پاکستان کی بھارت کو سفارتی روایات کا احترام کرنے کی تاکید

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2020

ای میل

5 اگست کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد سے پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے—فائل فوٹو: اے پی پی
5 اگست کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد سے پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ وہ جینت کھوبرا گڈے کی پاکستان میں ناظم الامور کی حیثیت سے تعیناتی کو مسترد کرتا ہے کیوں ایسے وقت میں کہ جب دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا درجہ کم ہے وہ اس منصب کے لیے بہت سینئر ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ 'گمراہ کن اطلاعات پھیلانا اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا نہ صرف سفارتی اقدار کے برعکس ہے بلکہ سیاسی تعلقات کے قائم کرنے کے لیے بھی مددگار نہیں'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'بھارتی ذرائع ابلاغ کے بعض حلقوں میں بھارتی امور خارجہ کی وزارت کے ذرائع کے حوالے سے سینئر بھارتی سفارت کار جینت کھوبرا گڈے کو بھارتی ہائی کمیشن میں ناظم الامور تعینات کی خبریں آئیں، جو گمراہ کن ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بھارت کے ساتھ تجارت معطل، سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد سے پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے جن میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی سطح میں کمی لانا شامل ہے۔

بیان کے مطابق تعلقات میں کمی لانے کا مقصد پاکستان کی جانب سے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرانا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی غیر قانونی، غیر انسانی اور ناقابل قبول کارروائیوں کی مذمت کرنا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایک سینئر سفارتکار جو پہلے ہی بھارت کی جانب سے بطور سفیر تعینات رہ چکا ہو، اس کو اس عہدے پر تعینات کرنے کی سفارش کر کے بھارت سفارتی تعلقات میں کمی کے اثرات کو روکنے کی کوشش کررہا ہے جو پاکستان کے فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ تاہم سفارتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے سفارتی تعلقات کی سطح میں کمی کے فیصلے سے مطابقت رکھنے والے کسی افسر کو تعینات کرے۔

مزید پڑھیں:بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں کو ’ناپسندیدہ‘ قرار دینے پر پاکستان کا اظہار مذمت

بیان میں مزید کہا گیا کہ جہاں تک ہندوستانی میڈیا میں ڈھکی چھپی دھمکیوں کا تعلق ہے کہ کھوبرا گڈے کو ویزے کی فراہمی کا معاملہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو 'مزید غیر مستحکم' کر دے گا اس کے لیے واضح ہونا چاہیے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے تنازع کے حل سے منسلک ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ جموں کشمیر تنازع کا پائیدار حل جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے جس کے مطابق بھارت کو ایک مرتبہ پھر جموں کشمیر مسئلے کے حوالے سے اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہیں، بھارت کو کشمیری عوام اور عالمی برادری کی آواز سننا ہو گی۔