غیر قانونی الاٹمنٹ کیس: سیکریٹری بلدیات روشن شیخ گرفتار

اپ ڈیٹ 24 اگست 2020

ای میل

عدالت نے سیکریٹری بلدیات کی نظرثانی درخواست کی سماعت سے انکار کردیا — فائل فوٹو
عدالت نے سیکریٹری بلدیات کی نظرثانی درخواست کی سماعت سے انکار کردیا — فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ نے غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں سیکریٹری بلدیات روشن علی شیخ سمیت 10 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردیں، جس کے بعد روشن علی شیخ پانچ گھنٹے کمرہ عدالت میں گزارنے کے بعد خود کو نیب کے حوالے کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں سیکریٹری بلدیات روشن شیخ، سابق سیکریٹری لالا فضل اور ڈائریکٹر لینڈ وسیم زیدی سمیت 10 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے روشن شیخ، وسیم زیدی اور لالا فضل الرحمٰن سمیت 10 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کردیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد ملزم روشن شیخ نے نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی، لیکن عدالت نے درخواست کی سماعت سے انکار کردیا۔

عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما سیف عباس، شعیب اور شوکت جوکھیو کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دیا، تینوں ملزمان 2 سال سے جیل میں تھے۔

مزید پڑھیں: 'کراچی کو بنانے والا کوئی نہیں، لگتا ہے سندھ اور مقامی حکومت کی شہریوں سے دشمنی ہے'

فیصلے کے بعد سیکریٹری بلدیات روشن شیخ نے پانچ گھنٹے کمرہ عدالت میں گزارنے کے بعد خود کو نیب کے حوالے کردیا۔

نیب نے سابق سیکریٹری لالا فضل الرحٰمن اور ڈائریکٹر لینڈ وسیم زیدی کو بھی گرفتار کرکے نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ذبیحہ خانہ کی 265 ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی اور ملزمان نے لانڈھی میں اسمال کارٹیج انڈسٹری کو زمین الاٹ کی۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جبکہ روشن علی شیخ اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر ہوچکا ہے۔