کراچی: ڈیفنس میں 'گھریلو تنازع' پر خاتون ڈاکٹر کی 'خودکشی'

اپ ڈیٹ 19 اگست 2020

ای میل

ڈیفنس میں ہی رکشہ ڈرائیور نے خودسوزی کرلی—فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈیفنس میں ہی رکشہ ڈرائیور نے خودسوزی کرلی—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: پولیس نے کہا ہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں ایک خاتون ڈاکٹر نے خودکشی کرلی۔

ڈی ایچ اے فیز 4 میں پیش آئے اس واقعے سے متعلق پولیس کا کہنا تھا کہ 24 سالہ ڈاکٹر ماہا علی شاہ نے کچھ گھریلو تنازع پر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) کلفٹن عمران مرزا کا کہنا تھا کہ منگل کی رات کو خاتون ڈاکٹر نے خود اپنے سر پر گولی ماری، جس کے بعد انہیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کراچی: ماں نے 3 بچوں کو زہر دے کر خودکشی کرلی

اس حوالے سے جے پی ایم سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ جب نوجوان ڈاکٹر کو ہسپتال لایا گیا تو ان کی حالت تشویشناک تھی اور وہ ایک گھنٹے بعد چل بسیں۔

ایس پی عمران مرزا کا کہنا تھا کہ مرنے والی خاتون ڈاکٹر کلفٹن میں ساؤتھ سٹی ہسپتال میں کام کرتی تھیں جبکہ ان کا تعلق میرپورخاص سے تھا جہاں تدفین کے لیے ان کا جسد خالی لے جایا گیا۔

خودکشی کے پیچھے ممکنہ محرکات پر ایس پی کلفٹن کا کہنا تھا کہ منگل کی شام کو کچھ گھریلو معاملے پر والد اور بیٹی کے درمیان مبینہ طور پر جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد نوجوان ڈاکٹر نے خود کو کمرے میں بند کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں پولیس نے جائے وقوع سے 9 ایم ایم پستول برآمد کرلی۔

ڈیفنس میں ہی رکشہ ڈرائیور کی 'خودسوزی'

دوسری جانب ڈی ایچ اے کے فیز 5 میں ایک رکشہ ڈرائیور نے خود سوزی کرلی۔

گزری پولیس کے مطابق منگل کی رات کو ڈی ایچ اے فیز 5 میں ایک 30 سالہ رکشہ ڈرائیور نے کچھ گھریلو مسائل پر خودسوزی کی۔

انہوں نے بتایا کہ محمد احمد نے خود کو آگ لگاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا، متوفی نے خیابان بدر پر سلطان مسجد کے قریب جسم پر تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا دی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: بیروزگاری، غربت سے تنگ آکر چار بچوں کے باپ کی خودکشی

ان کے مطابق رکشہ ڈرائیور کو جلنے سے کافی زخم آئے تھے جسے ڈاکٹر روتھ فاؤ سول ہسپتال کراچی کے برن واڈ منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔

اس بارے میں ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ خود سوزی سے قبل محمد احمد کا مبینہ طور پر اپنی اہلیہ سے جھگڑا ہوا تھا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ممکنہ طور پر کچھ گھریلو معاملات اس طرح کا قدم اٹھانے کی وجہ بنے۔

پولیس کے مطابق مرنے والے رکشہ ڈرائیور کا تعلق رحیم یار خان سے تھا۔