امریکی حکام نے ٹرمپ کو بھیجا گیا زہریلے مواد کا پارسل پکڑ لیا

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2020

ای میل

ٹرمپ کے لیے وائٹ ہاؤس کے پتے پر بھیجا گیا پارسل پکڑا  گیا— فائل فوٹو: اے پی
ٹرمپ کے لیے وائٹ ہاؤس کے پتے پر بھیجا گیا پارسل پکڑا گیا— فائل فوٹو: اے پی

امریکی حکام نے کینیڈا سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھیجا گیا زہریلے مواد کا پارسل پکڑ لیا۔

رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے بتایا کہ کینیڈا سے وائٹ ہاؤس کے لیے بھیجے گئے لفافے کو امریکی حکام نے پکڑ لیا ہے جس میں زہریلے مواد کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ

پولیس ترجمان نے تصدیق کی کہ انہیں امریکی ایف بی آئی سے درخواست موصول ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے لیے بھیجے گئے مشکوک خط کے سلسلے میں انہیں مدد درکار ہے۔

پولیس کے مطابق ایف بی آئی نے لفافے میں موجود اجزا کا تجزیہ کرنے کے بعد رپورٹ میں بتایا کہ اس میں زہریلا مواد 'ریسین' موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ایف بی آئی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں لیکن مزید تفصیلات بتانے سے گریز کردیا۔

خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایف بی آئی نے کہا کہ ایجنسی اور یو ایس سیکرٹ سروس اینڈ یو ایس پوسٹل انسپیکشن سروس پارٹنرز امریکی حکومت کے سرکاری میل ایڈریس پر موصول اس مشکوک خط کی تفتیش کر رہے ہیں اور عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

جب اس حوالے سے وائٹ ہاؤس اور امریکی سیکرٹ سروس سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوئٹر نے ٹرمپ کی 'گمراہ کن' ٹوئٹس پر وارننگ لیبل لگا دی

رپورٹ کے مطابق ریسین اسٹاک بینز میں موجود ہوتا ہے لیکن اس کو زہر کی شکل دینے کا ایک باقاعدہ عمل ہے جو سرکاری اجازت کے بغیر نہیں بنایا جا سکتا، اس زہر سے 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے اور ابھی تک اس کے تدارک کے لیے کوئی دوا یا اینٹی ڈوٹ تیار نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل بھی امریکا میں لفافے میں ریسین بذریعہ میل باکس بھیجنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

2018 میں امریکی ریاست اُتاہ کے ایک شخص نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کے نام سربمہر لفافے بھیجے تھے جن میں یہی زہریلا مواد موجود تھا لیکن وائٹ ہاؤس پہنچنے سے قبل ہی اسے پکڑ لیا گیا تھا اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس سے قبل صدر باراک اوباما کو بھی ریسین بھیجنے کے الزام میں دو افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکی حراستی مراکز میں خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا انکشاف

مئی 2014 میں اس وقت کے امریکی صدر اوباما کو یہ زہریلا مواد بھیجنے کے جرم میں ریاست مسی سپی کے ایک شہری جیمز ایوریٹ کو 25سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جولائی 2014 میں ٹیکساس کے ایک ایکٹر نے امریکی صدر اور نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ کو ریسین میل کیا تھا جس پر انہیں 18سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔