عمر کی بنیاد پر سینئر کھلاڑیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، مصباح الحق

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2020
مصباح الحق نے ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا— فوٹو بشکریہ پی سی بی
مصباح الحق نے ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا— فوٹو بشکریہ پی سی بی

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے حالیہ دورہ انگلینڈ کو پاکستانی ٹیم کے لیے مفید اور ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ٹی 20 میں درست سمت میں جارہے ہیں اور اس حکمت عملی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی ٹیم دورہ انگلینڈ میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی اور ٹیسٹ سیریز میں 0-1 سے شکست کے بعد گرین شرٹس ٹی20 سیریز بھی بمشکل برابر کرنے میں کامیاب ہوئے۔

مزیدپڑھیں: بٹلر کی شاندار بیٹنگ، آسٹریلیا کو لگاتار دوسرے ٹی20 میچ میں شکست

دورہ انگلینڈ سے واپسی پر ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ جس طرح بین الاقوامی سطح پر کرکٹ ہورہی ہے، اس مناسبت سے پاکستان کے پاس ایسے کھلاڑی نہیں ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ہم ٹی 20 میں درست سمت میں جارہے ہیں بس اس حکمت عملی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے‘۔

مصباح الحق نے انگلینڈ کے خلاف دو مرتبہ 190 سے زائد رنز اسکور کرنے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ہم درست سمت پر گامزن ہیں جسے مزید مستقل بنیاد پر قائم رکھنے کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نئےآ نے والے کھلاڑیوں بشمول باؤلر پر ٹھیک وقت لگا رہے ہیں اور بہتری کی طرف جائیں گے‘۔

مصباح الحق نے حالیہ دورہ انگلینڈ کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو کھیلنے دیں اور ورلڈ کپ سے پہلے معلوم ہو جائے گا کہ کس کی کیا کارکردگی ہے۔

انہوں نے شعیب ملک اور محمد حفیظ کی ٹی20 ٹیم میں شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عمر کی بنیاد پر سینئر کھلاڑیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ابھی ورلڈ کپ میں بہت وقت باقی ہے، ہم جب تک مختلف کامبی نیشن آزمائیں گے اور بہترین 15 کھلاڑیوں کو چن لیں گے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے کہا کہ ’بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے، جس طرح کی کرکٹ ہورہی ہے اس کے تناظر میں ہماری کارکردگی کے نتائج وہ نہیں ہیں جس کی خواہش کی جارہی ہے لیکن نتائج کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں سے مطمین ہوں‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ وہ انگلینڈ میں انتہائی اہم میچز میں مصروف تھے اس دوران ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے توجہ نہیں دے سکے تھے۔

مصباح الحق نے کہا کہ ’اس حوالے سے میں ندیم خان کے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کروں گا‘۔

اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ حیدر علی کی پہلی سیریز ہے اس میں بھی دو میچز کے بعد چانس ملا اور ہماری کوشش ہے کہ ہر کسی کو پلان کے مطابق موقع دیں، مستقبل میں سینئر کے ہمراہ جونیئر کھلاڑیوں کو مستقل بنیادوں پر چانس ملے گا‘۔

مزید پڑھیں: بہتر ہوگا اگلا آئی سی سی چیئرمین بگ تھری سے نہ ہو، احسان مانی

ٹی 20 میں پاکستان کی تنزلی پر بات کرتے ہوئے ہیڈ کوچ نے کہا کہ ’یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی ٹیم ٹی 20 کی رینکنگ میں اول درجے پر تھی لیکن جب میں آیا تب ٹیم رینکنگ میں تنزلی کا شکار تھی جس کی بنیادی وجہ آپ جاتے ہیں کہ فخر زمان، شاداب خان اور حسن علی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دو ٹی 20 میچز میں کھلاڑیوں نے جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے نظر آرہا ہے کہ آگے توقع کے مطابق نتائج ہوں گے۔

کوچنگ سے متعلق سوال کے جواب میں مصباح الحق نے کہا کہ ’کون سے کوچ آئے اور کون سے نہیں کبھی بھی ناموں سے مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ جب ایک نظام میں کوئی شامل ہوتا تو اسے ساتھ لے کر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے‘۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ ’سب اہم مسئلہ ناتجربہ باؤلنگ ہے جس کو بہتر کرنے کے لیے وقت دینا ہوگا کیونکہ انہیں تجربہ کار ہونے کا ایک عمل یا طریقہ کار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں ہمیں صبر کی ضرورت ہے، مجھے امید ہے کہ وقت کے ساتھ بہتر ہوگا۔

مصباح الحق نے کہا کہ دوسرے ٹی 20 میچ میں ہمیں واضح نظر آیا کہ تھوڑے سے مسئلے کے بعد ہم گھبرا گئے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باؤلر کو تھوڑا وقت دینے کی ضرورت ہے جیسے جیسے وہ کھیلیں گے مشکل وقت میں گھبراہٹ والی کیفیت کو سنبھالنے کا تجربہ حاصل کرلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب نتائج مرضی کے مطابق نہ ہو تو مایوسی ہوتی ہے اور یہ فطری عمل ہے، حالیہ میچ میں جب چیزیں ہمارے کنٹرول میں آنے لگی تو کبھی بارش ہوگئی یا پھر کوئی مسئلہ جس کے بعد صورتحال مایوس کن ہوجاتی تھی۔

مزیدپڑھیں: وہ غلطیاں جن کی وجہ سے انگلینڈ نے پاکستان کے ہاتھوں سے فتح چھین لی

ان کا کہنا تھا کہ کوچ کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے بھی صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہے۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ ’ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ ٹیم بہتر کرے، بابر اعظم ایک پر اعتماد کھلاڑی ہیں اور اپنے فیصلے خود لیتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ بابر کو پوری طرح سپورٹ کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ میں بھی کیپٹن رہا ہوں اور جتنی جلدی ایک کیپٹن اپنے فیصلوں سے سیکھتا ہے وہ کسی دوسرے کے فیصلے نہیں سیکھتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بطور ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر یہ ذمہ داری ہے کہ کھلاڑیوں میں اتنا اعتماد پیدا کیا جائے کہ کوئی کھلاڑی خوف محسوس نہ کرے۔

ایک سوال کے جواب میں چیف سلیکٹر نے کہا کہ ’جب ہم کسی دورے پر ہوتے ہیں تو ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ یہاں کیا ہورہا ہے اور اگر پاکستان میں موجود عہدیدار کوئی فیصلہ لے لیں جو ہمارے ذہنوں میں بھی چل رہا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دباو میںآ کر فیصلہ کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ روایتی سوچ رہی ہے کہ کوچ پہلے 6 بلے بازوں کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ دیگر کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ ’یہ سوچ تبدیل ہوگئی ہے کہ کوشش ہے کہ جو ہمارا 11 ویں نمبر کا بلے باز ہے اسے بھی یکساں اہمیت دی جائے۔

مزیدپڑھیں: تقسیمِ ہند کے دوران بھی قرنطینہ جیسے حالات سے گزرے تھے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وباب اور حفیظ نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا جبکہ نسیم شاہ سے جیمز اینڈرسن جیسی پرفارمنس کی توقع نہیں رکھی جاسکتی کیونکہ وہ ابھی سیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نسیم شاہ اور دیگر فارسٹ باؤلرز پاکستان کرکٹ ٹیم کا مستقبل ہیں جبکہ ایک میچ کھلا کر سرفراز کا کریئرختم کرنے کا اشارہ نہیں دیا۔

مصباح الحق نے امید ظاہر کی کہ سرفراز احمد کی کارکردگی ماضی میں اچھی رہی ہے اور آگے بھی رہے گی۔

انہوں نے ڈپارٹمنٹ کرکٹ سے متعلق کہا کہ ہم نے بھی بات کی جبکہ کرکٹ بورڈ بھی کوشش کررہا ہے کہ اس کا کوئی مبتادل ہونا چاہیےکہ کھلاڑیوں کے روزگار ختم نہ ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اب تک اس پر کوئی باقاعدہ لائحہ عمل تیار نہیں ہوا۔

مصباح الحق نے کہا کہ’کووڈ 19 کی وجہ سے ڈومیسٹک کرکٹ بند رہی اور اب ڈومیسٹک سیزن پر سر پرآگیا ہے، میری رائے ہے کہ کرکٹ بورڈ اور حکومت کو اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں