پنجاب میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ

اپ ڈیٹ 25 اگست 2020

ای میل

صحت ماہرین کے مطابق یہ خطرہ ابھی بھی موجود ہے کیونکہ محرم کے دوران مجالس میں ایس او پی کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے - فائل فوٹو: اے پی
صحت ماہرین کے مطابق یہ خطرہ ابھی بھی موجود ہے کیونکہ محرم کے دوران مجالس میں ایس او پی کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے - فائل فوٹو: اے پی

لاہور: ماہرین صحت نے ایک بار پھر پنجاب میں کورونا وائرس کی دوسری لہر سے متعلق خبردار کردیا ہے کیونکہ محرم کے دوران احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر صحت افسر نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے لاہور، راولپنڈی اور گوجرانوالہ کے 17 علاقوں/مقامات پر مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان میں سے 12 لاہور میں، 3 راولپنڈی میں اور دو کی گوجرانوالہ میں نشاندہی کی گئی۔

مزید پڑھیں: کورونا وبا: ملک میں 2 لاکھ 75 ہزار 836 مریض صحتیاب، فعال کیسز 11 ہزار رہ گئے

انہوں نے کہا کہ مائیکرو لاک ڈاؤن کے تحت لاہور کے 17 مقامات میں سے 19 ہزار 538 افراد کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ راولپنڈی میں 947 اور گوجرانوالہ میں 53 افراد کو چند پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایک متعلقہ پیش رفت میں حکومت پنجاب نے عیدالاضحی کے بعد پورے صوبے میں 59 ہزار 815 افراد کے اسمارٹ سیمپلنگ کی۔

ان میں سے 95 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جو وائرس کی منتقلی کا بہت معمولی تناسب ظاہر کرتا ہے۔

اسمارٹ سیمپلنگ کے دوران لوگوں سے شاپنگ مارکیٹس اور مختلف برادریوں کے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے گئے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق مارکیٹوں سے 34 ہزار 282 افراد کے نمونے لیے گئے، شاپنگ پلازوں سے 4 ہزار 810، سیاحتی مقامات سے 5 ہزار 953، ہوٹلوں سے 2 ہزار 255، ریسٹورانٹس سے 2 ہزار 18، مزارات سے 684، پولیو/صحت سے متعلق رضاکاروں سے 4 ہزار 658، سرکاری افسران سے 3 ہزار 968 اور مجالس، جلوسوں سے ایک ہزار 180 نمونے لیے گئے۔

**یہ بھی پڑھیں: کورونا وبا: پاکستان میں 596 مریضوں کا اضافہ، اموات 6 ہزار 234 ہوگئیں**

ایک صحت کے عہدیدار نے بتایا کہ عید الاضحٰی کے پیش نظر لوگوں میں مذہبی سرگرمیوں کے دوران لوگوں کے ایک دوسرے سے قریبی جسمانی رابطے بڑھے جس کی وجہ سے وائرس کی بحالی کے خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ جاننا بہت حوصلہ افزا ہے کہ نئے مثبت کیسز میں کوئی اضافے کی اطلاع نہیں ملی ہے جو اسمارٹ نمونے لینے کے نتیجے سے ظاہر ہوتا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا طبی اور صحت کے ماہرین کو خوف ہے کہ یہ خطرہ ابھی بھی موجود ہے کیونکہ محرم کے دوران مجالس میں ایس او پی کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کے بھائی پیر طارق شاہ پیر کے روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) میں کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے۔

طارق شاہ کا 10 روز قبل وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور ایک ہفتے قبل ان کی حالت تشویشناک ہوگئی تھی تو انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا، انہوں نے گزشتہ روز اپنی آخری سانس لی۔