فیس بک اب براہ راست ٹک ٹاک کے مقابلے کے لیے تیار

15 اگست 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ گزشتہ سال واضح کرچکے ہیں کہ انہیں ٹک ٹاک پسند نہیں.

درحقیقت ٹک ٹاک کی مقبولیت بھی اتنی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے کہ فیس بک کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔

اگرچہ اس وقت چینی اپلیکشن کو اس وقت مختلف ممالک میں اپنے آپریشنز جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے مگر اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔

آن لائن کمپنی سنسر ٹاور کے مطابق 2019 میں ٹک ٹاک کو 73 کروڑ 80 لاکھ سے زائد بار ڈاﺅن لوڈ کیا گیا اور اس حوالے سے اس نے فیس بک، میسنجر اور انسٹاگرام تینوں کو شکست دی۔

یہی وجہ ہے کہ اب فیس بک نے اسے پیچھے چھوڑنے کے لیے پہلے انسٹاگرام میں ریلز کے نام سے ٹک ٹاک کلون متعارف کرایا اور اب اپنی مین ایپ پر بھی اس سے ملتے جلتے فیچر پر کام شروع کردیا ہے۔

ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک نے تصدیق کی ہے کہ وہ بھارت میں مرکزی بلیو ایپ (فیس بک ایپ) میں مختصر ویڈیو کی آزمائش کررہی ہے۔

بھارت فیس بک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور وہاں مختصر ویڈیوز کی آزمائش بھی قابل فہم ہے کیونکہ وہاں ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہوچکی ہے۔

موجودہ شکل میں ان شارٹ ویڈیوز کے لیے نیوزفیڈ میں ایک سیکشن مختص کیا جارہا ہے اور اوپر کریئٹ بٹن ہوگا جس پر کلک کرنے پر فیس بک کیمرا لانچ ہوگا اور صارفین ویڈیوز میں براؤز کرسکیں گے۔

فیس بک کے ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ ہم ہمیشہ نئے تخلیقی ٹولز کی آزمائش کرتے رہتے ہیں تاکہ جان سکیں کہ لوگ کس طرح اپنی ذات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، مختصر ویڈیوز انتہائی مقبول فارمیٹ ہے اور ہم لوگوں کو فیس بک پر مواد بنانے اور شیئر کرنے کے لیے نیا تجربہ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے اس نئے ٹیسٹ کی موجودگی کا سب سے پہلے انکشاف کیا تھا۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ فیس بک کی جانب سے بھارت میں ٹک ٹاک کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے جس پر وہاں جون میں پابندی عائد کی گئی تھی۔

فیس بک نے گزشتہ ماہ انسٹاگرام ریلز کو وہاں متعارف کرایا (جو اب دنیا بھر میں متعارف کرایا جاچکا ہے)۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹک ٹاک پر پابندی کے بعد سے بھارت میں فیس بک سروسز کے حوالے سے صارفین کی انگیج منٹ میں 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

یوٹیوب کی جانب سے اس سے ملتا جلتا ایک فیچر متعارف کرانے پر کام ہورہا ہے جو فی الحال آزمائشی مراحل میں ہے۔

فیس بک کی جانب سے جلدبازی اس لیے بھی کی جارہی ہے کیونکہ ٹک ٹاک کی جانب سے اس مارکیٹ دوبارہ قدم رکھنے کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

بائیٹ ڈانس (ٹک ٹاک کی ملکیت رکھتنے والی کمپنی) کی جانب سے ریلائنس انڈسٹریز سے ٹک ٹاک کے مقامی بزنس فروخت کرنے کے مذاکرات کیے جارہے ہیں۔

فیس بک کو ٹک ٹاک کے مقابلے میں امریکی حکومت کا ساتھ بھی حاصل ہے کیونکہ امریکی حکام کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے کام کیا جارہا ہے اور اسے امریکی آپریشنز کسی مقامی کمپنی کو 15 ستمبر تک فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ چینی کمپنی بائیٹ ڈانس نے 2017 میں ایک ارب ڈالرز کے عوض ایپ میوزیکلی کو خریدا تھا اور پھر اسے ٹک ٹاک میں بدل دیا (فیس بک نے بھی اسے خریدنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی)، جو بہت تیزی سے دنیا بھر میں مقبول ہوئی۔

مارک زکربرگ کی جانب سے بائیٹ ڈانس کی اسکروٹنی کا مطالبہ کیا جاچکا ہے اور ان کا کہنا تھا 'ہماری سروسز جیسے واٹس ایپ کو مظاہرین اور سماجی کارکنوں کی جانب سے دنیا بھر میں انکرپشن اور پرائیویسی تحفظ کی وجہ سے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ٹک ٹاک جو دنیا میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مظاہروں کو سنسر کرتی ہے، یہاں تک کہ امریکا میں بھی'۔