پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس: عدالت نے نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

03 ستمبر 2020

ای میل

ماڈل ٹاؤن تھانے کے انسپکٹر بشیر احمد نے نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی رپورٹ پیش کی — فائل فوٹو: اے ایف پی
ماڈل ٹاؤن تھانے کے انسپکٹر بشیر احمد نے نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی رپورٹ پیش کی — فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور کی احتساب عدالت نے پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) قائد نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

احتساب عدالت کے جج اسد علی نے ملزم نواز شریف سمیت دیگر کے خلاف غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے خصوصی پراسیکیوٹر حارث قریشی پیش ہوئے۔

نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم میر شکیل کے خلاف فرد جرم عائد کر کے ٹرائل جلد شروع کیا جائے.

مزید پڑھیں: غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس: میر شکیل الرحمٰن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 22 روز کی توسیع

اس موقع پر ماڈل ٹاؤن تھانے کے انسپکٹر بشیر احمد نے نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق ملزم میاں نواز شریف ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ پر موجود نہیں ہے اور ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری عطاء تارڑ نے ملزم کے بیرون ملک ہونے کی تصدیق کی۔

پولیس افسر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملزم نواز شریف کی رائیونڈ کی رہائشگاہ پر ملزم کے سیکریٹری نے کہا کہ نواز شریف 6 ماہ سے بیرون ملک ہے۔

جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) قائد نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

اس کے علاوہ عدالت نے وزارت خارجہ کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ پر عمل درآمد کروانے کا حکم بھی دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری

واضح رہے کہ نیب کی جانب سے رواں سال 22 جون کو میر شکیل، نواز شریف، سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی جی ایل ڈی اے) ہمایوں فیض رسول اور میاں بشیر کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل 5 اگست کو مذکورہ نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ نواز شریف اس وقت لندن میں مقیم ہیں جنہیں گزشتہ برس اکتوبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 8 ہفتوں کے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی، جس کے بعد سابق وزیراعظم بیرون ملک چلے گئے تھے اور بعد ازاں عدالت کی جانب سے ضمانت میں توسیع کے لیے حکومت پنجاب سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم صوبائی حکومت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

پلاٹ الاٹمنٹ کا معاملہ

خیال رہے کہ 12 مارچ کو احتساب کے قومی ادارے نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔

ترجمان نیب نوازش علی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ادارے نے 54 پلاٹوں کی خریداری سے متعلق کیس میں میر شکیل الرحمٰن کو لاہور میں گرفتار کیا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ میر شکیل الرحمٰن متعلقہ زمین سے متعلق نیب کے سوالات کے جواب دینے کے لیے جمعرات کو دوسری بار نیب میں پیش ہوئے تاہم وہ بیورو کو زمین کی خریداری سے متعلق مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا نواز شریف کو 10ستمبر سے قبل 'سرنڈر' کرنے کا حکم

واضح رہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو 28 فروری کو طلبی سے متعلق جاری ہونے والے نوٹس کے مطابق انہیں 1986 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کی جانب سے غیر قانونی طور پر جوہر ٹاؤن فیز 2 کے بلاک ایچ میں الاٹ کی گئی زمین سے متعلق بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 5 مارچ کو نیب میں طلب کیا گیا تھا۔

دوسری جانب جنگ گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے، جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے دستاویز بھی شامل ہیں۔