں جاکر تصاویر بنائیں گی، ہر کیفے میں جاکر چائے اور کولڈرنکس پئیں گی اور ہر ڈائننگ ہال میں جاکر کھانا کھائیں گی مگر افسوس ایسا نہیں ہوسکا۔

نوبل انعام یافتہ سماجی رہنما نے لکھا کہ اگرچہ ان کی یونیورسٹی کی زندگی کا اختتام ویسے نہیں ہوا، جیسے انہوں نے سوچا تھا مگر پھر بھی ان کی زندگی کا یہی وقت سب سے یادگار اور بہترین ہے، کیوں کہ اسی دوران وہ 140 ممالک کے ساتھی طلبہ سے ملیں اور انہوں نے اپنے وطن کے طلبہ سمیت دیگر اچھے نوجوان ساتھیوں کے ساتھ یادگار وقت گزارا۔

یہ بھی پڑھیں: ملالہ یوسف زئی نے آکسفورڈ سے تعلیم مکمل کرلی

ملالہ یوسف زئی نے اپنی گریجوئیشن کی تقریب ورچوئل ہونے پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ اس طرح ڈگری حاصل کرنے والی اکیلی لڑکی نہیں بلکہ اس سال وبا کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کی زندگی تبدیل ہوئی۔

انہوں نے لکھا کہ ابتدائی طور پر وہ ایسٹر کی چھٹیوں کے وقت 2 ہفتوں کے لیے گھر گئی تھیں مگر پھر وہ کئی ماہ تک وہیں رہنے پر مجبور ہوگئیں کیوں کہ دنیا میں کورونا کی وبا پھیل گئی۔

ملالہ نے آکسفورڈ میں گزرے لمحات کی یادوں پر امریکی میگزین میں مضمون لکھا—فوٹو: وینٹی فیئر
ملالہ نے آکسفورڈ میں گزرے لمحات کی یادوں پر امریکی میگزین میں مضمون لکھا—فوٹو: وینٹی فیئر

ملالہ یوسف زئی نے لکھا کہ انہوں نے گریجوئیشن کی باقی کلاسز آن لائن لیں اور اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر امتحان دیا اور ورچوئل تقریب کے ذریعے ڈگری حاصل کی۔

اپنے مضمون میں انہوں نے نوجوانوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ دنیا بھر میں نوجوان اور خصوصی طور پر نوجوان لڑکیاں دنیا کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ نئی نسل دنیا کو بہتر بنانے میں مثبت انداز میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیں: ملالہ یوسفزئی کا آکسفورڈ یونیورسٹی میں وقت کیسا گزرا؟

خیال رہے کہ ملالہ یوسف زئی نے محض 17 سال کی عمر میں امن کا نوبل انعام حاصل کیا تھا، علاوہ ازیں انہوں نے کم عمری میں متعدد نمایاں اعزاز و ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔

ملالہ یوسف زئی کو اگست 2017 میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ ملا تھا اور انہوں نے فلسفہ، سیاست اور معاشیات کے مضامین کا انتخاب کیا تھا۔

گزشتہ تین سال میں وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تھیں اور رواں سال کورونا کی وبا کے باعث ان کی یونیورسٹی سمیت دنیا کی بڑے یونیورسٹیز نے گریجوئیشن کی تقریبات کا انعقاد نہیں کیا تھا۔

اگرچہ ملالہ یوسف زئی نے گریجوئیشن مکمل کرلی ہے تاہم تاحال انہوں نے مزید تعلیم حاصل کرنے یا اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی کہ اب وہ کیا کریں گی؟

ملالہ نے آکسفورڈ کے دنوں کو زندگی کے یادگار دن بھی قرار دیا—فائل فوٹو: انسٹاگرام
ملالہ نے آکسفورڈ کے دنوں کو زندگی کے یادگار دن بھی قرار دیا—فائل فوٹو: انسٹاگرام