الیکشن کمیشن نے سندھ میں حلقہ بندیوں کے عمل کو مؤخر کردیا

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کی درخواست پر فیصلہ سنایا — فائل فوٹو: ٹوئٹر
الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کی درخواست پر فیصلہ سنایا — فائل فوٹو: ٹوئٹر

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی درخواست پر سندھ میں حلقہ بندیوں کے عمل کو مؤخر کردیا۔

اس حوالے سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو اور تاج حیدر کی جانب سے سندھ میں مردم شماری کی حتمی رپورٹ شائع ہونے تک حلقہ بندیاں روکنی کی استدعا کی گئی تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ درخواست پر صوبے میں حلقہ بندیوں کو وقتی طور پر مؤخر کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ: بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم، حلقہ بندیوں کا اعلان

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 31 اگست کو سندھ میں حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے مطابق 30 اکتوبر تک یہ حلقہ بندیاں مکمل ہونا تھیں۔

31 اگست کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ 9 ستمبر سے 22 ستمبر تک حلقہ بندی کمیٹیاں حلقوں کی ابتدائی فہرست تیار کریں گی۔

جس کے بعد 23 ستمبر کو حلقہ بندیوں کی فہرستیں شائع کی جائیں گی اور پھر 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک حلقہ بندی اتھارٹیز کے پاس نامزدگی اور اعتراضات جمع کروائے جاسکیں گے۔

بعدازاں 22 اکتوبر تک اعتراضات دور کیے جائیں گے جس کے بعد 29 اکتوبر کو حلقہ بندی اتھارٹیز کے فیصلے پر حلقہ بندی کمیٹیوں سے رابطہ کیا جاسکے گا۔

بالآخر 30 اکتوبر کو حلقہ بندی کمیٹی حلقوں کی حتمی فہرست شائع کردے گی جس کے بعد سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوگا۔

تاہم اب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے اس نوٹیفکیشن پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مردم شماری 2017 کے نتائج کی توثیق کے بغیر اگلا قدم ممکن نہیں، مراد علی شاہ

یاد رہے کہ سندھ میں 30 اگست 2020 کو بلدیاتی کونسلز کی 4 سالہ مدت اختتام پذیر ہونے پر بلدیاتی حکومتوں کے تمام منتخب عہدے تحلیل کردیے گئے تھے۔

تاہم سندھ میں وقت پر بلدیاتی انتخابات ہونے کا امکان کافی حد تک کم نظر آتا ہے کیونکہ وزیراعلیٰ سندھ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے مردم شماری 2017 کے نتائج کی توثیق تک بلدیاتی انتخابات سے متعلق اگلا قدم نہیں اٹھایا جاسکتا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سندھ میں 12 سال سے زائد عرصے سے حکومت کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے 2010 میں اس وقت کی ضلعی حکومت کو تحلیل کرنے کے بعد صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں 5 سال لگائے تھے جبکہ یہ انتخابات بھی سپریم کورٹ کے حکم پر سال 2015 میں کروائے گئے تھے۔