ترکی اور متحدہ عرب امارات کے مابین بڑھتی کشیدگی اور خطے کا مستقبل

18 ستمبر 2020

ای میل

لکھاری صحافی ہیں۔
لکھاری صحافی ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے معاہدے کا اعلان کیا گیا تو ترکی اور ایران مشرقی وسطیٰ کے وہ 2 ممالک تھے جنہوں نے اس معاہدے کی کھل کر مذمت کی۔

اگرچہ ایران کی مخالفت تو اس کی اپنی پالیسیوں کے عین مطابق ہے، یعنی عرب ریاستوں اور اسرائیل کے ساتھ اس کی شدید کشیدگی کے بارے میں تو سب جانتے ہیں، مگر ترکی کا متحدہ عرب امارات پر غصہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ قریب سے اس پوری صورتحال کا تجزیہ کیا جائے، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسی بڑھتی ہوئی علاقائی دشمنی کا عنصر ہے، جس پر کم ہی بات ہوتی ہے۔

یہ ایک عجیب و غریب سلسلہ لگتا ہے جو تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ درحقیقت یہ دشمنی ہے جو مشرق وسطیٰ کی سیاست اور دیگر معاملات کا احاطہ کرے گی۔

مزید پڑھیے: اسرائیل سے تعلقات، بحرین کے بعد کون؟ نشانہ ایران یا کوئی اور؟

پھر یاد رہے کہ یہ کوئی نئے معاملات نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں ممالک اس خطے میں رہتے ہوئے دو الگ الگ نظریے رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کا کوئی بھی اشارہ امارات کے لیے کسی بُرے خواب سے کم نہیں کیونکہ یہ سب سے پہلے اخوان المسلمون کو اقتدار کی طرف پہنچائے گا۔ اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو یہ لازم ہے کہ اس نظام کے بحال ہونے سے خلیجی بادشاہتوں کی طاقت میں کمی ہوگی اور ان کی گرفت کمزور ہوجائے گی۔

صدر رجب طیب اردوان کی قوم پرست پالیسیوں اور آمرانہ جھکاؤ کے باوجود ترکی ایک جمہوری ملک کی حیثیت رکھتا ہے اور کم از کم نظریاتی طور پر اخوان المسلمون کے لیے ہمدردی رکھتا ہے۔ اس کا عملی نمونہ ہم نے 2000ء میں اس وقت دیکھا جب انقرہ نے اخوان اور اس سے وابستہ مقاصد کا ساتھ دیا جب متحدہ عرب امارات نے اس تحریک کے اراکین اور مشتبہ ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف برتاؤ کیا اور انہیں ریاستی اور تعلیمی اداروں میں عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ اس نفرت کا انجام 2011ء میں اخوان المسلمون پر ایک بڑے کریک ڈاؤن کی صورت میں نکلا جس کے نتیجے میں اخوان المسلمون کو 2014ء میں دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا تھا۔

لیکن اس سے پہلے ’عرب بہار‘ آگئی تھی جس نے خلیجی بادشاہتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس پوری صورتحال کو انہوں نے اپنی حکمرانی کے لیے واضح خطرہ محسوس کیا۔ دوسری جانب ترکی نے اس صورتحال کو خدا کی جانب سے ایک موقع غنیمت جانا اور اسی کے مطابق کام کرتے ہوئے مظاہرین کی اخلاقی مدد کی۔

جب مصر میں انتخابات ہوئے اور محمد مرسی اقتدار میں آئے تو کچھ دیر کے لیے ایسا لگا جیسے سب کچھ ویسا ہی ہورہا ہے جیسا ترکی چاہتا ہے۔ لیکن یہ سب زیادہ عرصے نہیں چل سکا اور السیسی کی جانب سے ہونے والی بغاوت کے بارے میں دونوں ممالک کا ردِعمل متوقع تھا۔ ترکی نے اس کی مذمت کی اور متحدہ عرب امارات نے اس کا خیر مقدم کیا، بلکہ وہاں قائم ہونے والی نئی حکومت کو بڑی تعداد میں نقد رقم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی مدد کی بھی یقین دہانی کروائی۔

مزید پڑھیے: امارات، بحرین سے معاہدے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری

2016ء میں جب ترکی میں بغاوت کی کوشش ہوئی تو انقرہ میں شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے کیونکہ متحدہ عرب امارات نے اس بغاوت کی نہ تو کوئی مذمت کی اور اس پر اپنے غصے کا اظہار کیا، درحقیقت یہ عمل باغیوں کی حمایت جیسا تھا۔ بس پھر اردوان کے اشارے کے ساتھ ہی ترک میڈیا نے ایسی خبریں نشر کیں جن میں یہ الزامات عائد کیے کہ متحدہ عرب امارات نے اس کوشش میں 3 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں جو ان کے بقول مصر اور سوڈان میں ردِعمل دینے والے عناصر کی حمایت ہے۔

بس تب سے ان دونوں ممالک کے درمیان حالات ابتر صورتحال سے دوچار ہیں اور آج ہم ترکی اور متحدہ عرب امارات کو ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، اور ہر موقع پر ترکی کے منصوبوں کو مسترد کرنے کی کوشش کی گئی۔

اگر شام کی بات کی جائے تو انقرہ اسد حکومت کا سختی سے مخالف ہے اور اس نے نہ صرف حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کی تھی بلکہ بعد میں اسد کے خلاف باغی تحریکوں کی بھی حمایت کی۔ اس کے برعکس متحدہ امارات اسد حکومت کے ساتھ زیادہ ہمدرد تھا اور مبیّنہ طور پر کردش پی کے کے کو مالی معاونت بھی فراہم کی جسے ترکی، امریکا اور یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم کیا ہے، اور یقینی طور پر ایسا ترکی کے خلاف مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا ہوگا۔

پھر جب 2019ء میں ترکی نے شامی سرحد پر وائے پی جی کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو امارات کھل کر وائے پی جی کی حمایت میں سامنے آیا اور اس کارروائی کو ’امن کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے الفاظ کی ایک اور سفارتی جنگ کو بڑھاوا دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ جب قطر کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایک ہوئے تو ترکی نے قطر کا ساتھ دیا، یہی نہیں بلکہ وہاں امدادی سامان کے ساتھ ساتھ 5 ہزار ترک فوجی بھی روانہ کیے۔

اس بڑھتے ہوئے تنازع کا تازہ ترین مرکز لیبیا ہے جہاں متحدہ عرب امارات نے خلیفہ حفتر کی حمایت میں اپنے قابلِ ذکر خزانوں کو کھول دیا۔ وہی بے شمار تمغوں سے لیس خلیفہ حفتر جنرل جن کی نیشنل آرمی نے خلیج ریاستوں، مصر اور فرانس کی بھرپور مدد کے باوجود طرابلس میں مہینوں سے جاری فوجی کارروائی میں شکست کو تسلیم کرلیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حفتر کے زیرِ کنٹرول ایئر بیس کے لیے درجنوں خفیہ پروازیں بھریں جن سے وہ جدید اسلحہ فراہم کرتا تھا۔ یہاں ہم ایک بار پھر ترکی کو مخالف فریق کی طرف دیکھتے ہیں جو اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ کی حمایت کرتا ہے۔

ایسا صرف ممالک کو اپنے کیمپ میں شامل کرنے کے لیے نہیں ہے کہ وہ نظریاتی طور پر اس کے اتحادی بن سکیں، کیونکہ ترکی کے لیے لیبیا بطور دوست بحیرہ روم میں مزید رسائی دیتا ہے۔ اور اگر ترکی کچھ چاہتا ہے تو آپ شرط لگا سکتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات اس کو روکنے کی پوری کوشش کرے گا بالکل ایسے ہی جیسے بحیرہ روم میں ترکی اور یونان کے درمیان تازہ ترین کشیدگی میں ہم متحدہ عرب امارات کو یونان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، یہاں تک کہ یونانی فوج کے ساتھ مشترکہ تربیت کے لیے 4 ایف 16 طیاروں کو بھی بھیجا جارہا ہے۔

یہاں ترکی کے لیے بہت زیادہ خطرہ ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ گیس اور توانائی کی ترسیل کررہا ہے اور اسے یورپی طاقتوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے خصوصاً فرانس کی جانب سے جس کا مقصد اپنا فائدہ دیکھنا اور ترکی کے مفادات کو کم کرنا ہے، اور یہ مخالفت اسے متحدہ عرب امارات کااتحادی بنادیتی ہے۔ دوسری جانب ترکی کے پاس علاقائی اتحادیوں کی تعداد کم ہے اور اسے آنے والی دہائی میں اپنی حکمتِ عملی کو بہت محتاط رہتے ہوئے تبدیل کرنا پڑے گا۔


یہ مضمون 14 ستمبر 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔