پی ایس او تقرریوں میں شاہد خاقان عباسی کا کوئی کردار نہیں، سندھ ہائی کورٹ

19 ستمبر 2020

ای میل

سندھ ہائی کورٹ نے تفصیلی حکم نامہ جاری کردیا۔ فائل فوٹو:وکی میڈیا کامنز
سندھ ہائی کورٹ نے تفصیلی حکم نامہ جاری کردیا۔ فائل فوٹو:وکی میڈیا کامنز

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے مشاہدہ کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور اس وقت کے سیکرٹری پیٹرولیم نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے کی گئی پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) میں تقرریوں میں اثر انداز ہوئے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کے تفتیشی افسر نے اس وقت کے وزیر اعظم سے پوچھ گچھ کرنے یا ریفرنس میں کسی مشتبہ شخص کی طرح سلوک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی۔

جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو ججز پر مشتمل بینچ نے جمعہ کو اپنا تفصیلی حکم جاری کردیا۔

واضح رہے کہ اس ہی بینچ نے شاہد خاقان عباسی، سابق سیکریٹری پیٹرولیم ارشاد مرزا اور دو دیگر افراد کی 3 ستمبر کو پی ایس او میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں کے حوالے سے عبوری ضمانت کی تصدیق کی تھی۔

مزید پڑھیں: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پر پی ایس او کیس میں فرد جرم عائد

بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب مینجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) پی ایس او کی تقرری کا عمل شروع کیا گیا تھا تو شاہد خاقان عباسی پیٹرولیم کے وزیر تھے لیکن اس طرح کی تقرری سے قبل بورڈ آف مینجمنٹ (بی او ایم) کو پیٹرول کے بحران پر اس وقت کے وزیر اعظم کے تحت وفاقی حکومت نے تحلیل کردیا تھا۔

کہا گیا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں کہ شاہد خاقان عباسی، ارشاد مرزا یا کوئی اور سربراہ کی کھوج میں شیخ عمران الحق کے حق میں اثر انداز ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اشتہار کے مطابق شیخ عمران الحق مطلوبہ قابلیت اور تجربہ رکھتے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ایم ڈی ایس او کے عہدے کے لیے ایک اہم امیدوار ہیں۔

اس طرح کی تقرریوں اور پی ایس او کے ایل این جی مارکیٹ میں داخلے کے سبب قومی خزانے کو ہونے والے مبینہ نقصان کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے بینچ نے مشاہدہ کیا کہ یہ خالصتاً پی ایس او کا کاروبار/پالیسی فیصلہ تھا اور ایسا لگتا ہے کہ یہ اس الزام کا حصہ نہیں ہے اعلی تنخواہوں پر غیرقانونی تقرریوں اور نقصان کا معاملہ ظاہر ہوتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نوکری کے لیے اشتہار دینے میں عمران الحق کا کوئی کردار نہیں تھا اور انہوں نے صرف اس عہدے کے لیے درخواست دی تھی اور انہیں منتخب کیا گیا تھا جبکہ جہاں تک یعقوب ستار کے معاملے کا تعلق ہے تو انہیں بی او ایم کے تحلیل ہونے کے فوراً بعد ہی انچارج ایم ڈی مقرر کیا گیا تھا اور ان کی تقرری بھی وفاقی حکومت نے کی تھی شاہ خاقان عباسی نے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کیس: نیب نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کردیا

درخواست گزاروں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے وقت بینچ نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیں۔

درخواست گزاروں پر کراچی کی احتساب عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔

نیب نے رواں سال مارچ کے مہینے میں شاہد خاقان عباسی اور ارشاد مرزا کے خلاف اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے الزام میں ایک ریفرنس دائر کیا تھا جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمران الحق کو ایم ڈی اور یعقوب ستار کو پی ایس او کا نائب ایم ڈی (فنانس) تعینات کرنے کے حوالے سے تھا۔