کورونا پاکستان میں پولیو مہم کے خلاف مزاحمت کو بڑھا سکتا ہے، رپورٹ

اپ ڈیٹ 24 اگست 2020

ای میل

یونیسیف کی رپورٹ 136 ممالک سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
یونیسیف کی رپورٹ 136 ممالک سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

اقوام متحدہ چلڈرنز فنڈ (یونیسیف) نے رواں ہفتے کے آخر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کووڈ 19 کے پاکستان اور افغانستان میں بچوں کی صحت پر سنگین اثرات ہوں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف کی رپورٹ 136 ممالک سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار پر مبنی ہے جس میں وائرل انفیکشن کے معاشرتی و معاشی اثرات کے بارے میں یونیسیف کے سروے میں لوگوں کا رد عمل شامل ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا میں اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

سروے کرنے والوں کے مطابق 'تشدد کی روک تھام اور ردعمل کی خدمات شدید طور پر درہم برہم ہوگئی ہیں، جس سے بچوں میں تشدد، استحصال اور بدسلوکی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے'۔

مزید پڑھیں: قطرے، انجکشن یا دونوں؟ پولیو ویکسین کے حوالے سے عام سوالات کے جوابات

136 ممالک میں سے 104 نے بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق خدمات میں رکاوٹ کی اطلاع دی۔

تقریبا دوتہائی ممالک نے بتایا کہ کم از کم ایک سروسز شدید متاثر ہوئی ہے، جو پاکستان اور افغانستان میں پولیو ویکسینیشن کی ہے۔

جنوبی ایشیا، ان خطوں میں شامل ہے جہاں خدمات کی دستیابی میں رکاوٹوں کی اطلاع دینے والے ممالک کا سب سے زیادہ تناسب سامنے آیا۔

اس رپورٹ میں ٹیم کے ایک ممبر کا انٹرویو شامل ہے جس نے پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل کا دوبارہ آغاز کیا ہے تاکہ بچوں کو اس بیماری سے بچایا جا سکے جو فالج اور موت کا سبب بن سکتی ہے۔

اس ٹیم نے متعدد ایسے کیسز کی اطلاع دی جس میں والدین اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کا کورس مکمل کرنے کے لیے بچوں کو ہسپتال لے جانے سے گھبرارہے ہیں۔

پاکستان میں پولیو مہم رواں ماہ کے آغاز میں دوبارہ شروع ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری دو ممالک ہیں جہاں پولیو کا اب تک خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے۔

بحالی کے حوالے سے مریضوں اور صحت ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نئی گائیڈلائنز بھی تیار کی گئی ہیں، ان حفاظتی اقدامات میں معاشرتی دوری اور ماسک پہننا شامل ہیں۔

یو این نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں حسینہ گل نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھیوں نے کورونا وائرس کے پاکستان آنے پر کیسا رد عمل دیا اور وہ کیوں خود کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

ملازمت کھونا اس بحران کا سب سے عام اثر تھا جس کی پاکستان میں موجود پولیو ورکرز نے ویکسینیشن دوبارہ شروع کرنے پر نشاندہی کی۔

حسینہ گل نے بتایا کہ جن لوگوں کے گھر وہ گئے 'وہ ہم سے راشن کی فراہمی اور دیگر صحت کی خدمات کا مطالبہ کررہے ہیں، کبھی کبھی ہمارے ساتھ بدسلوکی بھی کی جاتی ہے (ان لوگوں سے جنہوں نے اپنی ملازمت کھوئی)'۔

یہ بھی پڑھیں: انسدادِ پولیو، پاکستان میں ایک خطرناک مہم

اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ وبائی بیماری سے پہلے ورکرز نے اپنے بارے میں 'معاشرے کے ردعمل میں کچھ حقیقی بہتری' کی اطلاع دی تھی، حسینہ گل نے کہا کہ 'لیکن اب ہم پریشان ہیں کہ ان کی ہم اور ہمارے پروگرام کے خلاف مزاحمت میں اضافہ ہوسکتا ہے'۔

یونیسیف ٹیم نے وبائی مرض کے آغاز کو ان کے لیے 'بہت پریشان کن وقت' قرار دیا، کراچی جہاں حسینہ گل مقیم ہیں، ان کے دفتر نے انہیں 10 روز کی چھٹیاں دیں اور انہیں گھر پر رہنے کو کہا تھا۔

تاہم کام پر واپس آنے کے بعد وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوگئی تھیں، وہ صحت یاب تو ہوگئی ہیں مگر اس کے نتائج کا سامنا کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرا جسم ابھی تک کمزور ہے، میرے پیر سوج چکے ہیں اور اگر میں 10 منٹ سے زیادہ چلتی ہوں تو مجھے پسینہ آجاتا ہے اور سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے'، اس کے باوجود بھی وہ کام پر واپس آئیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ہاں کورونا وائرس خطرناک ہے لیکن اس ملک میں پولیو اب بھی عام ہے، ہمیں ان دونوں بیماریوں پر توجہ دینی چاہیے'۔