خواتین کو کسی کی بیٹی یا بیوی نہیں ’عورت‘ کی حیثیت سے پہچانا جائے، شیریں مزاری

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

شیریں مزاری کے مطابق کسی کو حق نہیں کہ وہ خواتین کو کہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں — اسکرین شاٹ
شیریں مزاری کے مطابق کسی کو حق نہیں کہ وہ خواتین کو کہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں — اسکرین شاٹ

ملک میں خواتین پر تشدد اور ان کے استحصال کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے اس وقت ملک بھر میں خواتین موضوع کا بحث بنی ہوئیں ہیں اور لوگ بھی خواتین کی تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور سماجی رہنما بھی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خواتین کے لیے بھی مرد حضرات کے برابر حقوق دیے جائیں اور اس ضمن میں مناسب قانون سازی بھی ہونی چاہیے۔

اسی حوالے سے انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مرد حضرات کو بتایا کہ وہ صنف نازک کے حوالے سے اپنی سوچ بدلیں۔

شیریں مزاری نے 14 ستمبر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں صرف ایک خاتون کی حیثیت سے بات کر رہی ہیں اور وہ پاکستانی مرد حضرات کو بتانا چاہتی ہیں کہ خواتین کو کسی مرد کی بیٹی، بہن، ماں یا بیوی کے طور پر نہیں بلکہ اسے ’خاتون‘ کی حیثیت سے پہچانا جائے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’خواتین‘ کو ان کے ’عورت‘ ہونے کی وجہ سے عزت دی جائے اور انہیں وہ تمام حقوق دیے جائیں جو مرد حضرات کو ملتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ’خاتون‘ کی عزت اس وجہ سے نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسی کی بیٹی، بہن یا ماں ہیں، بلکہ اس کی عزت اس کے ’عورت‘ ہونے کی وجہ سے ہونی چاہیے، کیوں کہ خواتین بھی اس ملک کے اتنی ہی شہری ہیں جتنے مرد ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شیریں مزاری کی ’عورت مارچ‘ کو رکوانے کے بیانات کی مذمت

شیریں مزاری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں پہچتا کہ وہ کسی خاتون کو کہے کہ اس طرح کا لباس پہنیں، اس طرح سفر کریں، کسی محرم کو ساتھ لے کر نکلیں اور وہ اکیلی سڑک پر کیوں پھر رہی ہیں؟

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ کسی کا حق نہیں بنتا کہ وہ خاتون کو ان کی جنس کی وجہ سے ایسی باتیں بتائے۔

شیریں مزاری نے دلیل دی کہ اگر کوئی مرد اپنی نظریں نیچے نہیں کر سکتا اور اگر کوئی مرد کسی عورت کو عزت سے نہیں دیکھ سکتا تو اس مرد کو گھر میں بند کیا جائے اور اسے کہا جائے کہ وہ سڑکوں پر نہ نکلے۔

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب کے دوران ہنسنے والے اراکین کو بھی ٹوکا اور کہا کہ ایک خاتون ہونے کے ناطے جتنا غصہ ان میں موجود ہے، اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر کی خواتین میں غم و غصے کی لہر ہے۔

شیریں مزاری نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ بات بلکل ناقابل برداشت ہے کہ کوئی کسی عورت کو کہے کہ وہ ’فلاں‘ کام کرے تو محفوظ رہے گی اور ’فلاں‘ کام کرے گی تو اس پر حملہ ہوگا۔

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کسی کی بیوی یا بیٹی ہونے کے ناطے نہیں بلکہ پاکستانی شہری اور عورت ہونے کے ناطے خواتین کو حق حاصل ہے کہ انہیں وہ تحفظ، قوانین اور اختیارات فراہم کیے جائیں جو انہیں آئین پاکستان میں دیے گئے ہیں۔

شیریں مزاری کی جانب سے قومی اسمبلی میں بحیثیت ’خاتون‘ ملکی خواتین کے مسائل کو اٹھانے پر انہیں سراہا جا رہا ہے۔

شیریں مزاری جہاں اس وقت انسانی حقوق کی وزیر ہیں، وہیں انہیں خواتین و بچوں سمیت انسانی حقوق کے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ مظلوم طبقے کی حمایت کرتی آئی ہیں۔