زمین کے انتہائی قریب سے خاموشی سے گزر جانے والا سیارچہ

19 اگست 2020
ایک سیارچے کا خاکہ یہ وہ نہیں جو 16 اگست کو زمین کے قریب سے گزرا — فوٹو بشکریہ ناسا
ایک سیارچے کا خاکہ یہ وہ نہیں جو 16 اگست کو زمین کے قریب سے گزرا — فوٹو بشکریہ ناسا

سائنسدان ہماری زمین کی جانب بڑھنے والے یا قریب سے گزرنے والے سیارچوں کے راستوں کی ٹریکنگ کا کام بخوبی کرتے ہیں مگر کئی بار چھوٹے خلائی اجسام خاموشی سے بالکل قریب سے گزر جاتے ہیں۔

ایسا کچھ گزشتہ دنوں ہی ہوا جب ایک سیارچہ 2020 کیو جی زمین کے انتہائی قریب سے گزرا اور اس کا انکشاف اسی وقت ہوا جب ہمارے سیارے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔

زمین کے قریب خلائی اجسام کی مانیٹرنگ کا کام کرنے والے یورپین اسپیس ایجنسی (ای ایس اے) نیو کوآرڈنیشین سینٹر کی جانب سے 18 اگست کو بیان جاری کیا گیا جس کے مطابق یہ ہماری زمین سے ٹکرائے بغیر سب سے قریب آجانے والا سیارچہ تھا۔

یہ سیارچہ زمین کی جانب 16 اگست کو بڑھا تھا اور اسی دن Zwicky Transient Facility نے اسے دیکھا، جو اسی طرح کی چیزوں پر نظر رکھتا ہے۔

یہ سیارچہ زمین سے محض 1860 میل کی دوری سے گزر گیا جبکہ رواں سال سب سے کم دوری سے گزرنے والا سیارچہ مئی میں 4350 میل کی دوری سے گزرا تھا۔

یورپین ادارے نے 2020 کیو جی کے ہمارے سیارے کے پاس سے گزرتے راستے کا ایک خاکہ بھی تیار کیا۔

ای ایس اے کا کہنا تھا کہ یہ سیارچہ بہت چھوتا تھا جو صرف چند میٹر چوڑا تھا۔

سیارچے کے اتنے مختصر حجم کا مطلب یہ بھی تھا کہ وہ کوئی سنگین خطرہ نہیں۔

ای ایس اے کے مطابق اگر وہ زمین کے ماحول میں داخل بھی ہوجاتا تو سطح کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچتا۔

واضح رہے کہ سیارچے یا ایسٹی رائڈ وہ اجسام ہیں جو ہمارے نظام ِ شمسی میں آزادانہ گھومتے رہتے ہیں اور عموما دیگر سیاروں سے ٹکرا کر بڑی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ سیارے ہی ہوتے ہیں مگر عام سیاروں یا ڈوراف پلینٹ کی نسبت سائز میں کافی چھوٹے ہوتے ہیں، ان کا سائز عموما ایک کلومیٹر سے 1000 کلومیٹر کے درمیان ہوتا ہے جس کے باعث انہیں سیارچہ کہا جاتا ہے جو قدیم مصری زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ستارہ ہے۔

اگرچہ دیکھنے میں یہ ستارے ہی لگتے ہیں مگر ستاروں کے بر عکس یہ آزادانہ گھوم سکتے ہیں، لیکن ان کی اپنی روشنی نہیں ہوتی اس لیے فلکیات میں انہیں پلینٹائڈ بھی کہا جاتا ہے، ساخت کی مناسبت سے دیکھا جائے تو سیارچے وہ چٹانیں یا بڑے سائز کے پتھر ہیں جو نظام ِ شمسی کی تشکیل کے وقت دھر ادھر بکھر گئے تھے، جن کا زیادہ تر حصہ کاربن اور دھاتوں کے اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے، مگر ان کا حجم چوں کہ بہت کم ہوتا ہے اس لیے یہ اکھٹے ہو کر سیاروں میں نہیں ڈھل پاتے۔

ساخت اور اجزاء کی مناسبت سے سیارچوں کو ایس (سادہ پتھر)، سی ( کاربن کے مرکبات) اور ایم (میٹلز،دھاتوں ) کے گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہمارے نظام شمسی میں زیادہ تر سیارچے مریخ اور مشتری کے درمیان پائے جاتے ہیں، جسے 'ایسٹی رائڈ بیلٹ' کہا جاتا ہے۔اور ان میں سے جو سیارچے گردش کرتے ہوئے زمین کے قریب آ جائیں وہ ' نیئر ارتھ ایسٹی رائڈ ' کہلاتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں