خالد احمد نے ہارلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کرلیا

23 ستمبر 2020

ای میل

خالد احمد کے یہ انہیں ملنے والاپہلا ایوارڈ ہے —فوٹو: ہوم لو لائف اسٹائل ڈاٹ کام
خالد احمد کے یہ انہیں ملنے والاپہلا ایوارڈ ہے —فوٹو: ہوم لو لائف اسٹائل ڈاٹ کام

پاکستان کی سینئر اداکارہ، ہدایت کارہ و پروڈیوسر سکینہ سموں کی فیچر فلم 'انتظار' میں کردار ادا کرنے والے خالد احمد نے ہارلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کرلیا۔

سکینہ سموں نے فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں اپنے مداحوں اور فالوورز کے ساتھ اس خوشی کو شیئر کیا۔

انہوں نے لکھا کہ خالد احمد صاحب نے نیویارک میں ہونے والے ہارلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں انتظار فلم بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کرلیا۔

سکینہ سموں نے اداکار خالد احمد کو اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور لکھا کہ یہ کسی بھی پاکستانی اداکار کو دیا جانے والا پہلا بین الاقوامی ایوارڈ ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ اگر میں غلط ہوں تو تصحیح کردیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

فلم ’انتظار‘ کو امریکا میں ہونے والے ’ہارلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ میں پیش کیا گیا تھا جو رواں ماہ 10 سے 13 ستمبر کے درمیان امریکی ریاست نیویارک میں 15 ویں ’ہارلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ کا انعقاد ہوا تھا جس میں دنیا کے 25 ممالک کی 94 فلمیں پیش کی گئیں۔

’ہارلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ کا انعقاد رواں برس مئی میں ہونا تھا مگر کورونا کی وبا کے باعث اسے ستمبر میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

فیسٹیول میں مجموعی طور پر 94 فلمیں اور ویب سیریز سمیت میوزک ویڈیوز پیش کی گئیں، جن میں سے 47 فیچر فلمیں ہیں اور ان میں پاکستانی فلم ’انتظار‘ بھی شامل تھی۔

’انتظار‘ اداکارہ سکینہ سموں کی بطور ہدایت کار و پروڈیوسر پہلی فلم ہے، جس کے پہلے ٹیزر کو رواں برس فروری جب کہ دوسرے کو جولائی میں جاری کیا گیا تھا۔

فلم کے پہلے ٹیزر کے ساتھ ہی فلم کو مارچ میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر کورونا کی وبا کے باعث فلم کو ریلیز نہیں کیا جا سکا۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کے باعث مارچ سے سینما ہالز بند ہیں اور تاحال سینما ہاؤسز کو نہیں کھولا جا سکا، اگرچہ حکومت نے سینماؤں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولنے کی اجازت دے رکھی ہے، تاہم تاحال انہیں نہیں کھولا جا سکا۔

اداکارہ سکینہ سموں نے اپنی ٹوئٹ میں فلم ’انتظار‘ کا پوسٹر شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی فلم کو امریکا میں ہونے والے ہارلم فلم فسیٹیول میں پیش کیا جائے گا۔

ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے خالد احمد نے اس کامیابی سے متعلق پرجوش ہونے کا اعتراف کیا اور پاکستان کے بجائے ییرون ملک پذیرائی سے متعلق بات بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ میں بہت زیاہ خوش ہوں اور یہ خاص طور پر حوصلہ افزا بھی ہے کیونکہ یہ مجھے ملنے والا پہلا ایوارڈ ہے۔

خالد احمد کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان میں ایک بھی ایوارڈ نہیں ملا اس لیے ایک بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کرنا بہت اچھا احساس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سکینہ سموں کی بہترین اسکرپٹ تھی اور پرڈوکشن کے لحاظ سے عام فلم تھی لیکن یہ فلم پرت در پرت معنی رکھتی ہے اور انسانی زندگی پر ایک نظر ڈالتی ہے۔

خالد احمد کا کہنا تھا کہ یہ فلم نوجوان اور بوڑھے، بوڑھے اور بوڑھے اور نوجوان اور نوجوان کے درمیان رابطے سے متعلق ہے، یہ فلم عمر اور بڑھاپے کے بارے میں ہے۔

’انتظار‘ کی کہانی خاندان کی مجبوریوں کے گرد گھومتی ہے، جس میں بوڑھے والدین مرنے کی عمر کو اپنے بچوں کا انتظار کرتے اور موت کے خوف سے زندگی گزارتے ہیں۔

فلم میں رشتوں کی اہمیت اور نئی نسل کی جانب سے عمر رسیدہ افراد اور خصوصی طور پر والدین کو بھلانے اور والدین کی جانب سے بچوں کا انتطار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

فلم کی کاسٹ میں ثمینہ احمد، کیف غزنوی، عدنان جعفر، رضا علی عابد اور خالد احمد شامل ہیں جب کہ اس کی کہانی "ڈر سی جاتی ہے سلہ' جیسے ڈرامے لکھنے والی لکھاری بی گل نے لکھی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ فلم کو ہارلم فلم فیسٹیول میں پیش کیے جانے کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ریلیز کیا جائے گا۔