نقصان کے ازالے کیلئے صارفین کو اضافی بلز بھیجے جانے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق زیادہ نقصان والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی موجودہ پالیسی کو جاری رکھنے سے فروخت میں کمی آتی ہے ۔ فائل فوٹو:رائٹرز
رپورٹ کے مطابق زیادہ نقصان والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی موجودہ پالیسی کو جاری رکھنے سے فروخت میں کمی آتی ہے ۔ فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: بجلی کے شعبے کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریگولیٹر نے تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی نااہلی اور اعلیٰ سسٹم کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے صارفین پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور شدہ 'اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2019' میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے خبردار کیا ہے کہ 'زیادہ نقصان' والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی موجودہ پالیسی کو جاری رکھنے سے فروخت میں اضافہ کم ہوجاتا ہے اور توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

نیپرا نے خبردار کیا کہ 'اصلاحاتی ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے اور اس کی اصل روح کے مطابق اس پر عمل نہ کرنے سے بجلی کا شعبہ زوال پذیر ہوجائے گا اور ناقص گورننس کے نتیجے میں عوامی شعبے کی خستہ حالی نہ صرف اس شعبے کو نیچے لائے گی بلکہ اس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی معیشت میں بھی سست روی کا سامنا ہوگا'۔

مزید پڑھیں: نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ محفوظ کرلیا

رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران نومبر اور فروری کے مہینوں میں اچانک نقصانات ہوئے، اکتوبر میں نقصانات میں کمی آئی اور دسمبر میں اس میں تیزی سے اضافہ ہوا، اسی طرح جنوری میں نقصانات میں کمی آئی اور مارچ میں اس میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ان دونوں رجحانات کی وضاحت کرنا مشکل ہے تاہم ڈسکوز کی جانب سے نقصانات کے حوالے سے ان کی پوزیشن پر بہتر نتائج ظاہر کرنے کے لیے چند ایڈجسٹمنٹس کیے گئے ہیں۔

ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ 'اس وجہ سے اضافی بلنگ کا مسئلہ ابھی بھی بجلی کے صارفین کو پریشان کررہا ہے، ڈسکو ابھی بھی بجلی کے یونٹوں کو منظم طریقے سے ردو بدل کرنے میں ملوث ہے تاکہ ان کی تقسیم کے نقصانات کا انتظام ہوسکے جو حقیقتا بہت زیادہ ہیں'۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈسکوز اپنی ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کے نقصانات کو کم نہیں کرسکا، گزشتہ 5 سالوں کے اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ گزشتہ سال کے نقصانات کے مقابلے میں مالی سال 19-2018 میں صرف 0.6 فیصد کی معمولی کمی ہوئی ہے۔

اسی طرح ڈسکوز کی مجموعی ریونیو وصولی کے شعبے کی بھی کارکردگی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں نوٹ کی گئی ہے کیونکہ مالی سال 19-2018 میں (بغیر سبسڈی) وصولی کا تناسب گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 0.18 فیصد بہتر ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بجلی کے نرخ بڑھا دیے

اس بہتری سے 10 ارب روپے کی بچت سامنے آئی، 6 بہتر کمپنیاں اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، پشاور اور حیدرآباد گر گئیں جبکہ قبائلی، ملتان، سکھر اور کوئٹہ کی وصولی میں کچھ بہتری نظر آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت توانائی نے گزشتہ سال کی جمع شدہ رقم کے مقابلے میں وصولیوں میں 15.5 فیصد اضافے کا دعوی کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فروخت شدہ یونٹوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 2.16 فیصد کا اضافہ ہوا تھا جبکہ بل کی گئی رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.22 فیصد زیادہ تھی۔