بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے امریکی دباؤ کو مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 27 اگست 2020

ای میل

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ماناما میں ملاقات کی — فوٹو: رائٹرز
امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ماناما میں ملاقات کی — فوٹو: رائٹرز

بحرین نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور عرب ممالک کی جانب سے تعلقات کی بحالی کی امریکی خواہش اور دباؤ کو مسترد کردیا۔

خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہدے کے بعد امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کے سلسلے میں بحرین کے دارالحکومت ماناما میں موجود ہیں، جس کا مقصد صہیونی ریاست کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 'تاریخی امن معاہدہ'

تاہم بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے ملاقات کے دوران مائیک پومپیو کو کہا کہ ان کا ملک عرب امن اقدام کے لیے پرعزم ہے جس کے تحت اسرائیل سے پرامن اور تعلقات کی بحالی کے بدلے 1967 والے فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کا مکمل انخلا چاہتا ہے۔

بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی 'بی این اے' کے مطابق بادشاہ نے دو ریاستی حل کے تحت فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا جس کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ دیگر عرب ممالک بھی متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے جو اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے والا تیسرا عرب ملک بن گیا تھا۔

بحرین کے اسرائیل سے 1990 کی دہائی سے تعلقات ہیں اور وہ پہلا خلیجی ملک تھا جس نے متحدہ عرب امارات کے اقدام کا خیر مقدم کیا تھا اور توقع یہی کی جا رہی تھی کہ ہ وہ امارات کے اس اقدام کی پیروی کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: عرب امارات-اسرائیل تعلقات کے قیام کے بعد کیا خطے میں نئی جنگ کا خطرہ؟

دیگر خلیجی ممالک کی طرح ایران، بحرین اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن ہے، بحرین نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بحرین کے سنی حکمران الخلیفہ خاندان کے خلاف ملک کی اہل تشیع برادری کو احتجاج کے لیے اکسا رہا ہے۔

تاہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تعلقات کی بحالی کے اقدام کو عرب ممالک نے زیادہ پسند نہیں کیا اور اکثر ممالک نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بحرین کے سعودی عرب سے قریبی تعلقات ہیں اور اس کے آشیرباد کے بغیر بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے اقدام کی پیروی نہ کرنے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں کر سکتے جب تک صہیونی ریاست فلسطین کے ساتھ بین الاقوامی امن معاہدے پر دستخط نہیں کر دیتا۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات کو اسرائیل سے معاہدے کے بعد امریکا سے ایف 35 طیارے ملنے کا امکان

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جرمنی کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ بین الاقوامی معاہدہ شرط ہے کیونکہ فلسطینیوں کو امن میسر آنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ ایسا ہو گیا تو کچھ بھی ممکن ہے۔