'پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 53 ممبران اسمبلی غیر حاضر رہے'

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2020

ای میل

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے ان ممبران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے ان ممبران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن اکثریت رکھنے کے باوجود 'متنازع' قانون سازی کو روکنے کے اپنے منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی جس کی وجہ سے حکومت نے 8 بل منظور کرالیے جس میں 3 فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے قوانین کے نفاذ سے متعلق تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ (104) اور قومی اسمبلی (342) کی مشترکہ قوت 446 ممبران کی ہے تاہم ان میں سے صرف 390 نے ووٹنگ میں حصہ لیا، حکومتی بینچز سے 200 اور اپوزیشن سے 190، اس کا مطلب ہے کہ مشترکہ اجلاس سے 53 ممبران غیر حاضر تھے۔

تاہم اعلان کیا گیا کہ 41 ارکان اسمبلی غیر حاضر ہیں جن میں اپوزیشن کے 32 اور حکومتی بینچز سے 9 شامل ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے ان ممبران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق تین بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج

چند ممبران نے افسوس کا اظہار کیا کہ بیماری یا خاندانی مسائل کی وجہ سے وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔

ان جماعتوں نے اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی الزامات لگائے جنہوں نے مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنماؤں کو بولنے کی اجازت نہ دینے پر انہیں 'متعصبانہ' قرار دیا۔

ریکارڈ کے مطابق 26 رکن قومی اسمبلی اور 13 سینیٹرز نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیرقیادت حکمران اتحاد کی قومی اسمبلی میں 180 اور سینیٹ میں 36 ارکان ہیں جس سے مشترکہ اجلاس میں ان کے 216 کی مشترکہ قوت بنتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ حکومتی بینچز سے تعلق رکھنے والے 16 ارکان اجلاس سے دور رہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی 162 نشستیں ہیں جن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی 85، پاکستان پیپلز پارٹی کی 54، متحدہ مجلس عمل کی 16، عوامی نیشنل پارٹی کی ایک اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی چار نشستیں شامل ہیں۔

سینیٹ میں اپوزیشن کی 67 نشستیں ہیں جن میں مسلم لیگ (ن) کی 30 (لیکن اس کے ایک ممبر اسحاق ڈار نے حلف نہیں لیا اور وہ بیرون ملک مقیم ہیں)، پیپلز پارٹی کی 21، ایم ایم اے کی 6، اے این پی اور بی این پی کی ایک ایک، نیشنل پارٹی (این پی) کی چار اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی چار شامل ہیں۔

ایوان زیریں میں حکومت اور اس کے اتحادیوں کی 216 نشستوں میں سے پی ٹی آئی کی 156، پاکستان مسلم لیگ (ق) کی 5، 2 آزاد، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی 3، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5، متحدہ قومی موومنٹ کی 7 اور عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک ایک نشست شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز کی منظوری کیلئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس آج متوقع

سینیٹ میں حکومت کی 36 نشستیں ہیں جن میں پی ٹی آئی کی 14، آزاد امیدواروں کی 7، جی ڈی اے کی ایک ، بی اے پی کی 9 اور ایم کیو ایم کی 5 نشستیں شامل ہیں۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کے 30 ارکان پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس سے دور رہے ، اس لیے حکومتی بینچز نے 10 ووٹوں کی اکثریت حاصل کی۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ اپوزیشن کے ساتھ دو ملاقاتوں میں انہیں یہ یقین دہانی دی گئی تھی کہ وہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق تمام بلز پر حکومت کی حمایت کریں گے لیکن اجلاس کے دوران وہ اپنے وعدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز کی کچھ متنازع شقوں پر اپوزیشن کو تحفظات ہیں کیونکہ یہ تفتیشی افسران کو منی لانڈرنگ کے شبہ میں کسی کو بھی اٹھانے کا اختیار دیتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے چند ارکان کو مشترکہ اجلاس سے دور رہنے کے لیے 'دباؤ' ڈالا گیا تھا۔

مشترکہ اجلاس سے غیر حاضر چند معروف ممبران میں، ایم این اے ریاض پیرزادہ ، رفیزل کاکڑ اور احسان باجوہ، سینیٹر سلیم ضیا (بیماری)، سینیٹر چوہدری تنویر (ملک سے باہر ہونے کے سبب)، احمد رضا مانیکا (ہنزہ میں تھے)، افتخار رضا، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر راحیلہ مگسی، سینیٹر کلثوم پروین، مولانا عطا الرحمن، سینیٹر طلحہ محمود، آصف علی زرداری، سید خورشید شاہ، سینیٹرز سلیم ضیا، روبینہ خالد اور ستارہ ایاز شامل ہیں۔

حکومتی بینچز سے غیر حاضر معروف ممبران اسمبلی میں عامر لیاقت حسین، مونس الٰہی، عاصم نذیر، عبدالمجید خان اور احمد حسین شامل ہیں۔