عالمی ادارے کی ٹیم نے پی آئی اے کا سیفٹی آڈٹ مکمل کرلیا

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

پی آئی اے کا سیفٹی آڈٹ ایک ہفتے تک جاری رہا - فائل فوٹو:اے پی پی
پی آئی اے کا سیفٹی آڈٹ ایک ہفتے تک جاری رہا - فائل فوٹو:اے پی پی

راولپنڈی: انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے آپریشنل سیفٹی آڈٹ کی ایک چار رکنی ٹیم پاکستان میں آڈٹ معائنے کے سلسلے میں اپنا کام مکمل کرنے کے بعد واپس روانہ ہوگئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی ماہرین نے اپنے ایک ہفتے کے دورے کے دوران پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے مختلف محکموں کا آپریشنل سیفٹی آڈٹ کیا جس میں اس کے فلائٹ آپریشن، زمینی ہینڈلنگ، فلائٹ سیفٹی اور سیکیورٹی اور انجینئرنگ شامل ہیں۔

اس ٹیم میں ایک ترک ماہر، دو انگریز اور ایک اور یورپی شہری شامل تھے۔

مزید پڑھیں: بین الاقوامی ٹیم نے پی آئی اے کے محکموں کا آڈٹ شروع کردیا

ہر دو سال میں ہونے والا آپریشنل سیفٹی آڈٹ اس سے قبل 2018 میں کیا گیا تھا۔

پیر کی صبح ٹیم نے ایک اجلاس کے بعد کراچی ایئرپورٹ کے کارگو ایریا کا دورہ کیا تھا۔

انہوں نے پی آئی اے کے انجینئرنگ سیکشن اور آڈٹ کے لیے دیگر متعلقہ دستاویزات کا ریکارڈ بھی طلب کیا تھا۔

اس ٹیم نے پیر کے روز ایک مصروف دن گزارا تھا اور ایئرپورٹ کے ایپرن/ریمپ ایریا کا ایک تفصیلی دورہ کیا تھا جہاں ہوائی جہاز کھڑے ہوتے ہیں اور اس میں لوڈنگ اور ان لوڈنگ ہوتی ہے۔

ٹیم دو گھنٹے سے زائد وقت تک ایپرن کے مقام پر موجود رہی اور لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے عمل کا معائنہ کیا اور مختلف رجسٹرز اور ریکارڈز پر مشتمل ای میلز کا بھی معائنہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی ادارے کی آڈٹ ٹیم آئندہ ماہ پی آئی اے کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے گی

بدھ کے روز آڈٹ ٹیم نے گراؤنڈ ہینڈلنگ اور ٹیکنیکل ریمپ کا معائنہ کیا تھا، ماہرین نے جمعران کے روز پی آئی اے کے محکمہ انجینئرنگ کا معائنہ کیا تھا جو جمعے کے روز تک جاری رہا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ٹیم کے پاس ایک اپنا مینوئل تھا جس سے وہ ایئرلائنز کے معیار کا موازنہ کر رہے تھے۔

ماہرین نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک سے ملاقات کے ساتھ اپنے دورے کا اختتام کیا۔

واضح رہے کہ آئی اے ٹی اے ٹیم کے دورے سے قبل پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے آپریشنل تنصیبات کا معائنہ کیا تھا اور آڈٹ ٹیم کے دورے کے بارے میں انجینئرنگ، ریمپ سروس اور فلائٹ سیفٹی کے محکموں کے سربراہوں کو آگاہ کیا تھا۔

تیاریوں کے تحت ہوائی اڈے کے ریمپ ایریا پر ناقابل استعمال طیارے اور آلات کو ہٹا دیا گیا تھا تاکہ خالی جگہ کو ہوائی جہاز کی پارکنگ اور مرمت کے کام کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

پی آئی اے کے سربراہ نے تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور عملے کو مزید محنت و لگن کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی تھی۔