بینظیر بھٹو ہسپتال میں 'بچی کی لاش' کو جوڑے کے حوالے کرنے کی تحقیقات

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق بچی کے علاج کے لیے آئے والدین کو کسی دوسری بچی کی لاش تھما دی گئی تھی جسے انہوں نے اپنے آبائی گاؤں میں دفن بھی کردیا تھا ۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق بچی کے علاج کے لیے آئے والدین کو کسی دوسری بچی کی لاش تھما دی گئی تھی جسے انہوں نے اپنے آبائی گاؤں میں دفن بھی کردیا تھا ۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

راولپنڈی: بینظیر بھٹو ہسپتال (بی بی ایچ) نے ایک جوڑے کو غلط بچی کی لاش دینے سے متعلق تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

حویلیاں کے رہائشی محمد اور سارہ اعجاز اپنی نوزائیدہ بچی کو بینظیر بھٹو ہسپتال لے کر آئے تھے جہاں اسے ہیپاٹائٹس کی شکایت کے ساتھ پیڈیاٹریکس کے وارڈ میں داخل کرایا گیا تھا۔

کچھ عرصے بعد والدین کو ایک بچی کی لاش سونپ دی گئی جسے وہ اپنے آبائی شہر لے گئے اور اسے وہاں دفن بھی کردیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو ورثے کے طور پر ملنے والے سول ہسپتال کی تاریخ جانتے ہیں؟

تاہم بچی کی آخری رسومات کے بعد انہوں نے اس کے ڈائپرز دیکھے اور دیکھا کہ بچی کا نام اور والدہ کا نام مختلف تھا۔

جب والدین ہسپتال واپس آئے اور عملے کو اس معاملے سے آگاہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ لاش جوڑے کے اپنے نومولود کی نہیں تھی۔

بعد ازاں والدین کو ان کا اپنا بچہ دے دیا گیا جو اب بھی ہسپتال میں داخل تھا۔

بی بی ایچ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد رفیق نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ کمیٹی میں بی بی ایچ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر ظفر اقبال، شعبہ اطفال کے سربراہ ڈاکٹر مدثر شریف اور ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حسین شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: شیخ زاید ہسپتال کا انتظام وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی واقعے کا جائزہ لے گی اور اس بات کا تعین کرے گی کہ ذمہ دار کون تھا۔

کمیٹی عملے اور اہل خانہ کا بیان سننے کے بعد 3 دن میں رپورٹ جمع کرائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں انسانی غلطی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لیکن کمیٹی شواہد اور عملے اور اہل خانہ کے نقطہ نظر کو دیکھنے کے بعد فیصلہ کرے گی۔

کمیٹی معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کی بھی تجویز پیش کرے گی تاکہ اس طرح کے واقعات آئندہ پیش نہ آئیں۔