ناروا سلوک اور جنسی ہراسانی پر معافی کے ساتھ ایلن ڈیجنرس شو کا نیا سیزن شروع

23 ستمبر 2020

ای میل

ایلین ڈیجنرس شو کا شمار دن میں دیکھے جانے والے سب سے زیادہ شوز میں ہوتا ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
ایلین ڈیجنرس شو کا شمار دن میں دیکھے جانے والے سب سے زیادہ شوز میں ہوتا ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی اداکارہ، ٹی وی میزبان اور کامیڈین 62 سالہ ایلین ڈیجنرس نے ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک اور جنسی ہراسانی پر معافی مانگتے ہوئے شو کے 18ویں سیزن کا آغاز کردیا۔

ایلین ڈیجنرس کا شو 2003 سے جاری ہے اور انہیں این بی سی نیٹ ورک کے ٹی وی چینلز پر نشر کرنے سمیت متعدد ویب اسٹریمنگ چینلز اور سوشل میڈیا سائٹس پر نشر کیا جاتا ہے۔

ایلین ڈیجنرس شو کا شمار دن میں دیکھے جانے والے سب سے زیادہ شوز میں ہوتا ہے اور ان کے ریئلٹی کامیڈی شو کا اب 18واں سیزن چل رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایلین ڈیجنرس کے شو کے ملازمین کو جنسی ہراساں کیے جانے کا انکشاف

ان کے شو نے 171 ایمی ایوارڈز سمیت کئی ایوارڈز جیت رکھے ہیں اور ان کے شو میں کئی نامور شخصیات شامل ہوچکی ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق 62 سالہ ایلن ڈیجنرس نے شو کے 18ویں سیزن کے پریمیئر کے آغاز میں کہا کہ میں نے سیکھا ہے کہ جو چیزین یہاں ہوئیں وہ کبھی نہیں ہونی چاہیے تھیں۔

— فائل فوٹو: رائٹرز
— فائل فوٹو: رائٹرز

انہوں نے کہا کہ میں نے اسے بہت سنجیدگی سے لیا اور میں ان لوگوں سے معافی مانگتی ہوں جو متاثر ہوئے۔

ایلن ڈیجنرس نے مزید کہا کہ ہم نے ضروری تبدیلیاں کی ہیں اور آج ہم نئے سلسلے کا آغاز کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ مہینے بیک اسٹیج موجود موسائل کی وجہ سے شو کی جانب سے دیے جانے والے مہربانی اور خوشی پھیلانے کے عوامی پیغام کو مجروح کیا تھا۔

ایلن ڈیجنرس نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ ایک اچھی اداکارہ ہیں، انہوں نے کہا کہ میرا خیال نہیں کہ میں اتنی اچھی ہوں کہ میں 17 سال سے روز یہاں آتی ہوں اور آپ کو بیوقوف بناتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں وہ انسان ہوں جسے آپ ٹی وی پر دیکھتے ہیں، میں دیگر بہت سی چیزیں بھی ہوں، کبھی میں اداس ہوجاتی ہوں، کبھی پاگل ہو جاتی ہوں، میں بے چین ہوجاتی ہوں، مایوس ہوجاتا ہوں ، میں بے صبری ہوجاتی ہوں اور میں ان سب پر کام کر رہی ہوں۔

رواں ماہ ان کے شو کا 18 واں سیزن شروع ہوا جو ایک ایسے وقت میں شروع ہورہا جب دنیا میں کورونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور ساتھ ہی ان کے شو کے پروڈیوسرز پر مرد و خواتین ملازمین کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

ایلین ڈیجنرس شو کے ساتھ کام کرنے والے کم از کم 4 درجن سابق اور حالیہ ملازمین نے رواں برس جولائی میں شو کے اعلیٰ عہدیداروں پر استحصال کرنے، ناروا سلوک روا رکھے جانے سمیت جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: 'جنسی ہراسانی' کے الزامات کے باوجود ایلین ڈیجنرس شو نشر کرنے کی تصدیق

ایلین ڈیجنرس شو کے تمام ملازمین نے اپنی شناخت کو خفیہ رکھنے کی شرط پر بز فیڈ کو بتایا تھا کہ انہیں شو کے پروڈیوسرز اور ہدایت کار استحصال اور جنسی ہراسانی کا نشانہ بناتے رہے۔

الزام لگانے والے ملازمین میں مرد ملازمین بھی شامل تھے اور انہوں نے بھی مرد پروڈیوسرز اور ہدایت کاروں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے تھے۔

ایلین ڈیجنرس شو کے اعلیٰ عہدیداروں پر الزامات لگانے والے زیادہ تر ملازمین کے مطابق انہیں یقین ہے کہ استحصال اور ناروا سلوک سے متعلق ایلین ڈیجنرس کو کوئی علم نہیں ہوگا۔

ایلین ڈیجنرس شو کے ملازمین کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد شو کی پروڈکشن کمپنی وارنر برادرز نے اندرونی تفتیش کا اعلان کیا تھا۔

اور گزشتہ ماہ اگست میں وارنر برادرز کمپنی نے شو کے تین سینئر پروڈیوسرز کو الزامات ثابت ہونے پر برطرف بھی کردیا تھا۔

پروڈیوسرز کے برطرف کیے جانے کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ ممکنہ طور پر ایلین ڈیجنرس شو کو غیر معینہ مدت تک آن ایئر کرنے سے روک دیا جائے گا، تاہم اب شو کو نشر کرنے کی تصدیق کی گئی تھی۔

— فائل فوٹو:اے ایف پی
— فائل فوٹو:اے ایف پی