لیبیا: کمانڈر خلیفہ حفتر نے حکومت کی جنگ بندی کو مسترد کردیا

24 اگست 2020

ای میل

کمانڈر خلیفہ حفتر کی فورسز نے حکومت سے پیش قدمی روکنے کا مطالبہ کیا—فوٹو:رائٹرز
کمانڈر خلیفہ حفتر کی فورسز نے حکومت سے پیش قدمی روکنے کا مطالبہ کیا—فوٹو:رائٹرز

لیبیا کی مشرقی فورسز نیشنل آرمی (ایل این اے) کے کمانڈرخلیفہ حفتر نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت جی این اے کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کو مسترد کردیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایل این اے کے ترجمان احمد مسماری کا کہنا تھا کہ حریف فورسز جنگ زدہ ملک کے مغرب سے مرکز کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ مشرقی فورسز ساحلی شہر سرت اور جوفرا میں کسی قسم کے حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

مزیدپڑھیں:لیبیا کی حکومت نے ملک بھر میں فوری جنگ بندی کا اعلان کردیا

خلیفہ حفتر کی جانب سے لیبیا کی حکومت کے جنگ بندی کے اعلان اور تیل کی رکاؤٹیں ختم کرنے کے مطالبے کے بعد پہلا بیان سامنےآیا ہے جبکہ اس سے قبل کوئی ردعمل نہیں دیا گیا تھا۔

احمد مسماری کا کہنا تھا کہ 'السیراج جن اقدامات پر دستخط کیے ہیں وہ میڈیا مارکیٹنگ کے لیے ہے، حالانکہ سرت میں ہماری فورسز پر حملے کے لیے فوج اور اسلحہ جمع کیا گیا ہے'۔

انہوں نے کہاکہ 'السیراج جنگ بندی چاہتا ہے تو اپنی فورسز کو سرت میں ہماری طرف بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنے کا حکم دے'۔

خیال رہے کہ لیبیا کے مشرقی علاقے کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اغوئیلا صالح نے بھی جی این اے کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا گیا تھا حالانکہ اغوئیلا صالح خلیفہ حفتر کے حامی ہیں۔

تاہم احمد مسماری نے اغوئیلا صالح اور ان کے اتحادی مصر کے خیرمقدمی بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

الجزیرہ کے مطابق لیبیا میں اس سے قبل ہونے والے مذاکرات میں کمانڈر خلیفہ حفتر کا فعال کردار ادا کرتے تھے اور ان کا اہم کردار ہوتا تھا لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ اب انہیں غیرفعال کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پڑھیں:لیبیا کی حکومت سے ترک، قطری، جرمن وزرا کے مذاکرات

کمانڈر حفتر کی جانب سے اس سے قبل روان برس جنوری میں بھی ترکی اور روس کی کوششوں کو بھی مسترد کردیا تھا جبکہ جی این اے کی حکومت نے ماسکو میں معاہدے پر دستخط کرنے کی حامی بھری تھی۔

واضح رہے کہ جی این اے نے 22 اگست کو لیبیا بھر میں فوری جنگ بندی کے ساتھ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا اعلان کردیا تھا۔

لیبیا کی حکومت نے سرت شہر سے بھی فوج ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد 9 سال خانہ جنگی کے شکار ملک میں امن کی بحالی کی امیدیں پیدا ہوئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جی این اے کے سربراہ فیاض السراج نے تمام سیکیورٹی فورسز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور ملک بھر میں جاری کارروائیوں کو ختم کردیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ اس اعلان کا مقصد لیبیا کی حدود میں مکمل خود مختاری اور بیرونی فورسز کی بے دخلی کویقینی بنانا ہے۔

کمانڈر حفتر کے حامی لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اغوئیلا صالح نے دونوں فریقین کو اس اعلان پر عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ بندی سے بیرونی فورسز کو لیبیا میں مداخلت کا موقع نہیں ملے گا۔

دوسری جانب مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے اپنے بیان میں لیبیا میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے جہاں مصر کمانڈر حفتر کی حمایت میں موجود ہے اور ان کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور روس بھی شامل ہے۔

اسی طرح لیبیا کی حکومت کو ترکی اور قطر کی حمایت حاصل ہے اور ترک فورسز بھی موجود ہیں، جن کی بدولت بڑی کامیابیاں بھی ملی تھیں۔

مزید پڑھیں: لیبیا میں مصر کی کارروائیاں 'غیر قانونی' ہیں، رجب طیب اردوان

یاد رہے کہ لیبیا میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے خلاف 2011 میں نیٹو اتحاد کی حمایت سے کارروائی شروع کی گئی تھی اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا جس کے بعد ملک میں انتشار کی فضا میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

لیبیا میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کی حکومت کو 2011 میں شروع ہونے والی مہم 'عرب بہار' کے دوران ختم کر دیا گیا تھا۔

معمر قذافی کے خلاف مغربی ممالک نے کارروائیوں میں حصہ لیا تھا تاہم ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد لیبیا میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور خانہ جنگی شروع ہوئی جہاں ایک طرف عسکریت پسند مضبوط ہوئے تو دوسری طرف جنرل خلیفہ حفتر نے اپنی ملیشیا بنائی اور ایک حصے پر اپنی حکومت قائم کر لی۔

جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا نے رواں برس اپریل میں طرابلس کا محاصرہ کر لیا تھا اور حکومت کے نظام کو درہم برہم کردیا تھا اور ان کو خطے کے اہم ممالک سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کا تعاون حاصل تھا۔