کورونا وائرس کے مرکز ووہان پر بنی فلم '76 ڈیز' نمائش کے لیے پیش

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

فلم کا انحصار نئی، خوفناک حقیقت سے نمٹتے ڈاکٹرز اور مریضوں کی فوٹیجز پر ہے۔
فوٹو: اے ایف پی —
فلم کا انحصار نئی، خوفناک حقیقت سے نمٹتے ڈاکٹرز اور مریضوں کی فوٹیجز پر ہے۔ فوٹو: اے ایف پی —

دنیا بھر کے مختلف ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے خلاف جدوجہد جاری ہے جس کے ساتھ ہی اس سے ہونے والی بیماری کے خلاف ویکسین کی تیاری کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

خیال رہے کہ چین کا شہر ووہان دنیا کا وہ پہلا شہر تھا جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے پہلے یعنی 23 جنوری 2020 کو انتظامیہ نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔

ابتدائی طور پر چینی حکام نے شہر کو جزوی طور پر بند کیا تھا تاہم بعد ازاں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے شہر کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔

ووہان سے ہی کورونا وائرس کا آغاز دسمبر 2019 کے وسط میں ہوا تھا تاہم بعد ازاں چینی ماہرین نے ایک رپورٹ میں اعتراف کیا تھا کہ کورونا کے مریض نومبر 2019 میں ہی سامنے آئے تھے مگر ان کے مرض کی تشخیص نہیں ہو پائی تھی اور مرض کو پہچاننے میں ماہرین کو کچھ وقت لگا تھا۔

مزید پڑھیں: چین میں 'کورونا کے مرکز' ووہان سے لاک ڈاؤن ختم، دنیا کے کئی ممالک میں شروع

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے چینی حکام نے ابتدائی طور پر جنوری 2020 کے آغاز میں ہی ووہان کو جزوری طور پر بند کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں تک محدود کردیا تھا تاہم بعد ازاں شہر میں مکمل لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہی چینی حکام کورونا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے اور پہلی بار 19 مارچ 2020 کو ووہان کے شہر سے کوئی بھی کورونا کا نیا کیس سامنے نہیں آیا تھا جس کے بعد 23 مارچ کو وہاں سخت لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا تھا۔

ووہان میں جاری اس سخت لاک ڈاؤن کے دوران چین کے 2 فلم ساز وبا سے بچاؤ کا حفاظتی لباس پہنے ووہان کے ان ہسپتالوں میں عکس بندی میں مصروف تھے جہاں مریضوں کا بے پناہ رش تھا۔

وہاں انہوں نے ایسی دل دہلا دینے والی ویڈیوز کی عکس بندی کی جن میں وبا کے خوف میں مبتلا شہریوں کو ہسپتالوں کے دروازے پیٹتے، طبی عملے کو تھکن سے بے حال ہوتے اور کورونا سے متاثرہ افراد کے رشتہ داروں کو اپنے پیاروں کو خدا حافظ کہنے کے لیے حکام کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے دیکھا گیا۔

اب ان تمام ویڈیوز اور تصاویر کو نیویارک میں مقیم ڈائریکٹر ہاؤ وو ایڈٹ نے ایڈٹ کیا اور فلم کی شکل میں ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں پیش کیا۔

فرسٹ پوسٹ میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں '76 ڈیز' کے عنوان سے بنائی گئی اس ٖفلم کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

اس فلم کا نام چین کے شہر اور کورونا وائرس کے مرکز ووہان میں 76 تک جاری رہنے والے لاک ڈاؤن پر رکھا گیا جو وبا کے اصلی مرکز سے تھیٹر میں پیش کی جانے والی پہلی بڑی دستاویزی فلم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کیلئے اُمید کی کرن، ووہان میں آج کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا

سینما کی طرز پر بند جگہوں سے خوف کے عالم میں بنی اس فلم میں آواز یا انٹرویوز کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس کا انحصار ایک نئی اور خوفناک حقیقت سے نمٹتے ڈاکٹرز اور مریضوں کی فوٹیجز پر ہے۔

ہاؤ وو نے پہلے ان دونوں فلم سازوں سے رابطہ کیا تھا جن میں سے ایک نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنی چاہی تھی کیونکہ وہ نئے چینی سال کے موقع پر چین گئے تھے جہاں انہوں نے ووہان میں نافذ سخت ترین لاک ڈاؤن دیکھا تھا۔

دونوں افراد کی جانب سے ہاؤ وو کو بھیجی گئی فوٹیج میں انکشاف ہوا کہ کس طریقے سے اس نامعلوم بیماری کے ابتدائی ہفتوں میں افراتفری کے دوران وہ ہر جگہ رسائی حاصل کرنے کے قابل تھے لیکن ساتھ انہیں ذاتی خطرات اور مشکلات کا بھی سامنا تھا۔

فلم کے حوالے سے ہاؤ وو نے اے ایف پی کو بتایا کہ فلم سازوں کے لیے ان حالات کی عکس بندی کرنا بہت ہولناک تھا، وہ بے ہوش ہورہے تھے، وہاں بہت گرمی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ چند مرتبہ تو فلم ساز ویکسی چین کو قے آتے آتے ہی رہ گئی لیکن وہ قے نہیں کرسکے کیونکہ اگر ایک مرتبہ پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ (پی پی ای) اتار دی جائے تو باہر جانا پڑتا اور دوبارہ اندر نہیں آ سکتے تھے

ہاؤ وو نے مزید کہا کہ یہ ایک میدان جنگ میں عکس بندی کرنے جیسا تجربہ تھا۔

تاہم اس پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے ہاؤ وو کے پاس ذاتی وجہ بھی تھی، کیونکہ وبا پھوٹنے کے بعد ان کے دادا کینسر کے باعث انتقال کرگئے تھے اور کورونا وائرس کی وجہ سے انہیں ہسپتال میں جگہ نہیں مل سکی تھی۔

ہاؤ وو کا کہنا تھا کہ شروعات میں، میں چین کی حکومت پر غصہ تھا، میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ کس کی غلطی ہے، یہ کس کی وجہ سے ہوا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب وبا پھیل گئی تو یہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو گئی، دوسرے ممالک جیسا کہ امریکا بھی اس کی لپیٹ میں آگیا تھا تو ان حالات میں مورد الزام ٹھہرانے کی خواہش یہ رقم کرنے کی خواہش میں تبدیل ہوگئی کہ بطور انسان، ان حالات میں زندگی گزارنے کا تجربہ دوسروں کے ساتھ کیسے شیئر کیا جائے۔

مزید پڑھیں: چین: انسان سے انسان میں منتقل ہونے والے مہلک وائرس کے پھیلنے کی تصدیق

حیران کن طور پر چین کے ذرائع ابلاغ پر سخت کنٹرول ہونے کے باوجود اس حوالے سے رسائی حاصل کرنا کہیں آسان تھا۔

ہاؤ وو کے مطابق چین کے مقابلے میں نیو یارک کے ہسپتالوں میں فلم بندی کرنا قانونی طور پر زیادہ مشکل ثابت ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ووہان کے ہسپتال جہاں پی پی ایز کی قلت تھی، انہوں نے ابتدائی طور پر کوریج کا خیر مقدم کیا کیونکہ اس کی مدد سے انہیں امدادی سامان اور رضاکاروں کی توجہ حاصل ہوسکتی تھی۔

76 دن کے لاک ڈاؤن پر بنی یہ فلم سیاست اور الزامات کے بجائے سانحہ اور بہادری، اُمید اور مایوسی کی ذاتی کہانیوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جو چین میں سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں دہرائی گئی۔

اس میں دکھایا گیا کہ طبی عملے نے اہلخانہ سے دور موجود مریضوں کے ہاتھ تھام کر انہیں حوصلہ دیا اور دونوں ہی حفاظتی لباس میں ملبوس ایک دوسرے سے سر ٹکرا کر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ فلم چین میں بھی دکھائی جا سکے گی یا نہیں کیونکہ وہاں عالمی وبا کے حوالے سے خبروں کو پہلے دن سے کنٹرول میں رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مغربی ممالک سمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چین پر بارہا یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ وبا کی صورت حال کو چھپا رہا ہے۔

ہاؤ وو کا کہنا تھا کہ یہ فلم چین میں دکھا کر مجھے خوشی ہو گی کیونکہ میرے خیال میں کووڈ 19 نے پورے ملک کی نفسیات پر اثرات مرتب کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر چینی اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ملک نے اس بیماری پر قابو پا لیا ہے، لیکن یہ ایک نفسیاتی صدمہ بھی ہے۔