منی لانڈرنگ ریفرنس: شہباز شریف کی اہلیہ، بیٹی اور داماد کے وارنٹ گرفتاری جاری

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

عدالت نے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ برقرار رکھتے ہوئے وارنٹس پر دفتر خارجہ کو  عملدرآمد کرانے کا حکم بھی دیا۔ اے ایف پی:فائل فوٹو
عدالت نے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ برقرار رکھتے ہوئے وارنٹس پر دفتر خارجہ کو عملدرآمد کرانے کا حکم بھی دیا۔ اے ایف پی:فائل فوٹو

لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور بیٹی رابعہ عمران کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

اس کے علاوہ عدالت نے شہباز شریف کے داماد ہارون یوسف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

عدالت نے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے جاری کیے گئے وارنٹس پر دفتر خارجہ کو عملدرآمد کرانے کا بھی حکم دیا۔

احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں شریک دو ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا بھی آغاز کیا۔

مزید پڑھیں: میرے فیصلوں کی وجہ سے خاندانی کاروبار کو نقصان پہنچا، شہباز شریف

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کی جہاں عدالت میں نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر عثمان راشد چیمہ اور شہباز شریف کے وکیل دفاع امجد پرویز نے دلائل دیے۔

دوران سماعت احتساب عدالت نے حمزہ شہباز اور جویریہ علی کی آج کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی، جس پر نیب استغانہ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ ملزمان تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔

وکیل دفاع کا کہنا تھا کہ عدالت شہباز شریف کے اہلخانہ کو ابتدائی مرحلے پر طلب نہ کرے جس پر احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق شریک ملزمان کو پیش ہونا ہے۔

شہباز شریف نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ 'میں نے اپنے دور حکومت میں پنجاب کی عوام کی خدمت کی اور اپنے خاندان کے افراد کا نقصان کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں اپنے متعلق ہائی کورٹ کا حکم لایا ہوں، میرے خاندان پر یہ سیاسی مقدمہ بنایا گیا ہے'۔

جسٹس جود الحسن نے ریمارکس دیے کہ 'فوجداری مقدمات میں ابھی اس کی ضرورت نہیں، بیان آخر میں ریکارڈ کیا جائے گا تب آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں'۔

شہباز شریف نے جج کو جواب دیا کہ 'جو آپ حکم کریں'، اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ 'حکم نہیں قانون کی بات ہے'، بعد ازاں شہباز شریف عدالت سے واپس روانہ ہوگئے۔

جوڈیشل کمپلیکس کے باہر مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'اس کیس کی تفتیش پہلے ہو چکی تھی، اس میں دوبارہ تفتیش کرنا قانونی عمل نہیں تھا'۔

یہ بھی پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثہ جات: شہباز شریف، اہلِخانہ آئندہ سماعت پر طلب

ان کا کہنا تھا کہ 'جھوٹوں کا آئی جی شہزاد اکبر ہے جو ساتواں آئی جی ہے، یہ کرہ ارض کا سب سے جھوٹا انسان ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس کیس کے تانے بانے شہزاد اکبر سے ملتے ہیں، شہباز شریف کے تمام اثاثے ظاہر شدہ ہیں اور کسی سرکاری منصوبے میں ایک پیسے کی کرپشن نہیں ہے'۔

انہوں نے معاون خصوصی برائے احتساب سے سوال کیا کہ 'شہزاد اکبر بتائیں جہانگیر ترین کب لندن سے واپس آ رہے ہیں، انہوں نے اربوں روپے کی کرپشن کی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'شہزاد اکبر آپ پردیسی ہیں اور آپ چند دونوں کے لیے آئے ہیں، مگر آپ کو ہم بھاگنے نہیں دیں گے اور آپ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ہو گا'۔

حمزہ شہباز میں کورونا کی تصدیق

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ 'حمزہ شہباز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور ہم نے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست دی جسے چیف سیکریٹری آفس نے وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے وہ درخواست آئی جی جیل خانہ جات کو جمع کروا دی ہے لیکن حمزہ شہباز کو ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'شاید حکومت وزیراعظم آفس کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ یہ ریموٹ کنٹرول حکومت ہے'۔

لیگی رہنما نے مطالبہ کیا کہ 'حمزہ شہباز کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے، صحت پر سیاست کرنے کی مذمت کرتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اقتدار آنے جانے والی چیز ہے، شہباز گل اور شہزاد اکبر کی زبان درازی کا ہم جواب دے سکتے ہیں لیکن ہم صبر اور اخلاق کا دائرہ نہیں چھوڑنا چاہتے'۔

مزید پڑھیں: لاہور جیل میں قید مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کورونا وائرس کا شکار

انہوں نے خبردار کیا کہ 'یہ باز نہ آئے تو ہمیں جواب دینا آتا ہے، اگر حمزہ شہباز کو آئندہ 24 گھنٹوں ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو ہم وزیراعلٰی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے اور ملک بھر سے کارکنوں کو اکٹھا کریں گے'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'اگر حمزہ شہباز کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار شہزاد اکبر ہوں گے، یہ حکومت کے انتقام کی انتہا ہے کہ حمزہ شہباز کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا'۔

منی لانڈرنگ ریفرنس

خیال رہے کہ 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

بعد ازاں 20 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔

ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔

ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔