ترکی اور ایران کی اسرائیل-بحرین معاہدے کی سخت مذمت

اپ ڈیٹ 13 ستمبر 2020

ای میل

ایران نے بحرین پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا—فائل فوٹو
ایران نے بحرین پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا—فائل فوٹو

استنبول: ترکی اور ایران نے اسرائیل اور بحرین کے مابین ہونے والے معاہدے کی مذمت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے دونوں ممالک کے مابین معاہدے کو فلسطینی کاذ کے لیے 'تازہ دھچکا' قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بحرین پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل سے معاہدہ کرکے یو اے ای نے عالم اسلام، فلسطینوں کے ساتھ غداری کی، ایران

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اسرائیل اور بحرین کے مابین 'امن معاہدے' کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ ایک مہینے قبل یعنی 15 اگست کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین سفارتی تعلقات بحال کرنے سے متعلق 'امن معاہدہ' ہوا تھا۔

اس طرح محض ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اپنے سابق حریف اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا دوسرا عرب ملک بن گیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ انقرہ اس اقدام سے 'فکر مند' ہے اور اس معاہدے کی 'سخت مذمت' کرتا ہے۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ 'یہ اقدام فلسطینی مقاصد کے دفاع کی کوششوں کو ایک نیا دھچکا ہوگا اور وہ اسرائیل کو فلسطین کی طرف اپنے غیر قانونی عمل اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کو مستقل کرنے کی کوششوں کو مزید جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 'تاریخی امن معاہدہ'

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عرب امن اقدام کے تحت ممالک کی طرف سے کئے گئے وعدوں کے منافی ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے سن 1967 کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا اور اسلامی تعاون تنظیم کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں ایک بیان میں ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ خلیجی خطے میں اسرائیل کی وجہ سے کسی بھی طرح کے عدم تحفظ کی ذمہ داری بحرین اور اس کے اتحادیوں کی حکومتوں پر عائد ہوگی۔

ایرانی ٹی وی نے بیان کے حوالے سے کہا کہ 'بحرین کے شرمناک اقدام نے امریکی انتخابات کے موقع پر فلسطینی کاذ اور دہائیوں کی جدوجہد کو قربان کردیا۔

بحرین کے شہریوں نے معاہدے کے خلاف سوشل میڈیا پر اپنی مایوسی یا غم و غصہ کے اظہار کیا اور کہ 'بحرینی (اسرائیل سے تعلقات لانے) کے خلاف' اور '(اسرائیل کے ساتھ تعلقات) معمول پر لانا غداری ہے' ہیش ٹیگ استعمال کیے گئے۔

سابق قانون ساز علی الاسود نے کہا کہ 'بحرین کی تاریخ کا یوم سیاہ'۔

مزیدپڑھیں: او آئی سی نے ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کا امن منصوبہ مسترد کردیا

مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی میں سماجی امور کے وزیر احمد مجدالانی نے کہا کہ یہ معاہدہ فلسطینی کاذ اور فلسطینی عوام کی پشت پر چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

غزہ کی پٹی پر کنٹرول رکھنے والی جماعت حماس نے کہا کہ یہ ایک 'جارحیت' ہے جس نے فلسطینی مقاصد کے لیے 'سنگین مسائل' کا آغاز کردیا۔

واضح رہے کہ 15 اگست کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین امن معاہدہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات استوار کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانا ایک 'بہت بڑی پیشرفت' ہے۔

18 اگست کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی 'موساد' کے سربراہ یوسی کوہن نے سیکیورٹی سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: مجوزہ امریکی منصوبے کے بعد فلسطین اوسلو معاہدے کا پابند نہیں رہا، محمود عباس

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین 'امن معاہدے' کے بعد کسی اسرائیلی عہدیدار کا ابوظہبی کا یہ پہلا اعلیٰ سطح کا دورہ تھا۔

اس پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے معاہدے کر کے عالم اسلام اور فلسطینیوں کے ساتھ غداری کی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردیں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر کہا تھا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ فلسطینیوں کو ان کا حق ملنے تک ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتے۔