وزیر اعظم کے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 04 ستمبر 2020

ای میل

معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' کے پروگرام 'آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ' میں گفتگو کرتے ہوئے عاصم سلیم باوجوہ نے کہا کہ میں نے اپنی اہلخانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: فردوس عاشق کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ معاون خصوصی اطلاعات مقرر

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہی سوچا ہے کہ سی پیک اتھارٹی پر بہت زیادہ توجہ چاہیے اس لیے فیصلہ کیا کہ میں اپنا سارا زور سی پیک پر لگاؤں گا۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزارت اطلاعات میں مزید قابل لوگ موجود ہیں تو اس لیے وہ کام میں ان کے لیے چھوڑوں گا اور میں اپنی توجہ سی پیک پر ہی رکھوں گا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی میں نے اس حوالے سے فیصلہ کیا ہے اور صبح وزیر اعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کروں گا اور درخواست دوں گا کہ مجھے اس عہدے سے ریلیف دے دیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سی پیک وزیر اعظم کی بہت بڑی ترجیح ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مستقبل ہے اور سی پیک اتھارٹی میں 10 ماہ گزارنے کے بعد میرا اپنا بھی یہی ماننا ہے، لہٰذا مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم مجھے سی پیک پر زیادہ توجہ سے کام کی اجازت دے دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا معاون خصوصی اطلاعات کے خلاف الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کی بہت اچھی ٹیم بن رہی ہے، بہت اچھا تسلسل چل رہاہے، وزیر اعظم اور پوری کابینہ کی توجہ ہے، بہت ساری نئی سرمایہ کاری آرہی ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ میں دن بدن چین کی دلچسپی بھی بڑھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، آگے اس کی وسعت بڑھتے جانا ہے اور اس کے لیے بہت زیادہ توجہ چاہیے۔

اس سے قبل اپنے اثاثوں کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 70 ملین ڈالر کے اثاثے ہیں جس کی تفصیل دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 60 ملین ڈالر بینک کا قرض ہے، 50 سرمایہ کار ہیں اور اس کے بعد اہلخانہ کے چھ اراکین 73 ہزار ڈالر کے شیئر کے حوالے سے بھی بتایا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری، بینکنگ اور مالیاتی چینلز کے مطابق امریکا میں یہ کاروبار قائم ہوا ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ امریکا میں آپ ایک سینٹ بھی مالیاتی چین کے بغیر ادھر سے ادھر نہیں کر سکتے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کے 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل

ان کا کہنا تھا کہ یہ کام 2002 میں شروع کیا گیا اور یہ 9/11 کے بعد کی بعد کی بات ہے تو کیا آپ تصور کرتے ہیں کہ وہاں بینکنگ کے علاوہ بھی کسی ذرائع سے پیسہ جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2002 میں جب کاروبار شروع کیا گیا تو صرف ایک اسٹور کھلا تھا، اس کے بعد ہر سال یہ اسٹورز بڑھتے گئے، کاروبار بڑھتا گیا جبکہ اس کے بعد وہ ریئل اسٹیٹ میں بھی گئے اور ترقی ساتھ ساتھ ہوتی رہی اور سرمایہ کاری کے لیے بیادی رقم بھی ساتھ ساتھ بڑھتی رہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ یہ میرے بھائیوں کا کاروبار ہے اور وہ ہی اسے چلا رہے تھے، ان کے 50 سرمایہ کار تھے، 60 ملین ڈالرز تو بینکوں کے ہیں، اس کے علاوہ پیسہ سرمایہ کاروں کا ہے جنہوں نے مختلف رقم کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کون سے پیسے کہاں گئے اس میں ہر چیز کا دستاویزی ثبوت موجود ہے، ان چار پانچ دنوں میں ریکارڈز دیکھ کر تسلی کی، امریکا سے دستاویزات منگوائیں اور بھائیوں سے انٹرویو کر کے تفصیلات لیں جبکہ یہاں ٹیکس مشیر کو دکھایا اور قانونی رائے لینے کے بعد جواب دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شبلی فراز، عاصم باجوہ پر حکومت اور میڈیا کے تعلقات بہتر بنانے پر زور

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی اہلیہ کے نام پر 31 لاکھ روپے کے اثاثے پاکستان میں ڈکلیئر کیے ہوئے ہیں اور امریکا والی سرمایہ کاری 19ہزار 492 ڈالر ہمارے سکسیشن پلان کا حصہ ہے کیونکہ ہمارے دو بچے امریکا میں رہتے ہیں، وہ رقم ان کو چلی گئی اور ان میں سے کوئی بھی پیسہ پاکستان نہیں آیا، اگر آیا ہوتا تو کہیں ناں کہیں دستاویزات میں موجود ہوتا۔

عاصم سلیم باجوہ نے واضح کیا کہ ان کی اور ان کی اہلیہ کی ان میں سے کسی بھی کمپنی میں شیئرہولڈنگ نہیں البتہ ہمارے دونوں بچے اپنے چچا کے ساتھ رہتے ہیں، ان کے ساتھ انہی کی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں، نہ میرے نام پر کچھ ہے نہ اہلیہ کے نام پر کچھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری یہ وضاحت وزیر اعظم بھی دیکھ چکے ہیں اور کوئی بھی دستاویز یا تفصیل چاہیے ہو تو میں سب اکٹھی کر چکا ہوں اور مزید کچھ چاہیے تو میں وہ بھی اکٹھی کرنے کے لیے تیار ہوں۔

مزید پڑھیں: سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا، جنرل عاصم باجوہ

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کا شہری ہوں اور پاکستان کے قانون کے مطابق مجھے جہاں بھی منی ٹریل یا دستاویز دینی پڑے گی تو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔

یاد رہے کہ رواں سال 28 اپریل کو سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو وزیر اعظم کا نیا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کردیا گیا تھا جبکہ فردوس عاشق اعوان سے یہ عہدہ واپس لے لیا گیا تھا۔

الزامات کی تردید

اس سے قبل وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے اخبار میں ان کے حوالے سے شائع خبر کی تردید کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چار صفحات پر مشتمل تفصیلی جواب دیا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے خود پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں کی وضاحت کردی۔

انہوں نے کہا کہ 'احمد نورانی نے 27 اگست 2020 کو نامعلوم ویب سائٹ پر میرے بارے میں خبر شائع کی، جسے غلط اور جھوٹی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہوں۔'

انہوں نے کہا کہ 'خبر میں الزام لگایا گیا کہ میں نے 22 جون 2020 کو بطور معاوں خصوصی اپنے غلط اثاثے ظاہر کیے اور میں نے اپنی اہلیہ کی بیرون ملک سرمایہ کاری ظاہر نہیں کی، میرے بھائیوں نے امریکا میں کاروبار کیے جن میں ان کی ترقی کا تعلق پاک آرمی میں میری ترقی سے ہے جبکہ میرے بھائیوں اور بچوں کی ملکیت میں موجود مختلف کمپنیاں، کاروبار اور جائیدادیں ظاہر کی گئیں اور ان کی ملکیت اور مالیت سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔'

یہ بھی پڑھیں: عاصم سلیم باجوہ 'سی پیک اتھارٹی' کے چیئرپرسن مقرر، نوٹی فکیشن جاری

ان کا کہنا تھا کہ 22 جون 2020 کو اہلیہ کے اثاثے اپنے ڈکلیئریشن میں چھپانے کا الزام بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ اس وقت میری اہلیہ بیرون ملک کسی کاروبار میں سرمایہ کار یا شیئرہولڈر نہیں رہی تھیں، میری بیوی نے یکم جون 2020 کو بیرون ملک کی تمام کمپنیوں سے سرمایہ نکال لیا تھا اور امریکا کی سرکاری دستاویز میں اس کا ریکارڈ موجود ہے۔'

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ’ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کمپنی امریکی کمپنیوں کی لیژن آفس تھی اور ایس ای سی پی میں کمپنی کے نام تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا، لیکن یہ بس دفتری کارروائی تھی کیونکہ امریکا میں میری اہلیہ کا کاروباری مفاد ختم ہوچکا تھا۔'

انہوں نے کہا کہ 'حقیقت دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مجھ پر الزامات میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے لگائے گئے۔'

ان کا کہنا تھا کہ '2002 سے یکم جون 2020 (18 سال) تک میری اہلیہ نے امریکا میں میرے بھائیوں کی کمپنیوں میں کی تقریباً 19 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، انہوں نے یہ سرمایہ کاری 18 سال تک میری بچائی گئی رقم کے ذریعے کی جو قابل احتساب ہے اور اس عرصے میں ایک بار بھی اسٹیٹ بینک کے کسی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔'

مزید پڑھیں: اپوزیشن نے آرڈیننس سے ’سی پیک اتھارٹی‘ کے قیام کو مسترد کردیا

معاون خصوصی نے کہا کہ 'باجکو گلوبل منیجمنٹ کا پیزا چین پاپا جونز میں کوئی ملکیتی مفاد نہیں، خبر میں غلط الزام لگایا گیا کہ باجکو 99 کمپنیوں کی مالک ہے اور رپورٹر نے اپنی فہرست میں کئی کمپنیوں کا نام ایک سے زائد بار لیا، امریکا میں صرف 27 اور متحدہ عرب امارات میں 2 فعال کمپنیاں ہیں۔'

'کاروبار میں اہلیہ، بھائیوں کی سرمایہ کاری صرف 74 ہزار ڈالر رہی'

انہوں نے کہا کہ '18 سال میں میرے بھائیوں نے تقریباً 7 کروڑ ڈالر کے اثاثے اور فرنچائز خریدیں، ان 7 کروڑ ڈالر میں سے تقریباً 6 کروڑ ڈالر بینک سے قرض اور دیگر مالیاتی سہولیات کی کمپنیوں سے حاصل کیے گئے۔'

ان کا کہنا تھا کہ '18 سال میں میرے بھائیوں اور اہلیہ کی ان کاروبار میں نقد سرمایہ کاری 74 ہزار ڈالر رہی جس میں سے میری اہلیہ کی سرماریہ کاری 19 ہزار ڈالر تھی، میرے پانچوں بھائیوں کی ساڑھے 54 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کا مکمل ریکارڈ موجود ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری منافع میں سے کی گئی۔'

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ 'میرے دو بھائی ڈاکٹر، ایک بھائی امریکی بینک میں نائب صدر، ایک بھائی 2002 میں کاروبار کے آغاز سے قبل امریکی ریسٹورنٹ آپریٹنگ کمپنی میں کنٹرولر اور ایک پارٹنر رہا، کیا اتنے اہم عہدوں پر موجود لوگ 54 ہزار ڈالرز کی بچت نہیں کرسکتے، جبکہ یہ بھی مدنظر رہے کہ ان کاروبار میں کم از کم 50 دیگر سرمایہ کار بھی شامل تھے۔'

'میرے بیٹوں کے نام پر موجود کئی کمپنیاں غیر فعال ہیں'

اپنے بچوں کے کاروبار سے متعلق لگائے گئے الزامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'میرے ایک بیٹے پر الزام لگایا گیا کہ اس نے سی اون بلڈرز اینڈ اسٹیٹ کمپنی بنائی، میرے بیٹے کی کمپنی نے قیام سے اب تک کوئی کاروبار نہیں کیا اور یہ کمپنی غیر فعال ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: ’مغربی اثر و رسوخ کے باعث سی پیک کو سرد خانے کی نذر کردیا گیا‘

ان کا کہنا تھا کہ 'میرے ایک بیٹے پر الزام لگایا گیا کہ اس کے نام ہمالیہ پروائیوٹ لمیٹڈ کمپنی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہے، میرے بیٹے کے پاس اس کمپنی کے صرف 50 فیصد شیئرز ہیں، یہ کمپنی بہت چھوٹی ہے جس نے تین سال میں 5 لاکھ روپے سے بھی کم منافع کمایا۔'

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ 'یہ بات درست ہے میرے ایک بیٹے کے نام پر موچی کورڈوینرز کمپنی موجود ہے، یہ ایک چھوٹی کمپنی ہے جس نے 5 سال میں مکمل نقصان اٹھایا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'میرے ایک بیٹے پر الزام لگایا گیا کہ اس کے نام کرپٹن کمپنی ہے جو معدنیات کا کام کرتی ہے اور یہ کمپنی اس وقت رجسٹرڈ کی گئی جب میں بلوچستان میں تعینات تھا، کسی نے یہ معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ کمپنی ایف بی آر میں 2019 میں رجسٹرڈ ہوئی اور اب تک کوئی کاروبار نہیں کیا، اس کاروبار نے اب تک کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں کھلوایا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'میرے ایک بیٹے کے نام ایڈوانس مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا الزام لگایا گیا لیکن ایک بار پھر کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ کمپنی بھی غیر فعال ہے اور اس نے بھی کوئی کاروبار نہیں کیا۔'

یہ بھی پڑھیں: سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کے قوانین پر نظر ثانی

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ 'مجھ پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ میرے بیٹوں کی ملکیتی کمپنی سی اون منیجمنٹ گروپ امریکا میں ایک گھر کی مالک ہے، اگر صحافی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے تو پتہ چلتا یہ چھوٹا سا گھر میرے دو بیٹوں نے اپنے ذرائع سے سستے داموں صرف 31 ہزار ڈالر میں خریدا۔'

انہوں نے کہا کہ 'یہ الزام بھی لگایا گیا کہ سی اون ناتورا نامی کمپنی بھی میرے دو بیٹوں نے قائم کی، تاہم یہ کمپنی بھی ہمیشہ غیر فعال رہی۔'

'بھائیوں کی کمپنی کو سی پیک کا کوئی ٹھیکہ نہیں دیا گیا'

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بے بنیاد الزام بھی عائد کیا گیا کہ میرے 2 بھائیوں کی کمپنی سلک لائن انٹرپرائزز پرائیوٹ لمیٹڈ کو سی پیک کے ٹھیکے دیے گئے، کمپنی رحیم یارخان میں صنعتوں کو افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔'

مزید پڑھیں: سی پیک کے تحت تمام اقتصادی زونز پر کام جاری ہے، عاصم سلیم باجوہ

معاون خصوصی نے کہا کہ 'میرے ایک بیٹے نے امریکا میں چھوٹا گھر بینک قرض کے ذریعے لیا ہے، گھر کی 80 فیصد رقم کی ادائیگی ابھی باقی ہے، میرے بیٹوں کی عمریں 33، 32 اور 27 سال ہیں، میرے بیٹوں نے امریکا کی بڑی یونیورسٹیز سے بزنس ڈگری حاصل کی ہے اور امریکا میں بہت اچھی تنخواہوں پر نوکریاں کر رہے ہیں۔'

اپنے تردیدی بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ 'میں اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹا، جو میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے لگائے گئے۔'