بھارت کے سینئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی، ایل او سی فائرنگ پر احتجاج

اپ ڈیٹ 14 اگست 2020

ای میل

فائل/فوٹو: اے پی
فائل/فوٹو: اے پی

آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان نے بھارتی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرادیا۔

ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سینئر بھارتی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان نے 12 اگست کو ایل او سی پر کی گئی سیز فائر کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا جس میں دو معصوم شہری زخمی ہو گئے تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر جنڈروٹ سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں گاؤں فن جوٹ کی رہائشی 40 سالہ شکیلہ بی بی اور 12 سالہ عائشہ زخمی ہوگئی تھیں۔

مزیدپڑھیں: ایل اوسی: بھارتی فوج کی بلااشتعال شیلنگ، خاتون جاں بحق، 9 کشمیری زخمی

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی قابض فورسز ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں شہری آبادی کو آرٹلری فائر، مارٹرز اور خودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔

بیان کے مطابق بھارت نے رواں برس ایک ہزار 961 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں 16 شہادتیں ہوئیں اور160 معصوم شہری شدید زخمی ہوئے۔

دفتر خارجہ نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فائرنگ واضح طور پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ فوجی قواعد کے بھی خلاف ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز ایل او سی پر مسلسل معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں کشیدگی میں اضافہ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورت حال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرے اور جان بوجھ کر خلاف ورزی کے ان واقعات کی تفتیش کرے۔

مزیدپڑھیں: بھارت کی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ، ایک لڑکی جاں بحق، 6 افراد زخمی

اس سے قبل 8 اگست کو بھی بھارتی فوج نے ایل او سی پر آزاد کشمیر کے دو اضلاع میں بلااشتعال شدید شیلنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور دیگر 9 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے وادی لیپا کے مختلف گاؤں میں صبح 4 بجے سے ہی شیلنگ شروع کردی تھی، جس میں مارٹر گولوں اور آرٹلری کا استعمال کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فاروق حیدر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ بھارتی فوج کی وحشت روزانہ کی بنیاد پر ایل او سی سے ملحق آزاد کشمیر کے علاقوں میں معصوم شہریوں کی جانیں لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ درندے معصوم اور غیر مسلح شہریوں کی اموات اور زخموں سے خوش ہوتے ہیں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری مزید وقت ضائع کیے بغیر نوٹس لے'۔

یاد رہے کہ بھارتی فوج نے 13 جولائی کو ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوئی تھیں۔

اس سے قبل 6 جولائی کو ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 5 شہری زخمی ہوگئے تھے۔

بھارتی فوجیوں نے ایل او سی پر نکیال سیکٹر میں رات گئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھیں: ایل او سی: بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے 2 خواتین زخمی

اس سے ایک روز قبل یعنی 5 جولائی کو ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوگیا تھا۔

اسی طرح 25 جون کو ایل او سی کے کریلا سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ سے خاتون زخمی ہوگئی تھیں۔

خیال رہے کہ 16 جون کو بھارتی فوج نے ایل او سی سے ملحق بگسر سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کرک شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک شہری زخمی ہو گیا تھا۔

مزید یہ کہ بھارتی فوج نے 12 جون کو بھی آزاد جموں و کشمیر کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں بزرگ خاتون جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔

علاوہ ازیں آزاد جموں کشمیر کے سیکریٹری شہری دفاع اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ سید شاہد محی الدین قادری نے بتایا تھا کہ رواں سال بلا اشتعال فائرنگ سے جاں بحق شہریوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ دشمن کی گولہ باری سے 25 مکانات اور 8 دکانیں بھی تباہ بھی ہو چکی ہیں اور 227 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کے علاوہ 87 مویشیوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔